بلوغت کی عمر کی مقدار

    bulughat ki umar ki miqdar

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1427

    سوال

    شرعی اعتبار سے مذکر کی بلوغت کی کیا عمر مقرر کی گئی ہے؟

    سائل:مظہر علی: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ہجری سن کے اعتبار سے لڑکا 12 سال مکمل ہونے پر بالغ ہوسکتا ہے، جس کی علامت یہ ہے کہ 12 سال کی عمر کے بعد اگر اسے انزال (بیداری میں منی کا خروج) ہوجائے یا احتلام ( سوتے میں منی کا خروج) ہوجائے یا اسکے جماع سے عورت حاملہ ہوجائے تو لڑکا اسی وقت بالغ ہوجائے گا اور اس پر احکامِ بلوغت لاگو ہوجائیں گے ۔ لیکن اگر 12 سال کے عمر کے بعد بھی مذکورہ علامات نہ پائی گئیں حتٰی کہ یہ پندرہ سال کا ہوگیا تو جس وقت اسکے پندرہ سال مکمل ہوئے اسی وقت سے بالغ سمجھا جائے گااور اس پر بلوغت کے احکام جاری ہوجائیں گے۔ یونہی پندرہ سال سے پہلے لڑکا یا لڑکی بلوغت کا اقرار کریں اور انکا اقرار ظاہر ِ حال کی منافی نہ ہو تو بھی انہیں بالغ سمجھا جائے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ لڑکے میں بلوغت کی کم از کم عمر 12 سال اور زیادہ سے زیادہ 15 سال ہے۔ 15 سال کے بعد ہر حال میں بالغ سمجھا جائے گا اگر چہ بلوغت کی کوئی علامت نہ پائی جائے۔

    تنویر الابصار میں ہے: بلوغ الغلام بالاحتلام والاحمال والانزال والجاریۃ بالاحتمال والحیض والحبل۔ فان لم یوجد فیہما حتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ۔ ولہا تسع سنین ۔ ترجمہ: لڑکے کا بالغ ہونا احتلام یابیوی کو حاملہ کرنےیا انزال سے معلوم ہوگا اور لڑکی کا بالغ ہونا حاملہ ہونے حیض اور احتلام سے ظاہر ہوگا، اگر دونوں میں کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق دونوں کی عمر پندرہ سال ہوجانے پر(بالغ ہونے کا حکم لگا دیا جائے گا۔)اورکم از کم مدت بلوغ لڑکے میں بارہ سال اور لڑکی کی نو سال کی عمر ہے۔ (تنویر الابصار مع الدرجلد6ص 153)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: لڑکا بارہ سال اورلڑکی نوبرس سے کم عمرتک ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے۔ اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمرمیں ضرور شرعا بالغ وبالغہ ہیں، اگر چہ آثار بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوں، ان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیں، یعنی خواہ لڑکی خواہ لڑکے سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو یالڑکی کو حیض آئے یا جماع سے لڑکا حاملہ کردے یا لڑکی کو حمل رہ جائے تو یقینا بالغ وبالغہ ہیں، اور اگر آثار نہ ہوں مگر وہ خود کہیں کہ ہم بالغ وبالغہ ہیں، اور ظاہر حال ان کے قول کی تکذیب نہ کرتاہو تو بھی بالغ وبالغہ سمجھے جائیں گے اور تمام احکام بلوغ کے نفاذ پائیں گے، اور داڑھی مونچھ نکلنا یا لڑکی کے پستان میں ابھار پیدا ہونا کچھ معتبر نہیں۔(فتاوٰی رضویہ ، جلد 19 ص 630 رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 صفر المظفر ا1444 ھ/6 ستمبر 2022 ء