دوران ملازمت وقفے اور فارغ وقت میں ذاتی کاروبار کا شرعی حکم

    doran-e-mulazmat waqfe aur farigh waqt mein zaati karobar ka sharai hukm

    تاریخ: 22 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1894

    سوال

    (۱) اگر ملازم ڈیوٹی کی جگہ پر موجود رہتے ہوئے، وقفے کے دوران فون وغیرہ کے ذریعے اپنا کوئی ذاتی کاروبار، پرائیویٹ تجارت یا دیگر معاملات طے کرے، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

    (۲) کمپنی کے ملازمین جب آؤٹ آف سٹی ورک کے لیے جاتے ہیں، وہاں جانے پر الاؤنس ملتا ہے اور وہاں کے کام مکمل کرتا ہے تو باقی وقت میں ملازم فون وغیرہ پر اپنا کوئی پرائیویٹ تجارتی کام یا ذاتی معاملات طے کرے، تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

    سائل: محمد راشد مدنی صادق آبادی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) اجیرِ خاص یعنی مقررہ اوقات کے پابند ملازم کے لیے ادارے کی طرف سے دیے گئے وقفے میں، اپنے ذاتی فون سے کوئی جائز ذاتی کاروبار یا دیگر ذاتی معاملات طے کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ وقفہ ملازم کے اپنے استعمال کے لیے ہو اور ادارے کے قواعد میں اس دوران ایسے کاموں کی ممانعت نہ ہو، کمپنی کا فون، انٹرنیٹ یا کوئی اور وسیلہ بلا اجازت استعمال نہ کیا جائے، ادارے کی امانت اور مفاد متاثر نہ ہو، اور وقفہ ختم ہوتے ہی ڈیوٹی پر حاضر ہو جائے۔ البتہ وقفے کے علاوہ ڈیوٹی کے اوقات میں ذاتی کاروبار میں مشغول ہونا جائز نہیں، اگرچہ اس وقت ادارے کا کوئی کام موجود نہ ہو اور فون بھی اپنا ہو۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ مقررہ اوقات کے لیے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا ملازم شرعاً اجیرِ خاص ہے، جس پر عقد اس کے مقررہ وقت کے منافع پر ہوتا ہے، اسی لیے وہ ان اوقات میں اپنے آپ کو کام کے لیے پیش کر دینے سے اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے اگرچہ کام نہ ہو، اور ڈیوٹی کے اوقات میں اس کا ذاتی کام کرنا ادارے کا حق فوت کرنا ہے، خواہ فون اپنا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اپنا فون ہونے سے آلے کا مسئلہ حل ہوتا ہے، وقت کا نہیں۔ البتہ اجارہ کی مدت کا ہر لمحہ لازماً مستأجر کا حق نہیں ہوتا، بلکہ جو وقت عرف کی بنا پر عقد سے مستثنیٰ ہو وہ ایسا ہی ہے جیسے شرط لگا کر مستثنیٰ کیا گیا ہو، جیسا کہ فقہائے کرام نے رات کے آرام کے وقت اور جمعہ کے دن کو عرف کی بنا پر اجارہ سے خارج قرار دیا ہے۔ اسی اصول پر ادارے کی طرف سے ملازم کے اپنے استعمال کے لیے دیا گیا وقفہ اس کا اپنا وقت ہے، جس میں جائز ذاتی امور طے کرنے سے ادارے کا کوئی حق فوت نہیں ہوتا اور محض دفتر میں موجود ہونا اس سے مانع نہیں۔ لیکن اگر وقفہ کسی خاص ضرورت کے لیے مخصوص ہو یا ادارے نے اس میں بعض کاموں سے منع کر رکھا ہو تو اسی حد کی پابندی لازم ہوگی، کیونکہ عرف کا اعتبار وہاں ہے جہاں صریح شرط نہ ہو، اور کمپنی کے وسائل کا بلا اجازت ذاتی استعمال امانت میں خیانت ہے۔

