فلیٹ و دکانوں کو وقف کرنا کہ کرایہ اور رہائش تا حیات لیتی رہے

    Flat Wa Dukanon Ko Waqf Karna Keh Kiraya Aur Rehaish Ta Hayat Leti Rahe

    تاریخ: 27 جولائی، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1665

    سوال

    میرے پاس 1 فلیٹ اور 2 دکانیں ( جو کہ میری ملکیت ہیں ) میرے والدین، شوہر اور 2 بڑے بھائیوں کا انتقال ہو چکا ہے ، اور میری اپنی کوئی اولاد بھی نہیں ہے ، البتہ صرف ایک بھائی کی اولاد موجود ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ میری ملکیت میں موجود یہ 1 فلیٹ اور 2 دکانیں (جو کہ میمن ایجو کیشن ویلفئیر سوسائٹی کے تحت الاٹ ہیں) اہلسنت کے کسی ادارے کی ملک کردوں۔مگر معاملہ اس طرح ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ جب تک میں حیات ہوں اس میں رہائش رکھوں اور جو کرایہ دار ہیں وہ بھی اپنی جگہ رہیں تا کہ اس کرایہ سے میرا گزر بسر چلتا ر ہے۔ میرے انتقال کے بعد وہ ادارہ اس فلیٹ اور ان دکانوں کو بیچ کر اس کی رقم سے مسجد قائم کرے جسکا نام میرے نام پر ہو۔مزید یہ کہ جس بلڈنگ میں یہ فلیٹ اور دکانیں ہیں وہاں مسجد تعمیر نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے دونوں جانب مساجد ہیں، اور وہ پلاٹ میمن ایجو کیشن ویلفئیر کا ہے اور ان کی پالیسی کے مطابق بھی اس پلاٹ پر مسجد تعمیر نہیں ہو سکتی۔مزید یہ کہ اس میں اس پر بھی راضی ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی میمن ویلفئیر ایجو کیشن سوسائٹی کا الا ئٹمینٹ لیٹر اس ادارے کے نام کر دوں۔میری آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کا شرعی حل تجویز فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ آپ ایک فلیٹ اور دو دکانوں کے الاٹمنٹ لیٹر کسی معتبر سنی ادارے کو دے دیں، اور اس میں اس طرح تحریر کریں کہ:’’میں یہ ایک فلیٹ اور دو دکانیں اپنی ذات پر وقف کرتی ہوں، اس شرط کے ساتھ کہ جب تک میں حیات ہوں، اس فلیٹ میں رہائش کا حق اور دکانوں سے حاصل ہونے والا کرایہ (آمدنی) میری ذات کے لیے ہوگا۔ میرے انتقال کے بعد ان جائیدادوں کو فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم مسجدکی تعمیر کے لیے وقف ہے ، اور اس مسجد کا نام میرے نام پر رکھا جائے۔‘‘لہٰذا جب تک آپ حیات ہوں گی، اس فلیٹ میں رہائش اختیار کر سکتی ہیں اور دکانوں کا کرایہ بھی وصول کر سکتی ہیں۔

    دلائل و جزئیات :

    امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالٰی کے نزدیک اپنی ذات پر وقف کرنا جائز ہےعلامہ برہان الدین مرغینانی (متوفی 593 ھ) فرماتے ہیں:’’ وَإِذَا جَعَلَ الْوَاقِفُ غَلَّةَ الْوَقْفِ لِنَفْسِهِ أَوْ جَعَلَ الْوِلَايَةَ إِلَيْهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ‘‘. ترجمہ: اور جب واقف وقف کی آمدنی اپنے لیے خاص کر لے یا اس کی نگرانی (تولیت) اپنے سپرد رکھے، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جائز ہے۔( الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الوقف، ج: 3، ص:17، دار الکتب العلمية)

