پولیو ورکر کی کمائی کا حکم

    polio worker ki kamai ka hukm

    تاریخ: 12 جون، 2026
    مشاہدات: 51
    حوالہ: 1439

    سوال

    میں ایک پولیو ورکر ہوں ۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ میری تنخواہ حق حلال کی ہے یا نہیں؟ کچھ لوگ کہتے ہماری تنخواہ کو انگریزوں کا ڈونیشن کہتے ہیں۔

    سائلہ: گل افشاں


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پولیو ورکر کی کمائی جائز ہے یا نہیں ؟اس بات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ پولیو کے قطرے پلوانا جائز ہیں یا نہیں ؟بعض علماء اسکو جائز قرار دیتے ہیں اور بعض ناجائز ۔اور در حقیقت اس مسئلہ کا تعلق علم طب سے ہے، اور بعض علماء اسکو ناجائز قرار دیتے ہیں ۔درحقیقت یہ مسئلہ علم طب سے تعلق رکھتا ہے ۔لہذا اگر طبی ماہرین پولیو کی افادیت یا ضرورت پر متفق ہوجائیں تو شرعی ماہرین پولیو مہم کو جائز اور مباح کہہ سکیں گے، اگر معاملہ برعکس ہو تو علماء شریعت کا فتویٰ بھی یقینا برعکس ہوگا۔ فی الوقت آپ کے لیے حکم شرع یہ ہے کہ آپ چاہیں تو ان علماء کے قول پر عمل کریں جو پولیو کے قطرے پلوانے کا جائز کہتے ہیں ،اس صورت میں آپکے لیے پولیو ورکر کا کام کرنا جائز اور حلال ہوگا ۔اور چاہیں تو ان علماء کے قول پر عمل کریں جو پولیو کے قطرے پلوانا جائز قرار نہیں دیتے اور اس صورت میں آپکے لیے پولیو ورکر کا کام کرنا ،ناجائز ہوگا ۔

    یہاں یہ بات بھی ملحوظ رکھی جائے کہ اگر عورت حجاب شرعی کے بغیر یہ کام انجام دے تو ان تمام وجوہات سے قطع نظر یہ از خود ناجائز ہوگا کیونکہ عورت کا شرعی پردہ کے بغیر باہر جانا جائز نہیں ہےاور یہ بحکم قرآن و حدیث ہے ۔ قال اللہ تعالیٰ :وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹکی رہو، پہلے دورِ جاہلیت کی طرح غیروں کے سامنے اظہار زینت مت کرو۔(الأحزاب: 33)

    یہ حکم اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کیلیے ہے لیکن تمام مومنوں کی بیویاں بھی اس حکم میں ان کے ماتحت ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو مخاطب اس لیے کیا ہے کہ ان کی شان اور قدر و منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے بہت بلند ہے اور تمام امہات المؤمنین دیگر مومنوں کی بیویوں کیلیے نمونہ ہیں۔

    چناچہ ترمذی شریف میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «المَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ» :ترجمہ: آپ ﷺنے فرمایا،خاتون چھپانے کی چیز ہے، جب خاتون گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اسکا پیچھا کرتا ہے۔( ترمذی حدیث نمبر 1173)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 صفر المظفر 1440 ھ/20اکتوبر 2018 ء