ojri khana ka sharai hukum
سوال
1:۔ اوجڑی کھانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
2:۔ حدیث قدسی اور حدیث نبوی میں فرق کیا ہے انکی تعریف بتادیں۔
سائل : بلال لاڑ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:۔ حدیث پاک میں حلال جانور کے سات اعضاء کو حرام بتایا گیا ہے ،
" عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا: الدَّمَ وَالْمَرَارَ وَالذَّكَرَ وَالْأُنْثَيَيْنِ وَالْحَيَا وَالْغُدَّةَ وَالْمَثَانَةَ " ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ذبیحہ جانور کے سات اجزاء کو مکروہ فرماتے تھے سات یہ ہیں: مرارہ (پتہ) مثانہ، حیاء (شرمگاہ) ذکر، خصیے، غدود اور خون۔( السنن الکبریٰ للنسائی حدیث نمبر 19700)
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ اما الدم فحرام بالنص واکرہ الباقیۃ لانہا مما تستخبثہ الانفس قال اﷲ تعالٰی ویحرم علیہم الخبٰئث
ترجمہ:امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ بہرحال خون تو وہ حرام ہے قرآنی نص سے ثابت ہے اور باقی کو میں مکروہ تحریمہ سمجھتاہوں کیونکہ ان سے نفوس(طبیعتیں) نفرت کرتے ہیں اور جبکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ویحرم علیہم الخبائث ۔( حاشیۃ الطحطا وی علی الدرالمختار مسائل شتی جلد 4 ص 360 دارالمعرفۃ بیروت )
عالمگیری میں ہے:اما بیان مایحرم اکلہ من اجزاء الحیوان سبعۃ الدم المسفوح والذکر و الانثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ :ترجمہ: لیکن یہ بیان کہ حیوان کے اجزاء میں سے جن کا کھانا حرام ہے وہ سات ہیں: بہنے والا خون، ذکر، خصیے، شرمگاہ ، غدود، مثانہ اور پتہ (عالمگیری کتاب الذبائح الباب الثالث فی المتفرقات جلد 5 ص 259 قدیمی کتب خانہ)
رہی بات اوجھڑی کی ، تو قول مفتی بہ، صحیح و معتمد کے مطابق اوجھڑی کھانا مکروہ تحریمی ہے، چونکہ اوجھڑی محل نجاست ہوتی ہے اس مقام میں جانور کی نجاست جمع ہوتی ہے لہذا خون کے علاوہ دیگر اجزاء کی کراہت کے سلسلےمیں امام اعظم ابو حنیفہ کی بیان کردہ علت (لانہا مما تستخبثہ الانفس کیونکہ ان سے نفوس(طبیعتیں) نفرت کرتے ہیں)کے مطابق اوجھڑی کھانا بھی مکروہ تحریمی ہوگا ،یعنی جس طرح امام صاحب نے خون کے علاوہ دیگر اجزاء کے مکروہ ہونے کا مدار اس بات کو بنایا کہ طبائع سلیمہ ان چیزوں کے کھانے کو برا جانتی ہیں ایسے ہی اوجھڑی کو کھانا بھی برا جانتی ہیں اور یہی حکم آنتوں کا بھی ہے۔
سیدی اعلیٰ حضرت اپنے فتاویٰ میں رقمطراز ہیں
اب فقیر متوکلا علی اللہ تعالٰی کوئی محل شک نہیں جانتا کہ دُبر یعنی پاخانے کا مقام، کرش یعنی اوجھڑی ،امعاء یعنی آنتیں بھی اس حکم کراہت میں داخل ہیں،(فتاویٰ رضویہ کتاب الذبائح جلد 20 ص 238 رضا فاونڈیشن )
واللہ تعالیٰ اعلم الصواب
2:۔ حدیث قدسی اور حدیث نبوی میں فرق یہ ہے کہ حدیث نبوی سے مراد وہ حدیث ہے جو قول رسول ﷺ،فعل رسولﷺ تائید رسول ﷺ کی حکایت کرے۔جبکہ حدیث قدسی سے مراد ہے ایسی حدیث جس میں نبی کریم ﷺ اپنے قول کی نسبت خدا کیطرف کریں لیکن یہ قول قرآن مجید میں وارد نہ ہوا ہو۔
بالفاظ دیگر حدیث قدسی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نازل شدہ الفاظ ہوتے ہیں جو معجزے کی غرض سے نازل نہیں کئے جاتے۔
جبکہ حدیث نبوی میں الفاظ معین نہیں ہوتے بلکہ آپ ﷺ اللہ کیطرف سے نازل کردہ حکم کو اپنے الفاظ میں بیان فرمادیتے ہیں۔
یہاں سے حدیث قدسی اور قرآن کا فرق بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ قرآن میں نازل شدہ الفاظ معین ہونے کیساتھ ساتھ غرض اعجاز بھی رکھتے ہیں،جبکہ حدیث قدسی میں نازل شدہ الفاظ غرض اعجاز نہیں رکھتے یعنی معجزے کی غرض سے نازل نہیں کئے جاتے۔ ایک فرق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حدیث قدسی اور قرآن میں فرق یہ ہے کہ قرآن متلو(جس کی تلاوت کی جاتی ہو ) ہے ، جبکہ حدیث قدسی غیر متلو(جس کی تلاوت نہ کی جاتی ہو) ہے ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24ذوالحجہ 1439 ھ/04ستمبر 2018 ء