بچے کا نان و نفقہ کس کے ذمہ

    bachay ka naan o nafaqah kis ke zimma

    تاریخ: 5 نومبر، 2026
    مشاہدات: 61
    حوالہ: 1924

    سوال

    گزارش یہ ہے کہ میرا تعلق دھوراجی میمن جماعت سے ہے۔ میری شادی 2020ء میں ہوئی تھی، جو 2024ء میں ختم ہوگئی۔ ہمارا ایک بچہ ہے، لیکن میری سابقہ اہلیہ مجھے بچے سے ملنے نہیں دیتیں۔دھوراجی جماعت کی جانب سے مجھ سے رابطہ کیا گیا تھا کہ میں بچے کی کفالت کے لیے ماہانہ کچھ رقم ادا کیا کروں۔ میں اس سلسلے میں مالی تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن میری سابقہ اہلیہ مجھ سے کسی قسم کی مالی مدد لینے سے انکار کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نہ انہیں مجھ سے کوئی مالی مدد چاہیے اور نہ ہی وہ مجھے بچے سے ملوانا چاہتی ہیں۔میرا خیال ہے کہ انہیں یہ خدشہ ہے کہ اگر وہ مجھ سے مالی مدد لیں گی تو انہیں مجھے بچے سے ملوانا پڑے گا، یا مستقبل میں سات سال بعد مجھے بچے کی کسٹڈی (حضانَت) کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ مجھ سے کسی قسم کی مالی مدد قبول نہیں کرتیں۔دوسری جانب، میری سابقہ اہلیہ دھوراجی جماعت سے ماہانہ مالی امداد حاصل کرتی ہیں، جو جماعت کی جانب سے زکوٰۃ فنڈ سے دی جاتی ہے۔ دھوراجی ایسوسی ایشن نے انہیں کئی مرتبہ سمجھایا ہے کہ بچے کی کفالت کے لیے مجھ سے مالی تعاون دلوایا جاسکتا ہے، لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ انہیں مجھ سے کسی قسم کی مالی مدد نہیں چاہیے اور وہ مجھے بچے سے بھی نہیں ملوانا چاہتیں۔

    میرا سوال یہ ہے کہ:

    1. اگر میری سابقہ اہلیہ میری جانب سے بچے کی کفالت کے لیے مالی مدد لینے سے انکار کرتی ہیں اور اس کے بجائے دھوراجی جماعت سے زکوٰۃ فنڈ کے ذریعے ماہانہ امداد حاصل کرتی ہیں، تو کیا اس صورت میں مجھے کسی قسم کا گناہ ہوگا؟

    2. اگر میں بچے کی کفالت کے لیے مالی تعاون کرنے پر آمادہ ہوں، لیکن میری سابقہ اہلیہ خود اسے قبول نہیں کرتیں، تو کیا شرعی اعتبار سے ذمہ داری ادا ہوجائے گی؟

    3. اگر میری سابقہ اہلیہ مالی مدد قبول کرنے سے انکار کرکے زکوٰۃ فنڈ سے امداد لیتی رہیں، تو کیا اس معاملے میں مجھ پر کوئی شرعی ذمہ داری یا گناہ عائد ہوگا؟براہِ کرم قرآن و سنت اور شرعی اصولوں کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں تاکہ میں اپنی شرعی ذمہ داری کو درست طریقے سے ادا کرسکوں۔جزاکم اللہ خیراً۔

    سائل:عبداللہ ریاض


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    لڑکے کی پرورش اور حضانت کا حق شرعاً سات سال کی عمر تک ماں کو حاصل ہوتا ہے، جب لڑکا سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو شریعت کے مطابق والد کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ بچے کو ماں کی حضانت سے لے کر اپنی پرورش میں رکھے، کیونکہ اس عمر کے بعد بچے کی نگہداشت اور تربیت کی ذمہ داری والد کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔

    لیکن یاد رکھیں کہ بچے والدین میں سے کسی ایک کی پرورش میں ہوں، تو دوسرے والد یا والدہ کو ان سے ملاقات کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو سخت گناہ گار ہوگا۔

    (1)چونکہ شریعتِ مطہرہ نے بچوں کا نان و نفقہ اصولاً والد کے ذمہ لازم کیا ہے، لہٰذا اس کی ادائیگی والد ہی کی ذمہ داری ہے۔ صورتِ مسئولہ میں، جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے، سائل کی سابقہ اہلیہ زکوٰۃ کی رقم سے بچوں کے اخراجات پورے کر رہی ہیں، حالانکہ سائل بچوں کے نفقے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے ، لہٰذا ایسی صورت میں بچوں کی ماں کیلئے جائز نہیں ہے کہ بچوں کےنام پر زکوٰۃ لے کر ان کو کہلائے۔ جبکہ والد ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے آمادہ ہے۔اگر خود مستحق ِزکاۃ ہے تو اپنے لئے لے سکتی ہے ۔

    (2،3)اگر آپ نےاپنی طرف سے مکمل کوشش کرلی ہے تو آپ بری الذمہ ہیں لیکن مطالبہ پر نفقہ دینا لازمی ہوگا ۔

    بچوں کے نان و نفقے (اخراجات و ضروریات)کی تفصیل یہ ہے : اگر نابالغ بچوں کے پاس اپنا کوئی ذاتی مال موجود ہو تو ان کا خرچ اسی مال سے پورا کیا جائے گا۔ لیکن اگر ان کے پاس کوئی مال نہ ہو تو جب تک وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ ہو جائیں، ان کا نان و نفقہ (اخراجات و ضروریات)باپ پر لازم ہوگا ۔(یعنی:بچے ماں کے پاس ہوں تو اس صورت میں بھی اولاد کے تمام اخراجات باپ ادا کرےگا)بالغ اولاد میں اگر کوئی بچہ اپاہج، مجنون یا کسی معذوری کے باعث کمانے کے قابل نہ ہو تو اس کا نفقہ بھی باپ کے ذمہ ہوگا۔اسی طرح، اگر لڑکی کے پاس اپنا کوئی مال موجود نہ ہو تو شادی تک اس کا خرچ باپ پر لازم ہے(چاہے ماں کے پاس ہی کیوں نہ ہو)۔ البتہ اگر لڑکی کے پاس ذاتی مال ہو تو اس کا خرچ اسی کے مال سے پورا کیا جائے گا۔

    دلائل وجزئیات:

    لڑکے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت ، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تک رہتا ہے، اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی، جو عصوبت میں مقدم یہاں بھی مقدم ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد13،صفحہ402،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    اور جب لڑکا سات سال کی عمر مکمل کر چکا ہو، تو ماں یا بالترتیب دیگر محارم خواتین کا حقِ حضانت ساقط ہو جاتا ہے اور اب حقِ پرورش باپ کو مل جاتا ہے، چنانچہ”الدرالمختار وردالمحتار“ میں ہے: إن لم يكن للصغير أحد من محارمه النساء بحر، أو كان إلا أنه ساقط الحضانة لأنه كالمعدوم فيقدم الأب ترجمہ:اگر نابالغ کے لیے کوئی محرم خاتون(حاضِنہ) نہ ہو یا ہو مگر اُس کا حقِ حضانت کسی بھی وجہ(مثلاً: عمر مکمل ہونے) سے ساقط ہو چکا ہو، تو اب محارم کا حقِ حضانت کالعدم سمجھا جائے گا اور اب پرورش کے لیے والد کو مقدم کیا جائے گا۔(ردالمحتار مع درمختار، جلد 10،باب الحضانۃ، صفحہ 452 ، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

    بچے کی پرورش کو 7 سال کی عمر تک خاص کرنے کی وجہ کے متعلق ”بحر الرائق“ میں ہے: أن الصغير إذا بلغ السبع يهتدي بنفسه إلى الأكل والشرب واللبس والاستنجاء وحده فلا حاجة إلى الحضانة ترجمہ:چھوٹا بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے، تو وہ خود ہی کھانے، پینے، پہننے اور قضائے حاجت کے معاملات سمجھ چکا ہوتا ہے، لہذا اب اُسے اِن معاملات میں پرورش کی حاجت نہیں۔(بحر الرائق، جلد4، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، صفحہ287، مطبوعہ کوئٹہ )

    اب اُس کی عمر اخلاقی رویوں اور اُمورِ معاشرت کو سمجھنے اوراُن کی اِصلاح کرنے کی ہے، جس کے لیے والد زیادہ سازگار ہے، چنانچہ ھدایہ میں ہے : وجهه أنه اذا استغنى يحتاج الى التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقھم والأب أقدر على التأديب والتثقيف ترجمہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لڑکا سات سال کی عمر مکمل ہونے پر خاتون کی پرورش کا محتاج نہ رہا، تو اب اُسے تعلیم و تربیت اور مردانہ طور طریقے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور احسن انداز سے تعلیم و تربیت اور مردانہ طور طریقے سکھانے پر زیادہ باپ ہی قادر ہوتا ہے ۔ (الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، جلد02، صفحہ 284، مطبوعۃ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

    جب بچہ باپ کے پاس ہو گا، تو ماں کو ملاقات سے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اس متعلق فتاوی تاتارخانیہ میں مذکور ہے : الولد متی کان عند أحد الأبوین لا یمنع الآخر عن النظر الیہ وعن تعاھدہ ترجمہ: جب اولاد والدین میں سے کسی ایک کے پاس ہو،تو دوسرے کو اولادکودیکھنے اور دیکھ بھال کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ (الفتاوٰی التاتارخانیۃ، جلد05، صفحہ274،مطبوعہ کوئٹہ )

    فتاویٰ ہندیہ میں کہ نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ ہے: نفقة الأولاد الصغار على الأب ‌لا ‌يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة. ترجمہ:نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ ہے، اس میں کوئی دوسرا شخص باپ کے ساتھ شریک نہیں ہوگا۔ اسی طرح جوہرۃ النیرۃ میں بھی ہے۔(کتاب الطلاق الباب السابع عشر، الفصل الرابع فی نفقۃ الأولاد، جلد:1، ص :560، مکتبہ رشیدیہ)

    ردالمحتارمیں ہے کہ بچہ جب تک کمائے گا نہیں تب تک اس کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم ہے: (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا ترجمہ:یعنی اگروہ کمانے کی عمرتک نہیں پہنچاپس اگروہ اس عمرکوپہنچ گیاتوباپ کواختیارہے کہ اس سے ملازمت کروائے یااسے کسی جگہ پیشہ کرنے بھیجے تاکہ وہ کمائے اوراس کی کمائی سے اس پرخرچ کرے اگروہ بچہ مذکرہو۔(ردالمحتارمع الدرالمختار،باب النفقۃ،ج03،ص612،دارالفکر،بیروت)

    واللہ اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: عبدالخالق بن عیسی

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: 1447 ھ/22 اکتوبر 2026ء

    ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی کو جاری کیا گیا