haiz ke ayyam muqarrar na hon to namaz aur roze ka hukm
سوال
میرا حیض پہلے 6 دن باقاعدہ آتا تھا، لیکن تقریباً ڈھائی/تین سال سے میری کوئی مستقل عادت نہیں رہی۔ کبھی 7، کبھی 8 اور کبھی 9 دن آیا، اور مجھے یاد نہیں کہ کبھی پورے 10 دن آیا تھا یا نہیں۔ اب تقریباً 6 ماہ سے خون/سرخی 10 دن سے زیادہ جاری رہتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر پہلے 6 دن صحیح حیض کا خون آئے، پھر 7ویں دن سے صرف لیکوریا کا رنگ سرخ ہو جائے یا لیکوریا میں تھوڑا سرخ خون ملا ہوا نظر آئے اور یہ کیفیت 10 دن سے بھی زیادہ جاری رہے، تو کیا 7ویں دن سے آنے والی یہ سرخی بھی 10 دن تک حیض شمار ہوگی؟ چونکہ مجھے اپنی سابقہ عادت بھی واضح طور پر یاد نہیں، تو کیا مجھے 10 دن پورے ہونے تک انتظار کرنا ہوگا یا 6 دن کے بعد غسل کرکے نماز شروع کرنی ہوگی؟ براہِ کرم میری اس مخصوص صورت میں غسل، نماز اور روزے کا واضح حکم بتا دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
سائلہ:بنت آدم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ پہلے 6 دن حیض کا خون آتا تھا، پھر تقریباً ڈھائی/تین سال تک کوئی مقررہ عادت نہیں رہی، کبھی 7، کبھی 8 اور کبھی 9 دن خون آتا رہا۔ اب گزشتہ چھ ماہ سے خون دس دن سے زیادہ جاری رہتا ہے۔ تو ایسی صورتِ حال میں نماز اور روزے کے اعتبار سے کم مدت، یعنی 6 دن، حیض شمار کیے جائیں گے۔ ان میں نماز نہیں پڑھی جائے گی اور روزے بھی نہیں رکھے جائیں گے، بعد میں نمازوں کی قضا بھی نہیں، لیکن روزوں کی قضا ہے۔ چونکہ 7،8،9دن بھی حیض کا خون آیا تو یہ شک والے ہیں، ان 6 دنوں کے پورا ہونے کے بعد ساتویں دن غسل کرکے نماز پڑھے اور روزے رکھیں ۔ مسلسل خون جاری رہنے کی وجہ سے ہر فرض نماز کے داخل ہونے پر وضو کریں، مستحاضہ کی طرح۔ نویں دن کے مکمل ہونے کے بعد دوبارہ غسل کریں، اور ساتویں، آٹھویں اور نویں دن اگر رمضان المبارک کے فرض روزے رکھے ہیں تو ان کی قضا بھی کریں۔سوال فقط غسل، نماز اور روزے کے متعلق پوچھا تھا، اس بارے رہنمائی کردی گئی ہے۔ مزید برآں، عدت گزارنے اور شوہر کے پاس رہنے کے متعلق حکم یہ ہے کہ زیادہ مدت، یعنی نو دن، حیض شمار کیے جائیں گے؛ لہٰذاان نو دنوں میں شوہر سے قربت کرنا جائز نہ ہوگا۔
دلائل و جزئیات:
عورت کی عادتِ حیض مقررنہ ہواس بارے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی لکھتے ہیں: قلت أرأيت إن كانت حاضت قبل ذلك سنين فكانت تحيض خمسة أيام مرة وسبعة أيام مرة أخرى فكان حيضها يختلف ثم استحاضت كم تدع الصلاة قال أقل ما كانت تقعد خمسة أيام وتغتسل وتصلي قلت فإن كان زوجها قد طلقها فحاضت الحيضة الثالثة ومضت خمسة أيام قال لا يملك زوجها رجعتها قلت فهل لها أن تتزوج ساعتئذ قال ليس لها أن تتزوج حتى يمضي سبعة أيام فإن تزوجت لم يجز النكاح آخذ لها في الصلاة بالثقة فتصلي وهي حائض أحب إلي من أن تدع الصلاة وهي طاهرة وآخذ في التزويج أيضا بالثقة فلا تتزوج حتى يمضي أكثر أيامها۔ترجمہ : میں نے عرض کیا: آپ مجھے بتائیں کہ اگر ایسی عورت کو اس سے پہلے کئی سال تک حیض آتا رہا ہو، کبھی پانچ دن حیض آتا ہو اور کبھی سات دن، یعنی اس کا حیض مختلف مدت کا ہوتا رہا ہو، پھر اسے استحاضہ شروع ہوجائے تو وہ کتنے دن نماز چھوڑے گی؟