Mera Ghar Mera Aashiyana Scheme ka Shari Hukm
سوال
میں حکومتِ پاکستان کی ’’میرا گھر میرا آشیانہ ‘‘ہاؤسنگ اسکیم کے تحت گھر حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، جس کیلئے مختلف بینکس شریعہ کمپلائنٹ (Islamic)فنانسنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔براہِ کرم درج ذیل نکات کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں:
1. کیا اس اسکیم کے تحت کسی اسلامی بینک سے گھر کی فنانسنگ حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟
2. جو فنانسنگ ماڈل (مثلاً Diminishing Musharakah وغیرہ) استعمال کیا جاتا ہے، کیا وہ واقعی سود سے پاک ہوتا ہے؟
3. اگر مارک اپ/پرافٹ ریٹ فکس یا فلوٹنگ ہو تو کیا اس میں کوئی شرعی قباحت ہے؟
4. اگر بینک کی طرف سے تکافل (اسلامی انشورنس) لازمی قرار دیا جائے تو کیا اس میں شرکت جائز ہے؟
5. تاخیر سے قسط ادا کرنے کی صورت میں اگر کوئی چارجز لگائے جائیں تو ان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟
6. اگر کوئی اسلامی بینک اور روایتی (conventional)بینک دونوں اس اسکیم کو آفر کریں تو کن بنیادوں پر صحیح انتخاب کیا جائے؟
7. کیا اس اسکیم کے تحت گھر لینا مکمل طور پر جائز ہے یا اس میں کسی خاص شرط یا احتیاط کی ضرورت ہے؟
میری درخواست ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح اور تفصیلی رہنمائی فراہم فرمائیں تاکہ میں کسی بھی قسم کی شرعی غلطی سے بچتے ہوئے درست فیصلہ کر سکوں۔جزاکم اللہ خیراً
سائل: غفران وسیم۔بمعرفت میلاد رضا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وضاحتی نوٹ: ہم میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم کے پروموٹر نہیں ہیں، ہم صرف شرعی حکم واضح کرتے ہیں۔ نہ ہی ہم اس اسکیم کے شریعہ بورڈ میں شامل ہیں۔ ہمارا مقصد محض سائلین کی شرعی رہنمائی کرنا ہے۔
واضح رہے کہ بعض بینک اور مالیاتی ادارے اس اسکیم کے تحت صریح سودی قرضہ فراہم کرتے ہیں، جس کا شرعی حکم بالکل واضح ہے کہ ایسے اداروں سے سودی قرض کا لین دین کرنا قطعی طور پر ناجائز اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، اور حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں سود لینے، دینے اور اس پر گواہ بننے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔
البتہ دیگر بعض بینک کا شرعی حکم مندرجہ ذیل ہے:
(۱) حکومتِ پاکستان کی ’’میرا گھر میرا آشیانہ‘‘ اسکیم کے تحت کسی بھی مستند اسلامی بینک سے گھر کی فنانسنگ حاصل کرنا شرعی طور پر مکمل جائز ہے۔ کیونکہ اسلامی بینک اس مقصد کیلئے شرکتِ متناقصہ (Diminishing Musharakah)کا ماڈل اختیار کرتے ہیں، جو کہ خالصتاً ایک شرعی عقد ہے۔ اس میں بینک اور صارف مل کر مکان خریدتے ہیں جس سے وہ اس اثاثے میں مشترکہ مالک بن جاتے ہیں۔ یہ عمل سودی قرض نہیں بلکہ شراکت داری پر مبنی ہے، جس کے ذریعے صارف بتدریج بینک کا حصہ خرید کر مکمل ملکیت حاصل کر لیتا ہے۔
(۲) شرکتِ متناقصہ کا ماڈل سود سے پاک ہے، کیونکہ یہ قرض کا سودا نہیں بلکہ ملکیت کی شرکت کا معاملہ ہے۔ اس ماڈل میں بینک صارف کو اپنی رقم ادھار نہیں دیتا بلکہ ایک اثاثے میں شریک ہوتا ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنا حصہ صارف کو فروخت کرتا رہتا ہے، جو کہ بیع (خرید و فروخت) کی ایک جائز صورت ہے۔
(۳) اسلامی فنانسنگ میں روایتی مارک اپ یا سودی پرافٹ ریٹ نہیں ہوتا، بلکہ جو رقم صارف سے لی جاتی ہے وہ اصل میں گھر کی قیمت (ثمن) ہوتی ہے جو قسط وار ادا کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ بینک اپنے مملوکہ حصے کے عوض صارف سے کرایہ (اجارہ) وصول کرتا ہے، کیونکہ بینک اس حصے کا مالک ہوتا ہے اور اپنی ملکیت کا کرایہ لینا شرعی طور پر جائز ہے۔ شریعت کی رو سے حلال و حرام کا مدار عقل پر نہیں بلکہ حکمِ شرع پر ہے؛ جیسے تجارت اور سود بظاہر نفع کے حصول میں یکساں نظر آتے ہیں مگر اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔
(۴) اسلامی بینک کی طرف سے تکافل کی لازمی شرط میں شرکت کرنا جائز ہے۔کیونکہ روایتی انشورنس یا بیمہ پالیسی سود، قمار (جوا) اور غرر (دھوکہ) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، کیونکہ اس میں غیر یقینی صورتحال پر رقم کا سودا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس تکافل ایک جائز شرعی متبادل ہے جس کی بنیاد وقف فنڈ اور باہمی تعاون (تبرع) پر ہے۔ اس میں شرکاء کی جمع کردہ رقم ان کی ملکیت سے نکل کر وقف فنڈ میں چلی جاتی ہے، جو حادثے کی صورت میں شرعی اصولوں کے تحت مدد فراہم کرتا ہے۔
(۵) اسلامی بینکوں میں قسط کی تاخیر پر وصول کیے جانے والے چارجز مالی جرمانہ نہیں ہوتے، کیونکہ مالی جرمانہ وصول کرنا اور اسے آمدنی بنانا حرام ہے۔ اس کے بجائے اسلامی بینک صارف سے چیریٹی کلاز کے تحت ایک نذر (منت) لیتا ہے کہ اگر ادائیگی میں تاخیر ہوئی تو وہ مخصوص رقم صدقہ کرے گا۔ یہ صدقہ بینک کے کھاتے میں نہیں جاتا بلکہ فلاحی اداروں کو دیا جاتا ہے، تاکہ صارف سستی اور لاپرواہی سے بچے اور مالی حقوق کی حفاظت ہو سکے۔
(۶) اگر ایک ہی اسکیم اسلامی اور روایتی (سودی) دونوں بینک آفر کر رہے ہوں، تو انتخاب کی بنیاد شرعی عقود ہونی چاہیے۔ اگر روایتی بینک بھی وہی شرعی طریقہ کار اور عقود اختیار کرے جو اسلامی بینک کرتا ہے، تو وہاں سے سہولت لینا جائز ہو سکتا ہے ، جیسے ڈیبٹ کارڈ کی سہولت۔ تاہم، اسلامی بینکوں میں باقاعدہ شریعہ بورڈ، شریعہ کمپلائنس اور آڈٹ کے شعبے موجود ہوتے ہیں جو ہر معاملے کی شرعی نگرانی کرتے ہیں، اس لیے اسلامی بینک کا انتخاب زیادہ محفوظ اور قابلِ اطمینان ہے۔
(۷) اس اسکیم کے تحت گھر لینا (اگر واقعی شرعی عقود پر مبنی ہوں تو ) مکمل طور پر جائز ہے اور اس میں کسی خاص اضافی شرط کی ضرورت نہیں۔ اسلامی بینکوں کے منافع مضاربت اور مشارکت جیسے شرعی عقود سے حاصل ہوتے ہیں، اس لیے محض شکوک و شبہات کی بنیاد پر اسے ناجائز نہیں کہنا چاہیے۔ مسلمانوں کیلئے حکم ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے حسنِ ظن رکھیں، اور جب بینک کا مستند شریعہ بورڈ کسی معاملے کے حلال ہونے کی تصدیق کر دے، تو اس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے جب تک کہ اس کے خلاف کوئی واضح غیر شرعی ثبوت موجود نہ ہو۔
