بریرہ اور راوش نام رکھنا کیسا

    barira aur rawash naam rakhna kaisa

    تاریخ: 11 اگست، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1713

    سوال

    بریرہ فاطمہ اور راوش نا م رکھنا کیسا ہے؟بعض حضرات نے ان ناموں کو تبدیل کرنا کا مشورہ دیا ہے ،لہذا آپ شرعا رہنمائی فرمائیں۔

    سائل:شیخ اسماعیل قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اسلام میں اولاد کے لیے اچھا اور بامعنی نام رکھنا ایک اہم اور پسندیدہ عمل ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے ایسے نام اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے جو نیک لوگوں، صالحین اور دین کی عظیم شخصیات کی یاد تازہ کریں۔ اس سے نہ صرف اچھے کردار کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ ان نیک ہستیوں کی برکت اور ان کے اوصاف کا اثر بچے کی زندگی پر پڑے گا۔ اسی سلسلے میں "بریرہ" ایک مبارک اور عمدہ اسلامی نام ہے، "بریرہ" نام رکھنا جائز بلکہ مستحسن ہے، کیونکہ یہ ایک نیک اور صالح صحابیہ، حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کا نام ہے، جنہیں بعد میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آزاد فرمایا تھا۔

    راوش نام رکھنا:

    راوش نام رکھنا درست نہیں ،اس لئے بہتر یہ ہے کہ اس نام کی جگہ کوئی اچھا نام رکھا جائے ،کیونکہ اس کا معنی لغت کے اعتبار سے ہوگا "کم عقل رکھنے والا "لہذا نام کو تبدیل کرنا چاہئے۔

    دلائل وجزئیات:

    بریرہ رضی اللہ عنھا بروزن کریمہ صحابیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کی مولاۃ یعنی آزادکردہ لونڈی ہیں۔(تہذیب الاسماء واللغات،ج02،ص332،بیروت)(الثقات لابن حبان،ج03،ص38،ہند)

    حدیث پاک میں نیکوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے ۔اوراس سے امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے:”تسموا بخياركم واطلبوا حوائجكم عند حسان الوجوه“ ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرے والوں سے طلب کرو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث2328، دار الكتب العلمية ، بيروت)

    لغۃ میں بریرہ کا معنی ہے:والبَريرُ: ثمرُ الأراكِ، واحدتها بَريرَةٌ. والبُرُّ: جمع بُرَّةٍ من القمح ترجمہ:البَرير": اراک (مسواک کے درخت) کا پھل، اور اس کی واحد "بَريرَة" ہے۔البُرّ": گندم کے دانے (بُرَّة) کی جمع ہے۔( الصحاح في اللغة والعلوم،ص:263)

    لفظ راوش نکلا ہے روش سے اس بارے میں قاموس الوحید میں ہے کہ روش کامعنی:کم عقل ہے۔(قاموس الوحید)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:1447ھ/12 جون 2026ء