حلالہ کی غرض سے نکاح کرنے کا حکم
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 32
    حوالہ: 668

    سوال

    میں نے اپنی بیوی کو گھریلو معاملات کی وجہ سے تین طلاق دے دی جس کے بعد ہم ڈھائی سال سے الگ رہ رہے ہیں ۔میرے تین بچے ہیں دو بیٹے اور ایک بیٹی ۔ اب میں اور میری بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں اسکا کیا طریقہ ہوگا؟ کیا حلالہ کرنا صحیح ہے ؟ شریعت کے حساب سے کیا یہ بات درست ہے کہ کسی دوسرے شخص کو بتائیں کہ ہم حلالہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہمارہ وجہ سے حلالہ کردے۔ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: محمد دانش : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تین طلاقیں واقع ہونے کے بعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ، حلالہ کا مطلب ہےکہ جب کسی عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو وہ عورت اس مردپر ہمیشہ کےلئے حرام ہو جا تی ہے اس کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواجیت قائم کرنا چاہے تو اس کی ایک ہی صورت شریعت اسلامیہ نے رکھی ہے وہ یہ کہ یہ عورت پہلے شوہر کی طلا ق کی عدت گزارے، پھر بعد از عدت کسی اور مرد سے نکاح کرے،پھر حقوق زوجیت ادا کرے اسکے بعد وہ دوسرا شوہر اس کواپنی مرضی سے طلاق دیکر زوجیت سے خارج کرے پھر یہ عورت اس شوہرِ ثانی کی عدت گزارے، جس کے بعد زوج اول سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ۔

    حلالہ کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ :ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك :ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    حلالہ کے لئے نکاح کرناجائز ہے اگرچہ خاص حلالہ کی نیت ہوبلکہ بعض صورتوں میں محلل(حلالہ کرنے والے)کو اجر بھی ملتا ہے۔مثلا اگر کوئی شخص عقد میں حلالہ کی شرط کے بغیر اپنے دل میں یہ سوچ کر کہ اس کا گھر ویران ہوگیا ہے،بچوں کی پرورش کا مسئلہ ہے ، اس کا گھر آباد ہوجائے اور پریشانی دور ہوجائےاس نیت سے مطلقہٴ ِثلاثہ (جس عورت کو تین طلاق پڑ جائیں)سے نکاح کرلیتا ہے اورہمبستری کے بعد طلاق دیدیتا ہے ، تاکہ وہ عورت عدت گزارکر سابق شوہر سے نکاح کرلے تو اس صورت میں اس شخص پرکوئی گناہ نہیں ہے ،بلکہ اس حسن نیت پر اسے ثواب ملنے کی امید ہے ۔

    ہاں۔۔۔!عقدِ نکاح میں حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرناشرعا منع ہے۔یعنی بوقت نکاح اگر یہ الفاظ کہے کہ میں حلالہ کرنے کے لئے نکاح کررہا ہوں تو ایسا کرنا منع ہے ایسے شخص پر حدیث پاک میں لعنت فرمائی ہے۔حدیث مبارکہ ہے :أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ المحلِّلَ والمحلَّل له۔ترجمہ:بے شک نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے حلالہ کرنے اور کر وانے والے پر لعنت فرمائی۔(السنن الصغری للبیھقی،باب فی نکاح المحلل،رقم الحدیث:2495)

    امام اہل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے حلالہ کے ساتھ مشروط نکاح کے متعلق سوال کے جواب فرماتے ہیں :شرائط اور چیز ہے اور قصد اور چیز۔ شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے او رحدیث میں ایسے حلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے، اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔

    درمختار میں ہے : (کرہ) التزوج للثانی(تحریما) لحدیث لعن اﷲالمحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتک علی ان احللک (امااذا اضمرا ذٰلک لا) یکرہ (وکان) الرجل (ماجورا) لقصد الاصلاح: ترجمہ:حلالہ کی شرط پر نکاح کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہِ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں، اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ، جلد نمبر 12 ص 408 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    مفتی امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: نکاح بشرط التحلیل جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے ليے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت

    اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔(بہارِ شریعت، جلد دوم ،حصہ 8ص 180)

    نوٹ: یہ بات یاد رکھیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شریعت میں سخت گناہ ہے،قرآنِ پاک کےبتائےہوئےطریقےکےخلاف،بلکہ قرآن پاک کےساتھ ایک طرح کا کھیل اور مذاق ہے،جیساکہ ایک حدیث اس بات کی غمازی کرتی ہے أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟ترجمہ: رسول اللہﷺکوایک شخص کےمتعلق یہ اطلاع ملی کہ اس نےاپنی بیوی کوایک ساتھ تین طلاق دےدی ہیں،توآپ ﷺسخت غصہ کی حالت میں کھڑےہوگئےاورارشادفرمایا کہ:ابھی جب کہ میں تمہارےدرمیان موجودہوں،کیا کتاب اللہ سےکھیلاجائےگا؟ (یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقہٴ طلاق سے کھیل ہے)اس وقت ایک صحابی کھڑےہوگئے،اورعرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس آدمی کوقتل ہی نہ کردوں،جس نےیہ حرکت کی ہے؟(سنن نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعۃ ومافیھا حدیث نمبر،3401)

    لیکن اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی تو وہ باتفاق ائمہ اربعہ کے واقع ہوجائیگی۔

    طلاق دینے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔لیکن یاد رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاق دینے کی صورت عدت گزرنے کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ربیع الاول 1445ھ/ 16 اکتوبر 2023 ء