بزرگوں کے نام کا چراغ جلانا کیسا

    buzurgon ke naam ka chiragh jalana kaisa

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1425

    سوال

    کچھ لوگ شبِ جمعہ چراغ جلاکر اسکے سامنے دعا مانگتے ہیں، پھول ہار وغیرہ رکھتے ہیں۔اور اسکو غوث پاک کے چراغ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ایسا کرنا شرع شریف میں کیا حکم رکھتا ہے۔

    سائل:شیر محمد: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اس خاص طریقہ سے لوگوں کا چراغ جلانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فلاں بزرگ کا یہاں سے گزر ہوتا ہے یا اسکی سواری آتی ہے ۔ یہ محض بے اصل و بے بنیاد ہے یہ سواری کسی بزرگ کی نہیں بلکہ یہ شریر جنات ہوتے ہیں۔ اور ان جنات کا مقصود اپنے ارد گرد لوگوں کا مجمع لگانا ہوتا ہے جیساکہ بعض انسانوں کو ہمہ وقت اپنے ارد گردبھیڑ جمع کرنے میں لطف آتا ہے بعینہ ان جنات میں سے بعضے کوئی نیکی کا کام بتاکر لوگوں کی بھیڑ جمع کرتے ہیں۔

    شرعی اعتبار سے اس طرح چراغ جلانا اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے ۔قال اللہ تعالٰی: وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔ترجمہ کنز الایمان: اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔(الاعراف: 31)

    اسی طرح ارشاد فرمایا: وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا ۔ إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ۔ترجمہ کنزالایمان:اور فضول نہ اڑا،بےشک اڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں۔(بنی اسرائیل: 26، 27)

    امام اہل السنہ ، سیدی و سندی اعلٰی حضرت عظیم المرتبت ارشاد فرماتے ہیں : روشنی کا بے فائدہ اور فضول استعمال جیسا کہ بعض لوگ ختم قرآن والی رات یا بزرگوں کے عرسوں کے مواقع پر کرتے ہیں سیکڑوں چراغ عجیب وغریب وضع وترتیب کے ساتھ اوپر نیچے اور باہم برابر طریقوں سے رکھتے ہیں محل نظر ہے اور اسراف کے زمرے میں آتا ہے چنانچہ فقہائے کرام نے کتب فقہ مثلا غمز العیون وغیرہ میں اسراف (فضول خرچی) کی بنا پر ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں اسراف صادق آئے گا وہاں پرہیز ضروری ہے۔ اللہ تعالی پاک۔ برتر اور خوب جاننے والا ہے۔(فتاوٰی رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 23 ص 259رضا فاونڈیشن لاہور)

    ہاں اگر چند چراغ بطورِ تعظیم کسی بزرگ کے مزار پر عرس میں یا عام ایام میں جلائے جائیں تو اس میں حرج نہیں ۔

    امام رافعی ردالمحتار پر حاشیہ میں فرماتے ہیں: ایقاد القنادیل،الشمع عند قبورالاولیاء والصلحاء من باب التعظیم والاجلال ایضا للاولیاء فالمقصد فیھا مقصد حسن۔ترجمہ:اولیاء و صلحاء کی قبو پر چراغ یا بتی جلانا جبکہ تعظیم بزرگی کے طور پر ہو جائز ہے کیونکہ یہ اچھے مقصد کے لئے ہے۔(تقریرات الرافعی، حاشیہ علی ردالمحتار، کتاب الصلوۃ باب صلوۃ الجنازۃ ص 135، مکتبہ امدادیہ ملتان)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:18 صفر المظفر 1442 ھ/05 اکتوبر 2020 ء