    (۲) آؤٹ آف سٹی ڈیوٹی میں حکم معاہدے کی نوعیت پر موقوف ہے: اگر ادارے کا مطالبہ صرف ایک متعین کام کا ہو، اور وہ کام اپنے متعلقہ امور سمیت مکمل ہو جائے اور ادارے کی طرف سے کوئی اور ذمہ داری یا اوقاتِ کار کی پابندی باقی نہ رہے، تو اس کے بعد کا وقت ملازم کا اپنا ہے اور اس میں جائز ذاتی امور طے کرنا جائز ہے۔ اور اگر ملازم وہاں بھی مقررہ اوقاتِ کار کا پابند ہو، جیسا کہ ماہانہ تنخواہ دار ملازمین عموماً ہوتے ہیں، تو کام جلد مکمل ہو جانے کے باوجود ان اوقات میں مجاز افسر کی اجازت کے بغیر ذاتی کاروبار جائز نہیں؛ البتہ مقررہ اوقات ختم ہونے کے بعد ذاتی امور طے کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کمپنی کے وسائل بلا اجازت استعمال نہ ہوں اور آئندہ ڈیوٹی متاثر نہ ہو۔ محض آؤٹ آف سٹی الاؤنس ملنے سے ملازم کا پورا وقت ادارے کا حق نہیں بن جاتا، ہاں اگر معاہدے میں اس کے ساتھ اضافی ڈیوٹی یا رابطے پر دستیاب رہنے کی شرط ہو تو اس کی پابندی لازم ہوگی۔

    وجہ یہ ہے کہ انسان کو اجرت پر رکھنا مدت بیان کر کے بھی ہوتا ہے اور کام متعین کر کے بھی، لہٰذا ذمہ داری کی حد معاہدے سے طے ہوگی۔ اگر تعلق صرف ایک متعین کام تک محدود ہو اور وہ اپنے لوازم مثلاً رپورٹ وغیرہ سمیت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد ادارے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ لیکن ماہانہ ملازم کو کوئی کام سونپ دینے سے اس کا مدت والا عقد صرف اس کام تک محدود نہیں ہو جاتا، کیونکہ اجیرِ خاص کے عقد میں مدت کے ساتھ کام کی نوعیت بیان کرنا تو ضروری ہی ہوتا ہے، لہٰذا وہ سفر میں بھی مقررہ اوقات کا پابند رہے گا۔ اور اوقاتِ کار کا تعین فریقین کے معاہدے سے، اور معاہدہ نہ ہو تو عرف سے ہوتا ہے، چنانچہ ان اوقات کے بعد کا وقت ملازم کا اپنا ہے اور محض دوسرے شہر میں ہونے سے رات کا وقت ڈیوٹی میں شامل نہیں ہو جاتا۔ رہا آؤٹ آف سٹی الاؤنس، تو اس کا حکم اس کی شرائط سے متعین ہوگا؛ اگر یہ سفر، رہائش اور کھانے کے اخراجات کی مد میں ہے تو اسے بلا دلیل چوبیس گھنٹے کی خدمت کا عوض قرار نہیں دیا جائے گا، اور اگر اس کے ساتھ اضافی ڈیوٹی یا دستیابی کی شرط ہے تو اس کی پابندی لازم ہے۔ نیز ذاتی کام کے لیے ہونے والا اضافی خرچ ادارے کی اجازت کے بغیر اس کے کھاتے میں ڈالنا جائز نہیں۔

    دلائل و جزئیات:

    اجیرِ خاص کی تعریف کے متعلق علامہ برہان الدین علی بن ابی بکر مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 593ھ) فرماتے ہیں: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم". ترجمہ: اور اجیرِ خاص وہ ہے جو مدت میں اپنے آپ کو سپرد کر دینے سے اجرت کا مستحق ہو جاتا ہے اگرچہ کام نہ کرے، جیسے وہ شخص جسے ایک مہینے کے لیے خدمت یا بکریاں چرانے پر اجرت پر رکھا گیا ہو۔ (الہدایۃ، کتاب الاجارات، باب ضمان الاجیر، 3/243، دار احیاء التراث العربی بیروت)

