بیوی کو معلق کرکے رکھنےکا حکم
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 663

    سوال

    میرے شوہر سے ایک عرصہ سے میرے معالات ڈسٹرپ چل رہے ہیں ، ہمارے دو بچے ہیں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ۔ گزشتہ چھ سالوں سے میں نوکری کرکےاپنے بچے پال رہی ہوں۔اس عرصہ میں انہوں نے مجھے ایک روپیہ تک نہیں دیا۔اس سے پہلے کئی بار جھگڑوں کے بعد انکے وعدوں کی بنیاد پر میں انکے ساتھ واپس آگئی مگر اس بار میں نے عہد کیا واپس نہ جانے کا ۔ جھگڑوں کی اصل وجہ ساس ہے ۔ میرے شوہر اچھے کھاتے پیتے اور دبئی میں نوکری کرتے ہیں انکی اچھی خاصی انکم ہے۔ ان حالات میں ، میں اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں۔ میں نے کورٹ سے خلع لی جس پر ان کے دستخط نہیں تھے مگر انہیں کورٹ کے نوٹس ضرور ملے تھے۔ پھر مجھے پتہ چلا کہ ایسی خلع میں کوئی شرعی مسئلہ ہے ۔

    ابھی کچھ عرصہ قبل وہ آئے تھے اور کہنے لگے میں پچھلے تمام سالوں کا خرچہ آپکو دوں گا۔ آپکی ہر شرط منظور ہے ۔بس آپ واپس چل لیں۔ میں نے کہا ایسے نہیں اس بار اسٹامپ پیپر پر آپ سے شرائط اور اخراجات لکھواؤں گی اسکے بعد۔ خیر اس مسئلے میں ہم نے مفتی صاحب سے رابطہ کیا پھر انہوں نے شوہر کا نمبر مانگا اور ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے مفتی صاحب سے بھی یہی کہا کہ میں گھر بسانا چاہتا ہوں بس ایک بار واپس آجائے۔ اسکی سب شرائط ماننے کے لئے تیار ہوں۔ اسکے بعد جب میں نے اپنی شرائط سامنے رکھیں اور مفتی صاحب کے ذریعے اس تک پہنچائی تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا حتٰی کہ اس معاملے کو پانچ ماہ گزر گئے ۔ نہ انہوں نے مفتی صاحب کو کوئی جواب دیااور نہ ہی مجھے۔اس دوران مفتی صاحب ہم دونوں سے مکمل رابطے میں تھے۔

    اس صورتِ حال میں ، میں درمیان میں لٹکی ہوئی ہوں ، نہ وہ مجھے قانونی طور پر کوئی طلاق دے رہا ہے نہ شرعی، کیونکہ عدالت صرف خلع دیتی ہے نکاح فسخ نہیں کرتی۔ اور نہ ہی میرا اور بچوں کا خرچہ کوئی دے رہا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی طبیعت کے مسائل الگ ہیں۔ کیا ایسی صورت میں مجبور ہی زندگی گزاروں یا شریعت کوئی راہ دیتی ہے کیونکہ میں اپنے والدین کے گھر ہمیشہ کے لئے نہیں رہ سکتی۔ میرے بھائی کی شادی ہوگی تو اسکے بعد لامحالہ مجھے اپنا انتظام کرنا ہوگا۔ اور ابھی بھی والدین کے حالات ایسے نہیں کہ میرا اور بچوں کا خرچہ اٹھا سکیں۔

    سائلہ: زوبیہ رحمان: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ بعض اوقات شوہر موجود ہوتا ہے اور مالی اعتبار سے خوش حال بھی ہوتا ہے مگر معمولی معمولی باتوں یا گھریلو جھگڑوں کی بنیاد پر یہ سزا دیتا ہے کہ بیوی کو نان و نفقہ اور دیگر حقوقِ زوجیت سے محروم کردیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی ساتھ رکھتا (جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے ) ہمارے معاشرے میں ایسی عورتیں اولاً تو عدالتوں میں خلع کے لئے رجوع کرتی ہیں مگر جب انہیں معلوم ہوتا کہ کہ وہاں خلع کے شرعی تقاضے پورے نہیں کئے جارہے تو مجبوراً دارالافتاء کا سہارا لیتی ہیں کہ اسے اس مصیبت سے رہائی کی کوئی تدبیر بتائی جائے۔

