kya janab ameer muawiya katib-e-wahi hai
سوال
کیا حضرت امیر معاویہ کاتبینِ وحی میں سے ہیں یا نہیں ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ کاتبِ وحی نہیں تھے اگر تھے تو اسکا حوالہ دو کونسی کتاب میں ہے؟۔ لہذا آپ سے گزارش ہے کہ حوالہ کے ساتھ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
سائل:محمد متین:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بلاشبہ جناب امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کاتبینِ وحی میں سے ہیں ، جو کہ بہت اعلٰی مقام ہے احادیث مبارکہ میں اسکا واضح ثبوت موجود ہے۔
چناچہ صحیح مسلم میں ہے:عن ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ، فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا نَبِيَّ اللهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ، أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ، تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْكُفَّارَ، كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ»۔ ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نےحدیث بیان کی،کہا:مسلمان نہ حضرت ابوسفیان (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سےبات کرتےتھےنہ انکےساتھ بیٹھتےاٹھتےتھے۔اس پرانھوں نےنبی کریم ﷺسےعرض کی:اللہ کےنبیﷺ!آپ مجھےتین چیزیں عطافرمادیجیے ۔آپ نےجواب دیا:ہاں بتاؤ کونسی؟انہوں نے کہامیری بیٹی ام حبیبہ عرب کی سب سےزیادہ حسین وجمیل خاتون ہےمیں اسےآپکی زوجیت میں دیتاہوں۔آپ نےفر مایا:ہاں۔پھرکہا دوسری یہ کہ معاویہ(میرابیٹا)آپ اسےاپنےپاس حاضررہنے والاکاتب بنادیجیے آپﷺنےفرمایا:ہاں۔پھرکہا تیسری یہ کہ آپ مجھےکسی دستے کاامیرمقررفرمائیں تاکہ جسطرح میں مسلمانوں کےخلاف لڑتاتھااسی طرح کافروں کےخلا ف بھی جنگ کروں۔آپ نےفرمایا:ہاں۔(صحیح مسلم ،باب من فضائل ابی سیفیان حدیث نمبر 2501)
اسی طرح المعجم الکبیر للطبرانی میں حدیث پاک موجو دہے: عن عبد الله بن عَمرو؛ أن معاويةَ كان يكتبُ بين يدَي النبيِّ صلى الله عليه وسلم.ترجمہ: حضرت عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ جناب معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کتابتِ وحی کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔( المعجم الکبیر للطبرانی، جلد 13 ص 554 حدیث نمبر 14446)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 جمادی الاول1441 ھ/04 جنوری 2020ء