    امام ابو یوسف( رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ )کا قول مفتی بہ ہے علامہ ابن عابدین الشامی( رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )علامہ علاؤ الدین حصکفی (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ) کے قول 'و علیه الفتوی ” کےتحت لکھتے ہیں :’’ كَذَا قَالَهُ الصَّدْرُ الشَّهِيدُ وَهُوَ مُخْتَارُ أَصْحَابُ الْمُتُونِ وَرَجَّحَهُ فِي الْفَتْحِ وَاخْتَارَ مَشَايِخُ بَلْخٍ وَفِي الْبَنْجَرِ عَنْ الْحَاوِي أَنَّهُ الْمُخْتَارُ لِلْفَتْوَى تَرْغِيبًا لِلنَّاسِ فِي الْوَقْفِ وَتَكْثِيرًا لِلْخَيْر‘‘.ترجمہ : اسی طرح صدر الشہید رحمہ اللہ نے فرمایا، اور یہی اصحابِ متون کا مختار قول ہے۔ نیز فتح القدیر میں اسی کو ترجیح دی گئی ہے، اور مشائخِ بلخ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور البحر میں حاوی کے حوالے سے مذکور ہے کہ لوگوں کو وقف کی ترغیب دینے اور خیر کو زیادہ کرنے کے پیشِ نظر، فتویٰ کے لیے بھی یہی قول مختار ہے ۔ (رد المحتار،کتاب الوقف،مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ،ج:4،ص:385،دار الفکر بیروت)

    مسجد کی تعیین ہی تابید پر دلالت کرتی اس میںذکر کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کسی کا بھی اختلاف نہیں ۔

    اپنی ذات پر وقف صحیح ہے جبکہ آخری جہت ایسی ہونی چاہیےجو تابید پر دلالت کرے امام محمد رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک اس کا ذکر ضروری ہے لیکن امام ابو یو سف ر حمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ذکر ضروری نہیں جیسا کہ علامہ ابن عابدین الشامی ر حمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :’’ وَالصَّحِيحُ أَنَّ التَّأْبِيدَ شَرْطٌ اتِّفَاقًا لَكِنَّ ذِكْرَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ لَا بُدَّ أَنْ يَنُصَّ عَلَيْهِ اهـ وَصَحَّحَهُ فِي الْهِدَايَةِ أَيْضًا‘‘. ترجمہ :صحیح مذہب یہ ہےکہ تابید شرط اتفاقی ہے لیکن اس کا ذکر کرنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شرط نہیں اور امام محمد ر حمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس پر نص ضروری ہے اس کی تصحیح ہدایہ میں بھی ہے ۔(رد المحتار ،کتاب الوقف ،ج:6،ص:535،مکتبہ رحمانیہ )

    استبدال وقف کی شرط لگانا یا اسے بیچ کر ان پیسوں سے کوئی دوسری چیز لینا صحیح ہے اس بارے درمختار میں ہے :’’ (وَ) جَازَ (شَرْطُ الِاسْتِبْدَالِ بِهِ) أَرْضًا أُخْرَى حِينَئِذٍ (أَوْ) شَرْطُ (بَيْعِهِ وَيَشْتَرِي بِثَمَنِهِ أَرْضًا أُخْرَى إذَا شَاءَ فَإِذَا فَعَلَ صَارَتْ الثَّانِيَةُ كَالْأُولَى فِي شَرَائِطِهَا وَإِنْ لَمْ يَذْكُرْهَا ثُمَّ لَا يَسْتَبْدِلُهَا) بِثَالِثَةٍ لِأَنَّهُ حُكْمٌ ثَبَتَ بِالشَّرْطِ وَالشَّرْطُ وُجِدَ فِي الْأُولَى لَا الثَّانِيَةِ‘‘.ترجمہ : اور وقف کرنے والے کے لیے یہ شرط کرنا بھی جائز ہے کہ اس موقوفہ زمین کے بدلے دوسری زمین لے لی جائے، یا یہ شرط کرے کہ جب چاہے اس موقوفہ زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری زمین خرید لے۔ پھر جب وہ ایسا کرے گا تو دوسری زمین بھی پہلی زمین ہی کی طرح اسی کے تمام شرائط و احکام میں شمار ہوگی، اگرچہ ان شرائط کو دوبارہ ذکر نہ کرے۔پھر اس دوسری زمین کو تیسری زمین سے تبدیل نہیں کیا جا سکے گا، کیونکہ یہ حکم شرط کی وجہ سے ثابت ہوا تھا، اور وہ شرط پہلی زمین میں پائی گئی تھی، دوسری میں نہیں۔(رد المحتار،کتاب الوقف،مطلب للمفروغ له الرجوع بمال الفراغ،ج:4،ص:384،385،دار الفکر بیروت)

    والّٰله تعالى اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 ذو القعدہ 1447 ھ/8 مئی 2026ء