    ایسے شوہر یقیناً بے رحم ، سفاک اور ظالم ہوتے ہیں جو ایک عورت کی زندگی سے گھناؤنا کھلواڑ کرتے ہیں ، ایسی عورتوں کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ تو عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس نکاح کو فسخ کردے اگر عدالت نکاح ختم نہ کرے تو حرجِ عظیم اور ضررِ شدید کے ازالہ کے لئے شہر کا سب سے بڑا مفتی (اعلم علماء بلد) اس نکاح کو فسخ کردے۔ اور عدت کے بعد عورت کہیں اور جہاں چاہے نکاح کرلے۔

    چناچہ مجلس شرعی کے فیصلوں میں ہے: شوہر غربت و افلاس کا شکار نہیں مگر پھر بھی عورت کو نفقہ سے محروم رکھتا ہے ، اسکی چار صورتیں ہیں:

    3: شوہر غائب کو مگر غیبتِ منقطعہ نہ ہو یعنی معلوم ہے کہ شوہر فلاں جگہ رہتا ہے مگر آتا نہیں ، اور نہ ہی کسی طرح اس سے نفقہ حاصل ہوپارہا ہے۔

    4: شوہر موجود ہے مگر اس نے بیوی کو معلقہ بنایا ہوا ہے نہ طلاق دے کر اسے آزاد کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق (نان و نفقہ وغیرہ) ادا کرتا ہے۔

    ظاہر ہے ان صورتوں میں عورت جہاں نان و نفقہ سے محروم ہے وہیں حقوقِ زوجیت سے بھی محروم ہے جس کے باعث اس زمانہ میں اکثر یا کثیرعورتوں کے مبتلائے گناہ ہونے کا عظیم خطرہ درپیش ہے یہ خود ایک سخت ضرر اور حرج ہے۔ اسکے حل کی بتدریج تین صورتیں ہیں :

    1: شوہر کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے اور اس میں کچھ بھی ڈھیل نہ رکھی جائے ۔ اس تعزیر کے ذریعے سوائے سرکش و بے توفیق شوہر کے ہر وہ انسان اصلاح پذیر ہوسکتا ہے جس کا ضمیر کچھ بھی زندہ ہواور اس میں تھوڑی بہت بھی دینی و اسلامی حمیت وغیرت ہو۔

    2: لیکن اگر وہ سخت دل اور مردہ ضمیر و نے توفیق ہی نکلا اور سرکشی سے باز نہ آیا تو عورت کو صبر و شکر اور راضی برضائے الٰہی رہنے نیز روزے رکھنے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ہدایت کی جائے۔

    3: لیکن اگر عورت اس کے باوجود عدمِ صبر کی شکایت کرے اور اسکی عمر ، حالت اور عادت اس کی شاہد ہو تو اب ضرورتِ شرعی متحقق ہو چکی ، اس مرحلے پر قاضی کو فسخِ نکاح کی اجازت ہے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236)

    اسی میں ایک مقام پر ہے:مذہب حنفی میں نفقہ سے محرومی کی وجہ سے اسکا نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہذا بغیر شوہر کی موت یا طلاق کےمیاں بیوی کے درمیان تفریق نہیں ہو سکتی۔ فقیہ بے مثال اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کا فتوٰی بھی یہی ہے چناچہ آپ ایک فتوٰی میں رقمطراز ہیں: بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت (شوہر کے غائب ہونے) خواہ عسرت (شوہر کے مفلس و تنگ دست ہونے )کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔

    مگر اس کے بر خلاف ہمارے بعد کے اکابر علماء اہلِ سنت رحمھم اللہ تعالٰی نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ نفقہ سے عجز کی دونوں صورتوں میں

    فسخِ نکاح و تفریق کی اجازت ہے کلمات یہ ہیں :دوسری صورت : شوہر نان و نفقہ دینے پر قادر ہے مگر غائب ( غیبوبتِ منقطعہ ہو یا نہ ہو) ہونے کی وجہ سے نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے اور عورت شوہر کے مال سے نان و نفقہ وغیرہ حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں رکھتی ہے ایسی صورت میں اگر عورت قاضی سے تفریق کا مطالبہ کرے تو بعد ثبوتِ صحتِ دعوٰی قاضی زن و شو کے درمیان تفریق کردے۔ اور عورت بعد عدت کے جہاں چاہے نکاح کرے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236، ملخصا و ملتقطا)

    مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں۔1:شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہو (ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔

    اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔

    چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے :آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں:جہاں قاضیِ شرع نہ ہو وہاں جو عالمِ دین سچا تمام اہلِ شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکمِ شرعی ہے:کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ۔ترجمہ: جیسا کہ اس پر فتاوٰی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 505، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 ذوالقعدہ 1443 ھ/15 جون 2022 ء