chand mukhtalif sawalat ke jawab
سوال
(1) ستاروں کے ذریعے حساب کتاب بتانا اور اس پر یقین رکھنا شرک ہے یا نہیں؟
(2) میری ایک چھوٹی بہن جو کہ طلاق یافتہ ہے ، وہ والدہ کی دیکھ بھال کرتی ہے ، مگر حالات انتہائی تنگ رہتے ہیں ۔ کیا میں اسکو زکوۃ دے
سکتی ہوں یا نہیں ؟
(3) میں شادی سے پہلے ہر جمعہ کو والد کی قبر پر جاکر یاسین اور درود پڑھتی تھی ؟ کیا اب گھر میں رہ کر پڑھ کر انکو ایصال ثواب کرسکتی ہوں یا نہیں؟
(4) ہرجمعہ بعد نماز عشاء دو رکعت نفل پڑھنے سے جنت میں محل بنتا ہے ؟ اگر میں یہ نفل اپنے والد سمیت تمام امت محمدیہ کو بخش دوں تو کیا اللہ تعالٰی سب کو جنت میں محل دیں گے؟
(5) میرے والد صاحب نے میری بہن کی سرکاری ٹیچرکی نوکری کے لئے 40 ہزار رشوت دی تھی کیونکہ اس کے بغیر کام ہو ہی نہیں رہا تھا تو کیا اس جرم کی وجہ سے جو میرے والد نے مجبوراََ پیسے دیئے تھے اسکی وجہ سے انکو عذاب تو نہیں ہوگا ؟
سائل:نائلہ شاہین: ہری پور
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1) ستاروں کے ذریعے حساب کتاب بتانا اور ان پر یقین رکھنا ناجائز ، گناہ اورحرام کا م ہے،اگر یہ یقین رکھے کہ ستارے بذات خود اثر انداز ہوتے ہیں تو یہ خالصتا شرک ہے،ایسا عقیدہ کا حامل شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ شریعت اسلامیہ میں ان چیزوں کی کوئی اصل اور دلیل نہیں ہے اور یہ سب دھوکہ اور فراڈ ہے،قال اللہ تعالیٰ : قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ الْغَيْبَ اِلاَّ اﷲُ ط ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ خودغیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر اللہ۔(النمل: آیت 65)
یوں ہی احادیث مبارکہ میں کاہن یا نجومی کے پاس جانے کو شریعت محمدیہ کا منکر شمار کیا گیا ہے :سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ أَتَى كَاهِنًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ۔ ترجمہ: جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے تو اس نے اس شریعت کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ (سنن ابن ماجہ،باب النھی عن اتیان الحائض، حدیث نمبر 639)
اسی طرح بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث ہے : عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّی لَنَا رَسُولُ اﷲِ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَی إِثْرِ سَمَاءٍ کَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ قَالُوا: اﷲُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَکَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اﷲِ وَرَحْمَتِهِ فَذٰلِکَ مُؤْمِنٌ بِي کَافِرٌ بِالْکَوْکَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْئِ کَذَا وَکَذَا فَذٰلِکَ کَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْکَوْکَبِ ۔ ترجمہ: حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر بارش والی رات کو ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ جب نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ لوگ عرض گزار ہوئے کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا کہ میرے بندوں نے صبح کی تو مجھ پر ایمان رکھنے والے اور ستاروں کے منکر تھے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں ستارے نے بارش برسائی۔ وہ میرا منکر اور ستاروں پر یقین رکھنے والا ہے۔( بخاري،جلد1ص 351، حدیث نمبر 991 ، مسلم، جلد1ص 83،حدیث نمبر71)
تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:وَاعْلَمْ أَنَّ تَعَلُّمَ الْعِلْمِ يَكُونُ فَرْضَ عَيْنٍ وَهُوَ بِقَدْرِ مَا يَحْتَاجُ لِدِينِهِ. وَفَرْضَ كِفَايَةٍ، وَهُوَ مَا زَادَ عَلَيْهِ لِنَفْعِ غَيْرِهِ وَمَنْدُوبًا، وَهُوَ التَّبَحُّرُ فِي الْفِقْهِ وَعِلْمِ الْقَلْبِ. وَحَرَامًا، وَهُوَ عِلْمُ الْفَلْسَفَةِ وَالتَّنْجِيمِ وَالسِّحْرِ، وَالْكِهَانَةِ۔ ترجمہ:جان لیں کہ علم حاصل کرنا کبھی فرض عین ہوتا ہے ، یہ وہ علم ہے کہ زندگی گزارنے کے لئے انسان جسکا محتاج ہوتا ہے، اور کبھی فرض کفایہ ہوتا ہے یہ وہ علم ہے جو دوسروں کے نفع کے لئے ہو اور اسکی حاجت سے زائد ہو، اور کبھی مستحب ہوتا ہے جیسے علم فقہ میں مہارت حاصل کرنا، اور کبھی حرام ہوتا ہے جیسے فلسفہ، علم نجوم ،جادو،اور ستاروں کا علم ۔( تنویرالابصار مع الدر المختار،جلد 1 ص 45 تا 47)
(2)اگر آپ کی بہن فقیر شرعی ہیں تو آپ انکو زکوۃ دے سکتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ترجمہ کنز الایمان:زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔
جن کو زکوۃ دینا جائز ہے ان میں سے ایک فقیرشرعی بھی ہے ،اور فقیر شرعی یہ ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ مال ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کوپہنچ جائےیانِصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیَّہ(یعنی ضَروریاتِ زندَگی)میں مُسْتَغْرَق(گِھراہوا)ہو۔مثلا رہنے کامکان،خانہ داری کاسامان،سُواری ،کاریگروں کے اَوزار، پہننے کے کپڑے ،وغیرہ ،جیسا کہ الدرالمختار مع رد المحتار میں ہے:(فَقِيرٌ، وَهُوَ مَنْ لَهُ أَدْنَى شَيْءٍ) أَيْ دُونَ نِصَابٍ أَوْ قَدْرُ نِصَابٍ غَيْرِ نَامٍ مُسْتَغْرِقٍ فِي الْحَاجَةِترجمہ:فقیر وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو، یعنی جو نصاب سے کم ہو یا نصاب کی مقدار ہو لیکن مال نامی نہ ہو اور اسکی حاجت میں مستغرق ہو۔(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ،ج:2،ص:339،طبع:دارالفکر،بیروت)
(3) عورت کے لیے قبرستان جانا جائز نہیں ہے لہذا آپ کے لئے بہتر یہی ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے ہی ایصالِ ثواب کریں ۔احادیث مبارکہ میں قبرستان جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے،ترمذی میں ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ زَوَّارَاتِ القُبُورِ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قبرستان جانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہے۔(ترمذی،باب ماجاء فی کراہیۃ زیارۃ القبور،حدیث نمبر 1056)
(4)ایسی کوئی روایت یا حدیث ہمارے علم میں نہیں کہ جس میں ایسا ذکر ہو کہ ہرجمعہ بعد نماز عشاء دو رکعت نفل پڑھنے سے جنت میں محل بنتا ہے۔
(5)اگر رشوت دیئے بغیر چارہ نہ ہو تو اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے۔ لیکن لینے والوں کے لیے بہر صورت رشوت لینا سخت ناجائز اور حرام ہے۔الدر المختار مع حاشیہ ابن عابدين میں ہے: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط ۔ ترجمہ:کسی شخص سے اس لئے پیسے لینا کہ اسکا معاملہ بادشاہ تک پہنچادے تاکہ اس سے ضرر دور ہو یا نفع کا حصول ہو ایسا کرنا محض لینے والے پر حرام ہے۔(الدر المختار مع ردالمحتار ، مطلب فی الكلام على الرشوة والهديۃ ،جلد 5 ص 362)
اسی میں دوسرے مقام پر ہے: لو اضطر إلى دفع مرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض۔ ترجمہ: اگر کوئی اپنے حق کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو اس کے لئے رشوت دینے کی اجازت ہے ۔ لیکن لینے والے کے لئے لینا حرام ہے۔ (الدر المختار مع ردالمحتار ، مطلب فی بیع دودۃ القزمر ،جلد 5 ص 72)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 ذوالحج 1440 ھ/27 اگست 2019 ء