Meezan Bank mein investment karna kaisa
سوال
Salam,mery father retired hy or shadeed bemar hy ghar me bhi chlna phirna mushkil hy.bp high rhta hy.or legs kam ni krti. Retiremnt k paisy se unhony saving account khola h sbny kha k ye soudi nizam hy to wo paisy wapis nikal lye .ab koi monthly income nhi hy .beta koi nhi hy me unki ek beti ho meri shadi ho chuki hy. to kya wo mezan k mutual fund me invest krskty hy? k meri ami or unki monthy income ka sahara hojaye.ghr kkharch k lye
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قومی بچت بینک میں رقم جمع کروانا اور اس سے منافع حاصل کرنا ناجائز ہے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والا منافع سودی ہوتا ہے کہ وہ قرضہ پر متعین( fixed)منافع دیتے ہیں اور اس کی مقدار عقد (agreement)کے وقت بتا دیتے ہیں اور شریعت اسلامیہ میں قرضہ پر مشروط و معین نفع سود ہوتا ہے اور سود لینا شرعاًحرام قطعی ہے۔جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا"ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو نفع دے وہ سود ہے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من کرہ کل قرض جر منفعۃ، رقم :20690)
اور اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ یمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ۔ترجمہ:وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنادیاہویہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سُود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصیحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کا کام خدا کے سپرد ہےاور جو اب ایسی حرکت کرے گا وہ دوزخی ہے وہ اس میں مدتوں رہیں گےاللہ ہلاک کرتا ہے سُود کو اور بڑھاتاہے خیرات کو اور اللہ کو پسند نہیں آتا کوئی ناشکرا بڑا گنہگار۔ (البقرہ276،275)
ہاں ۔۔۔!آپ کسی غیر سودی بنک مثلامیزان بینک ،اسلامک بین وغیرہ میں مضاربہ یا مشارکہ کے طور پر رکھواسکتے ہیں ۔کیونکہ غیر سودی (اسلامی )بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو غیر سودی طریقے سے لوگوں سے معاملات (لین دین)کرتا ہےجس میں جس میں شرعی ایڈوائزر کی ایک کمیٹی ہوتی ہے جو معاملات کو دیکھتی ہے اور عام طور پر غیر شرعی معاملات کو رد کیا جاتا ہے لہذا معاصرعلماء کے نزدیک اسلامیک بینک سے معاملات کرنا جائز ہے،سو اگر آپ چاہیں تو کسی بھی اسلامی (غیر سودی)بینک میں مضاربہ یا مشارکہ کی بنیاد پر پیسے رکھواسکتت ہیں، یعنی بعض اوقات پیسے آپکے ہوتے ہیں اور کام بینک کرتا ہے اسکو مضاربہ کہتے ہیں ، اور نفع کا ریشو فیصد میں فکس کر لیتا ہے۔اوربعض اوقات بینک بھی پیسے لگاتا ہے اورآپ کے بھی پیسے ہوتے ہیں اور اور نفع کا ریشو فیصد میں فکس کر لیتا ہےیہ دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں ان میں شرعاََ کوئی حرج نہیں ہے ۔