    عرف کی بنا پر وقت کے اجارہ سے مستثنیٰ ہونے کے متعلق علامہ برہان الدین محمود بن احمد ابن مازہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 616ھ) فرماتے ہیں: "إلا أن ما بعد العشاء الآخرة إلى السحر صار مستثنى عن الإجارة عرفا، فإن العرف فيما بين الناس أنهم لا يستخدمون المماليك بعد العشاء الآخرة إلى السحر؛ لأنهم ينامون والمستثنى عرفا كالمستثنى شرطا". ترجمہ: مگر عشاء کے بعد سے سحری تک کا وقت عرف کی بنا پر اجارہ سے مستثنیٰ ہو گیا، کیونکہ لوگوں کا عرف یہ ہے کہ وہ عشاء کے بعد سے سحری تک غلاموں سے خدمت نہیں لیتے کہ وہ سوتے ہیں، اور جو عرف سے مستثنیٰ ہو وہ شرط سے مستثنیٰ کی طرح ہے۔ (المحیط البرہانی، کتاب الاجارات، الفصل الحادی عشر ، 7/454، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    مہینے کی ملازمت میں جمعہ کے عرفاً خارج ہونے کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے: "استأجر أجيرا شهرا ليعمل له كذا لا يدخل يوم الجمعة للعرف وابتداؤه من صلاة الفجر". ترجمہ: کسی نے ایک مہینے کے لیے فلاں کام پر اجیر رکھا تو عرف کی وجہ سے جمعہ کا دن اس میں داخل نہیں ہوگا، اور (کام کی) ابتدا نمازِ فجر سے ہوگی۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الاجارۃ، الباب الرابع، 4/417، دار الفکر بیروت)

    اوقاتِ کار میں عرف کے اعتبار کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے: "رجل استأجر أجيرا يوما ليعمل له، كذا قالوا إن كان العرف بينهم أنهم يعملون من طلوع الشمس إلى العصر فهو على ذلك، وإن كان العرف أنهم يعملون من طلوع الشمس إلى غروب الشمس فهو على ذلك". ترجمہ: کسی شخص نے اجیر کو ایک دن کے لیے فلاں کام پر رکھا، تو مشائخ نے فرمایا کہ اگر ان کے ہاں عرف یہ ہے کہ وہ طلوعِ آفتاب سے عصر تک کام کرتے ہیں تو اسی پر عمل ہوگا، اور اگر عرف طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک کام کرنے کا ہے تو اسی پر عمل ہوگا۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب الاجارۃ، الباب الثالث ، 4/416، دار الفکر بیروت)

    طے شدہ اوقات کے عرف پر مقدم ہونے کے متعلق درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: "ويتبع عرف البلدة فيما لو لم يعين العاقدان وقت ابتداء العمل مع انتهائه، أما إذا اتفق العاقدان على العمل في اليوم الفلاني من الظهر إلى العصر لزم العمل بموجب ذلك ولا يتبع في ذلك عرف البلدة وعادتها". ترجمہ: اگر فریقین نے کام کے آغاز اور اختتام کا وقت متعین نہ کیا ہو تو شہر کے عرف کی پیروی کی جائے گی، لیکن اگر فریقین فلاں دن ظہر سے عصر تک کام پر متفق ہو جائیں تو اسی کے مطابق کام لازم ہوگا اور اس میں شہر کے عرف وعادت کی پیروی نہیں کی جائے گی۔ (درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام، شرح المادۃ: 495، 1/570، دار الجیل بیروت)

    اجارہ کے مدت اور کام دونوں طرح ہونے کے متعلق مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: "تجوز إجارة الآدمي للخدمة أو لإجراء صنعة ببيان مدة أو بتعيين العمل بصورة أخرى". ترجمہ: انسان کو خدمت یا کسی ہنر کے کام کے لیے مدت بیان کر کے، یا کسی اور طریقے سے کام متعین کر کے اجرت پر رکھنا جائز ہے۔ (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، المادۃ: 562، ص 105، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی)

    کام سونپنے سے مدت والے عقد کے نہ بدلنے کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "فإن الإجارة على المدة لا تصح في الأجير الخاص ما لم يبين نوع العمل؛ بأن يقول: استأجرتك شهرا للخدمة أو للحصاد". ترجمہ: کیونکہ اجیرِ خاص میں مدت پر اجارہ اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک کام کی نوعیت بیان نہ کی جائے، اس طرح کہ کہے: میں نے تمہیں ایک مہینے کے لیے خدمت یا فصل کاٹنے کے لیے اجرت پر رکھا۔ (رد المحتار، کتاب الاجارۃ، مبحث الاجیر الخاص، 6/70، دار الفکر) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: ابو امیر خسروسید باسق رضا

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    30 ربیع الثانی 1448ھ/13 اکتوبر 2026ء کو جاری کیا گیا