اشکال: بعض حضرات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلامی بینکوں کی شرکتِ متناقصہ (Diminishing Musharakah)اسکیم دراصل ایک ہی معاہدے میں کئی عقود (بیع، شرکت اور اجارہ) کا مجموعہ ہے، جو کہ حدیثِ مبارکہ میں مذکور "صفقتین فی صفقہ" (ایک سودے میں دو سودے) کی ممانعت کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک عقد کو دوسرے کیلئے شرط قرار دیا گیا ہے، یعنی کرایہ داری اور خرید و فروخت کا معاملہ ایک ساتھ جڑا ہوا ہے، جو اسے سودی قرض کا محض ایک متبادل بناتا ہے اور شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔
جواب: اسلامی بینکوں میں عقود کا اجتماع اور عقود کا مشروط ہونادو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اس حوالے سے درج ذیل نکات قابلِ غور ہیں:
(۱) اسلامی بینکوں میں رائج شرکتِ متناقصہ کوئی ایک واحد عقد نہیں ،جس میں سب کچھ خلط ملط ہو، بلکہ یہ مختلف مستقل عقود کا ایک مجموعہ ہے جو ترتیب وار انجام پاتے ہیں۔پہلا مرحلہ: شرکت کا عقد ہوتا ہے جس سے بینک اور کلائنٹ مشترکہ مالک بنتے ہیں۔دوسرا مرحلہ: اجارہ (کرایہ داری) کا مستقل معاہدہ ہوتا ہے جس میں بینک اپنے حصے کا کرایہ وصول کرتا ہے۔تیسرا مرحلہ: بیع (خرید و فروخت) کا وعدہ اور پھر یونٹس کی فروخت کا مستقل عمل ہوتا ہے۔
(۲) ممانعت اس وقت ہوتی ہے جب ایک ہی تحریر یا ایک ہی ایجاب و قبول میں دو متضاد عقود کو اس طرح جمع کیا جائے کہ ان کی حدود واضح نہ رہیں۔ اسلامی بینکوں میں ہر مرحلے کی ڈاکومنٹیشن مکمل طور پر الگ ہوتی ہے۔ شرکت کا فارم الگ ہے، کرایہ داری کا معاہدہ الگ ہے اور یونٹس کی خریداری کی رسیدیں الگ ہوتی ہیں۔ شرعاً یہ عقد واحد نہیں بلکہ مجموعہ عقود ہے جو کہ جائز ہے۔
(۳) حدیث میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک بیع کو دوسری بیع کیلئے اس طرح شرط بنایا جائے کہ معاملہ اٹک جائے۔ اسلامی بینکوں میں عقد کو شرط نہیں بنایا جاتا بلکہ وعدہ لیا جاتا ہے۔ مثلاً کلائنٹ بینک سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ بینک کے حصے خریدے گا۔ شرعی اصولوں کے مطابق خرید و فروخت کا وعدہ کرنا اور پھر اس وعدے کو پورا کرتے ہوئے الگ سے عقدِ بیع کرنا شرعاً درست ہے اور اسے " صفقتین فی صفقہ " نہیں کہا جائے گا۔
(۴) یہی وہ باریک فنی نکات ہیں جن کی نگرانی بینک کا شریعہ بورڈ کرتا ہے۔ شریعہ بورڈ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بھی عقد دوسرے عقد پر اس طرح منحصر نہ ہو کہ شرعی سقم پیدا ہو۔کرایہ صرف اسی وقت شروع ہو جب اثاثہ (گھر) قبضے میں آ جائے اور استعمال کے قابل ہو۔اثاثے کی ہلاکت کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری دونوں شراکت داروں پر ان کی ملکیت کے تناسب سے ہو۔ اگر یہ سودی قرض ہوتا تو بینک کبھی نقصان برداشت نہ کرتا، جبکہ یہاں بینک اپنے حصے کے نقصان کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ اسلامی بینکوں میں شرکتِ متناقصہ کا معاملہ سودی قرض کا متبادل نہیں بلکہ ایک مکمل شرعی ڈھانچہ ہے جہاں ہر عقد اپنی جگہ مستقل، جداگانہ ڈاکومنٹیشن کا حامل اور شریعہ بورڈ کے منظور شدہ ضوابط کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے ناجائز کہنا درست نہیں، کیونکہ یہاں عقود کا باہمی ربط شرطِ فاسد کی قبیل سے نہیں بلکہ انتظامی ترتیب کے قبیل سے ہے۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:25 شوال المکرم 1447ھ/14 اپریل 2026ء