انہوں نے فرمایا: جتنے دن سب سے کم بیٹھی ، اتنے دن یعنی پانچ دن نماز چھوڑے گی، پھر غسل کرکے نماز پڑھے گی۔میں نے عرض کیا: اگر اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی ہو، پھر اسے تیسرا حیض آیا اور پانچ دن گزر گئے تو کیا شوہر کے لیے رجوع کا حق باقی رہے گا؟فرمایا: نہیں، اس کا شوہر اس سے رجوع کرنے کامالک نہیں ۔میں نے عرض کیا: کیا عورت کے لیے اس وقت نکاح کرنا جائز ہے ؟فرمایا: ، اسے نکاح کرنے کی اجازت نہیں جب تک سات دن نہ گزر جائیں ۔اگر وہ اس سے پہلے نکاح کرلے تو وہ نکاح جائز نہیں ہوگا۔ نماز کے معاملے میں میں احتیاط کو اختیار کرتے ہوئے ؛ پس عورت حیض کی حالت میں نماز پڑھے یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ عورت پاک ہو اور نماز چھوڑے ۔ اسی طرح نکاح کے معاملے میں بھی میں احتیاط کو اختیار کرتے ہوئے ، لہٰذا جب تک اس کے حیض کے زیادہ سے زیادہ ایام نہ گزر جائیں، وہ نکاح نہ کرے۔(الاصل لمحمد بن الحسن ،ج:1،ص:338،)
اسی طرح شمس لائمہ السرخسی لکھتے ہیں :(قَالَ) وَإِنْ كَانَ حَيْضُهَا مُخْتَلِفًا مَرَّةً تَحِيضُ خَمْسَةً وَمَرَّةً سَبْعَةً فَاسْتُحِيضَتْ فَإِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ خَمْسَةً بِيَقِينٍ ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِتَوَهُّمِ خُرُوجِهَا مِنْ الْحَيْضِ وَتُصَلِّي يَوْمَيْنِ بِالْوُضُوءِ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِتَوَهُّمِ خُرُوجِهَا مِنْ الْحَيْضِ وَلَيْسَ لِزَوْجِهَا أَنْ يَقْرَبَهَا فِي هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ احْتِيَاطًا لِجَوَازِ أَنَّهَا حَائِضٌ فِيهِمَا وَلَوْ كَانَ هَذَا آخِرَ عِدَّتِهَا لَمْ يَكُنْ لِلزَّوْجِ أَنْ يُرَاجِعَهَا فِي هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ احْتِيَاطًا‘‘ترجمہ : مصنف نے فرمایا: اگر عورت کا حیض مختلف مدت کا ہو، کبھی پانچ دن حیض آئے اور کبھی سات دن، پھر اسے استحاضہ شروع ہوجائے، تو وہ یقینی طور پر پانچ دن نماز چھوڑے گی پھر غسل کرے گی حیض سے نکل جانے کے احتمال کی وجہ سے۔ اور دو دن ہر نماز کے وقت وضو کرکے نماز پڑھے گی دوبارہ غسل کرے گی حیض سے نکل جانے کے احتمال کی وجہ سے ۔ان دو دنوں میں احتیاطاً کی بنا پہ اس کے شوہر کے لیے اس سے قربت کرنا جائز نہیں ہوگا، کیونکہ احتمال ہے کہ ان دونوں دنوں میں بھی وہ حیض کی حالت میں ہو۔ اور اگر یہ اس کی عدت کے آخری دن ہوتے، تو احتیاطاً ان دونوں دنوں میں شوہر کے لیے اس سے رجوع کرنا بھی جائز نہ ہوتا۔ (المبسوط للسرخسی ،کتاب الصلوة ، باب صلاة المستحاضة،ج:2،ص:17)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں : جس کی ایک عادت مقرر نہ ہو بلکہ کبھی مثلاً چھ دن حَیض کے ہوں اور کبھی سات، اب جو خون آیا تو بند ہوتا ہی نہیں، تو اس کے لیے نماز، روزے کے حق میں کم مدت یعنی چھ دن حَیض کے قرار دیے جائیں گے اور ساتویں روز نہا کر نماز پڑھے اور روزہ رکھے مگر سات دن پورے ہونے کے بعد پھر نہانے کا حکم ہے اور ساتویں دن جو فرض روزہ رکھا ہے اس کی قضا کرے اور عدت گزرنے یا شوہر کے پاس رہنے کے بارے میں زِیادہ مدت یعنی سات دن حَیض کے مانے جائیں گے یعنی ساتویں دن اس سے قربت جائز نہیں۔ (بہار شریعت ،ج:1،حصہ :دوم ،ص:376)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب