aurton ka masjid mein jama hokar zikr azkar karna
سوال
ہمارے ہاں رمضان المبارک میں ہر جمعہ والے دن عورتیں 10 بجے مسجد میں جمع ہوتی ہیں تلاوت قرآن کے بعد ایک عورت بیان کرتی ہے اس کے بعد تسبیح نماز اس طرح پڑھتی ہیں کہ تمام عورتیں صف بندی کرتی ہیں ایک عورت پہلی صف کے درمیان میں کھڑی ہو کر بلند آواز سے پڑھتی ہے باقی اس کی طرح پڑھتی ہیں نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرتی ہیں پھر بلند آواز سے سلام پڑھتی ہیں کیا یہ جائز ہے۔ بینوا توجروا
سائل: مفتی ریاض جلالی : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہاں چند امور ہیں:
1: عورتوں کی جماعت اور عورت کا امام ہونا۔
2: نوافل کی جماعت کا حکم۔
3: بلند آواز سے ذکر و سلام۔
ہر ایک کا حکم درج ذیل ہے:
1: عورتوں کی جماعت اور عورت کا امام ہونا۔
امت مسلمہ میں ہمیشہ سے امامت صغری ہو یا کبری ،کا حقدار مرد ہی کو ٹھہرایا گیا ہے۔حالات آسان سازگار ہوں یا کٹھن ناگوار ہمیشہ امامت کا فریضہ مردوں کے ہاتھ میں رہا یہاں تک کہ زمانہ نبوی و صدیقی میں عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت تھی ،وہ مسجد میں آ کر مرد امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتی تھیں،مگر یہ کہیں بھی مذکور نہیں کہ کسی عورت نے مردوں کی امامت کروائی ہو ۔سو اس بات پر سب کا اجماع ہے کہ عورت مردوں کی امامت نہیں کروا سکتی خواہ فرض نماز ہو یا نفل ۔
تاہم عورت کے عورتوں کی نماز پڑھنے کے حوالے سے مذاہب اربعہ میں تفصیل ہے:امام شافعی کے نزدیک عورت عورتوں کی امامت کروا سکتی ہے ،اسی طرح امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے ایک روایت مستحب ہونے کی مروی ہے اور ایک عدم استحباب کی ۔جبکہ امام مالک رضی اللہ عنہ عدم جواز کے قائل ہیں۔ڈاکٹر وحبہ الزحیلی لکھتے ہیں:اما ان کان المقتدی نساء فلا تشرط الذکورۃ فی امامھن عند الشافعیۃ والحنابلۃ،فتصح امامۃالمرءۃ للنساء عندھم ترجمہ:بہرحال اگر مقتدی خواتین ہوں تو ان کی امامت میں امام شافعی و احمد کے نزدیک ذکورت (امام کا مرد ہونا)شرط نہیں،لہذ ان کے نزدیک عورت کا خواتین کی امامت کروانا درست ہے۔
مزید لکھتے ہیں :ولا تصح امامۃ النساء عند المالکیۃ وتشرط الذکورۃ فی الامام ۔ترجمہ:اور مالکیہ کے نزدیک عورت کی امامت درست نہیں اور امام کا مذکر ہونا شرط ہے۔(الفقہ الاسلامی والادلۃ،جلد 02،صفحہ 1194،مکتبۃ رشیدیہ کوئٹہ)
البتہ احناف کے نزدیک عورت کا عورتوں کی امامت مکروہ تحریمی ہے خواہ نماز فرض ہویا نفل ۔چناچہ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَ يُكْرَهُ تَحْرِيمًا (جَمَاعَةُ النِّسَاءِ) وَلَوْ التَّرَاوِيحَ۔ترجمہ:اور عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اگرچہ نماز تروایح ہو (تنویر الابصار مع الدر المختار،جلد 1صفحہ 565،دار الفکر بیروت)
اور اس کراہت کی دو علتیں بیان کی جاتی ہیں:عورت امام مقتدیوں سے مقدم ہو گی یا ان کے درمیان کھڑی ہو کر جماعت کروائے گی۔ 1: اگر خواتین کے بیچ میں کھڑی ہو گی تو تقدم کا ترک لازم آئے گا جو کہ مکروہ تحریمی ہے اس لیے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے تقدم مواظبت کے ساتھ ثابت ہے،اور مواظبت کا تقاضا وجوب ہے،اور ترکِ وجوب مکروہ تحریمی ہے۔ چناچہ صاحب فتح القدیر علامہ ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:لِأَنَّ مُقْتَضَى الْمُوَاظَبَةِ عَلَى التَّقَدُّمِ مِنْهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَا تَرْكِ الْوُجُوب فَلِعَدَمِهِ كَرَاهَةَ التَّحْرِيمِ۔ترجمہ:کیوں کہ نبی کریم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے بلاترک اس تقدم پر موظبت کا مقتضی وجوب ہے۔لہذا اس کے عدم کی بنا پر کراہت تحریمی لازم آئے گی۔(فتح القدیر شرح الھدایۃ،جلد 01،صفحہ 351، دار الفكر)
اسی طرح خاتون امام کے درمیان میں کھڑےہونے کی ایک علت ننگوں کے ساتھ مشابہت بھی قرار دی گئی ہے کہ جب چند لوگ بے لباس ہوں ،اور ایسی جگہ ہیں جہاں بدن چھپانے کی کوئی اور چیز بھی نہ ہو اور نماز کا وقت آ گیا تو حکم یہ ہے کہ سب بیٹھ کر تنہا نماز پڑھیں گے ۔اور اگر جماعت کروانے پر مصر ہوں تو پھر ان کا امام ان کے درمیان کھڑا ہو گا ۔
2: اور اگر امام عورت مقدم ہو گی تو ایسی صورت میں سترِ عورت کے نمایاں ہونے کا مسئلہ لازم آئے گا کہ جب آگے کھڑی ہو گی تو رکوع و سجود کرتے وقت ستر واضح نظر آئے گا نیز کسی نہ کسی عضو کے کھلنے کا بھی خدشہ ہے۔
تاہم صاحب فتح القدیر نےاس عبارت (وَلَا كَشْفَ عَوْرَةٍ فَكَيْفَ بِالْعَارِي الْمُتَعَرِّضِ لِلنَّظَرِ)سے ایک اعتراض وارد کیا کہ جب عورت کا ستر کامل ہو ۔سر سے پاؤں تک ملبوس ہو اور نامحرموں سے بھی بچنے کا اہتمام ہو (جیسے آ ج کل گھروں یا مدرسوں میں جب خواتین جماعت کروائیں اور وہاں کوئی بھی نامحرم مرد موجود نہ ہو۔)تو اس صورت میں ستر کے کھلنے والی علت تو معدوم ہو جائے گی لہذا حکم ِ کراہت بھی نہیں ہونا چاہیے؟
تو اس اعتراض کا جواب خود ہی دیتے ہیں : ثمَّ ثُبُوتُ كَرَاهَةِ تَقَدُّمِهَا وَهِيَ بِهَذَا السِّتْرِ الْمَذْكُورِ إنَّمَا يَتِمُّ الِاسْتِدْلَال عَلَيْهِ بِفِعْلِ عَائِشَةَ فَقَطْ لَمَّا أَتَتْ، فَإِنَّهَا مَا تَرَكَتْ وَاجِبَ التَّقَدُّمِ إلَّا لِأَمْرٍ هُوَ أَوْجَبُ مِنْهُ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ مَا هُوَ، ترجمہ:عورت امام کے تقدم کی کراہت کا ثبوت اس ستر مذکور کے ساتھ(یعنی جب سر سے پاوں تک ملبوس ہو)پر استدلال فقط حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کے فعل سے مکمل ہو جائے گا جب آپ نے امامت کروائی(تو آپ نے تقدم کو ترک کیا)۔کیوں کہ آپ نے تقدم کے واجب کو محض کسی ایسے امرکی وجہ سے چھوڑا ہے جو اس تقدم سے زیادہ مناسب تھا ۔واللہ اعلم وہ امر کیا ہے؟(فتح القدیر شرح الھدایۃ،جلد 01،صفحہ 352، دار الفكر)
اسی طرح علامہ اکمل الدین بابرتی نے بھی اس کا جواب دیا کہ أن ذلك نادر لا حكم له على أن ترك التقديم بالسنة والتعليل لا يضاهيها۔ترجمہ:یہ نادر صورت ہے جس کا کوئی حکم نہیں با یں طور کہ ترک تقدم سنت کی وجہ سے ہے اورتعلیل اس کے مشابہ نہیں ہے۔(عنایہ تحت القدیر،جلد 01،صفحہ 364،دار الفکر)
لیکن علامہ عینی نے کہتے ہیں کہ اس صورت کو نادر کہنا درست نہیں ،چناچہ فرماتے ہیں: قلت: لا نسلم أنه نادر؛ لأن المرأة شأنها التستر في كل الأحوال ولا سيما في الصلاة خصوصا إذا أمت، فإنها تحترز عن انكشاف شيء من أعضائها غاية الاحتراز، فحينئذ لا يوجد كشف أصلا فضلا عن زيادته۔ترجمہ:میں کہتا ہوں ہم تسلیم نہیں کرتے کہ یہ صورت نادر ہے ،اس لیے کہ عورت کی شان یہ ہے کہ ہر حالت میں اپنے آپ کو چھپائے رکھے ۔اور نماز کے معاملہ میں خاص طور پر جب وہ امامت کرے،تو وہ اپنے اعضا میں سے کسی عضو کے ظاہر ہونے سے بہت بچتی ہے ۔پس جب معاملہ ایسا ہے تو اب اصلا کوئی کشف نہ پایا گیا چہ جائیکہ زیادتی کشف ہو ۔(البنایہ شرح ہدایہ جلد 02صفحہ338، دار الكتب العلمية بيروت، لبنان)
محاکمہ:
تاہم اگر اگر عورت وسط میں کھڑی ہو تو فقط تقدم کا ترک لازم آئے گا اورتقدم کا ترک سیدہ عائشہ و ام سلمہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے۔نیز حکم تقدم عورتوں کے حق میں نہیں بلکہ مردوں کے حق میں ثابت ہے،ورنہ سیدہ عائشہ و ام سلمہ کی نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟کیوں کہ تقدم کا اعتبار توپھر ان کے حق میں بھی ہونا چاہیے تھا۔اور ان جلیل القدر ہستیوں سے یہ بات کجا ہے کہ وہ اپنی نمازوں کو کراہت کے ساتھ ادا فرماتی ہوں ۔
سو مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس تقدم کا اعتبار عورت کے حق میں کرنے کی بجائے مردوں کے حق میں کیا جائے،جیسا کہ علامہ عینی صاحبِ بنایہ لکھتے ہیں: فكيف يكون قيام الإمام وسطهن محرما، وقد فعلته عائشة وأم سلمة، وروي عن ابن عباس - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فلقائل أن يقول: ارتكاب المحرم فيه في حق الرجال دون النساء، إذ لو كان مطلقا لما كان يجوز الصلاة۔ترجمہ:امام عورت کا عورتوں کی صف کے بیچ میں کھڑا ہونا کیسے مکروہ ہو گا حالنکہ سیدہ عائشہ و سیدہ ام سلمہ صف کےدرمیان میں کھڑی ہوئیں۔اور ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے ،پس قائل کو چاہیے کہ یوں کہے کہ اس میں مکروہ تحریمی کا ارتکاب مردوں کے حق میں ہے نہ کہ عورتوں کے ۔(البنایہ شرح ہدایہ جلد 02صفحہ337، دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)
عہد حاضر کے مفتیان کرام کا مؤقف:
ہمارے زمانے کے معتمد مفتیان کرام علمائے عظام مثلاً مفسر قرآن شارح صحیحین علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ ، مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن دام ظلہ،تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی دام برکاتہم العالیہ ،مفتی رفیق الحسن حسنی ظلہ العالی وغیرہا دیگر مفتیان کرام نے اس مسئلہ میں تخفیف دی ہے ۔مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:ہمارے عہد کے مفتیان کرام دینی مصلحت اور ضرورت کے تحت موقع کی مناسبت سے کسی ایک موقف پر رائے دے سکتے ہیں ۔(تفہیم المسائل،جلد 06صفحہ،121 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
حالات حاضرہ میں تخفیف کے اسباب:
ہمارے ہاں خواتین میں حفظ کے رجحان کا کم ہونا یا حفظ کرنے کے بعد ان کا بھول جانا اس کے من جملہ اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مردوں کی طرح خواتین کے لیے مواقع نہیں،وہ یوں کہ حفاظ جو پورا سال قرآن نہیں پڑھتے وہ بھی رمضان سے پہلے دور شروع کر دیتے ہیں کہ رمضان میں تروایح پڑھانی ہے۔جبکہ خواتین کے ہاں ایسا کوئی سلسلہ نہیں یہی وجہ ہے حفاظ کے نسبت حافظات جلد بھول جاتی ہیں کہ سنانے کی فکر نہیں ہوتی۔اور یہ بات واضح ہے کہ جو حفاظ پورا سال قرآن نہ پڑھتے ہوں لیکن رمضان میں تراویح سناتے ہوں تو انہیں قرآن یاد رہتا ہے۔
خواتین میں اجتماعی عبادت کا رجحان مردوں کی نسبت زیادہ ہے ،یہی وجہ ہے کہ ہماری خواتین ان راتوں میں خاص طور پر رمضان میں تروایح کے نام پر ،دروس قرآن کے نام پر کہیں بھی جانے کو تیار ہو جاتی ہیں ۔بعض سادہ لوح ایسی ہوتی ہیں جنھیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ کس کی محفل یا مجلس ہے یہاں تک کہ بد مذہبوں کی مجالس میں چلی جاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کل تک جو گھرانے سنی تھے آج وہ بد عقیدہ لوگوں کے دام میں آ کر بد مذہب ہو چکے ہیں ۔
جن ذرائع کو بند کرنے کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں،کیا وہ ذرائع بند ہیں؟ یقینا ہر گز نہیں !!ہماری خواتین بازار وں میں ،شاپنگ مالز میں ریسٹورنٹ میں ہر جگہ جا رہی ہیں عوام تو عوام خواص کی بھی خواتین اس ابتلا میں مبتلا ہیں تو ایسے حالات میں محلے میں موجود کسی گھر میں با پردہ ہو کر تمام حدود و قیود کے ساتھ مخصوص دنوں میں اجتماعی عبادات کا سلسلہ کریں تو اس کی گنجائش ہونی چاہیے!
حکم شرعی:
خلاصہ یہ ہت کہ ہمارے نزدیک عورت کی امامت جائز مگرخلاف اولی ہے۔ خواتین کا صلوۃ التسبیح ، نماز تراویح کا یوں اہتمام کرنا اس طرح کہ اس میں غیر شرعی حرکات(عورتوں کی آواز کا بلند ہونا جنھیں غیر محرم سنیں،یا اس جگہ غیر محارم مردوں کا آنا جانا ہو)نہ ہوں تو جائز ہے ،اسی طرح جمعہ کے دن یا بڑی راتوں میں خواتین جواہتمام کرتی ہیں یہ بھی مذکورہ شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ایسے کرنے سے وہ گنہگار نہیں ہوں گی ۔
2: نوافل کی جماعت کا حکم:
علی الاعلان نفل کی جماعت جائز ہے مگر خلاف اولی( یعنی نہ کرنا بہتر لیکن کی جائے تو کوئی حرج و مضائقہ نہیں) ہے۔ لیکن عوام کو ان جماعتوں سے روکنا حکمتِ شرع کے خلاف ہے ۔
امام اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں:نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہی ہے چار کی نسبت کتب حنفیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہہ جس کا حاصل خلاف ِاولٰی یعنی جس کا نہ کرنا بہتر ہے لیکن اگر کیاتو گناہ وناجائز نہیں ہے ۔۔۔ کما بیناہ فی فتاوٰنا ۔ مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابر دین سے جماعتِ نوافل بالتداعی( علی الاعلان) ثابت ہے او ر عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے۔ علما ء امت و حکماء ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، ج:7، ص:465، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)
بلکہ عوام کے سامنے خلاف اولی بھی نہ کہاجائے کیونکہ عوام الناس پہلے ہی نیکیوں میں کم رغبت رکھتے ہیں، خلاف اولی کا سنکر نوافل بالکل ہی چھوڑدیں گے اور سستی کی وجہ سے بغیر جماعت بھی نہ پڑھیں گے، لہذ۱ عوام کو اللہ عزوجل اور رسول ﷺکا نام لینے سے نہ روکا جائے بلکہ انہیں سہولت کے ساتھ ذکر خدا و رسول عزوجل وﷺکی طرف لایا جائے۔عوام کو اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنے اور نیکیوں کی طرف رغبت دلانے کے لئے اس طرح مقدس اور بڑی راتوں میں نوافل کی جماعتیں کرنا جائز ہے اور عموماً دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اگر جماعت نہ کرائی جائے تو بہت سارے لوگ نوافل پڑھے بغیر لوٹ جاتے ہیں۔
الدرالمختارمع رد المحتار میں ہے:أَمَّا الْعَوَامُّ فَلَا يُمْنَعُونَ مِنْ تَكْبِيرٍ وَلَا تَنَفُّلٍ أَصْلًا لِقِلَّةِ رَغْبَتِهِمْ فِي الْخَيْرَاتِ۔ترجمہ: عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیا جائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔( الدرالمختار،باب العیدین ،ج:3،ص:60،مکتبہ رحمانیہ لاہور۔ )
امام اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن حدیقہ ندیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں: وَمِنْ هَذَا الْقَبِيْلِ نَهْيُ النَّاْسِ عَنْ صَلَاْةِ الرَّغَاْئِبِ بِالْجَمَاْعَةِ وَصَلَاْةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَنَحْوِ ذَلِكَ وَإِنْ صَرَّحَ الْعُلَمَاْءُ بِالْكَرَاهَةِ الْجَمَاْعَةَ فِيْهَاْ فَلَاْ يُفْتَى بِذَلْكَ الْعَوَاْمِ لِئَلَّا تَقُلَّ رَغْبَتُهُمْ فِيْ الْخَيْرَاتِ وَقَدْ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاْءُ فِيْ ذَلِكَ فَصَنَّفَ فِيْ جَوَاْزِهَا جَمَاْعَةٌ مِنَ الْمُتَأَخِّرِيْنَ وَإِبْقَاْءُ الْعَوَاْمِ رَاْغِبِيْنَ فِيْ الصَّلَاْةِ أَوْلَى مِنْ تَنْفِيْرِهِمْ۔ترجمہ: اس قبیل سے لوگوں کو منع کرنا ہے رغائب( نفل) کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے اور لیلۃ القدر کی نماز اور اسی طرح نوافل جماعت کے ساتھ پڑھنے سے اگرچہ علماء نے انکی جماعت کے بارے میں کراھت کی تصریح کردی ہے مگر عوام میں یہ فتوی نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں انکی رغبت کم نہ ہو۔ علماء اس مسئلہ میں مختلف ہوئے ہیں اورمتاخرین علماء کی ایک جماعت نے اسکے جواز پر کتابیں لکھیں اور عوام کو اس نماز کی طرف راغب رکھنا انھیں اس سے متنفر کرنے سے کہیں بہتر ہے۔( فتاوی رضویہ، ج:۷، ص:۴۶۶، رضا فاؤنڈیشن لاہور ۔ )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عوام کے لئے مقدس راتوں میں جماعت کے ساتھ نوافل پڑھنا جائز ہے ۔اور عوام کو اس کی جماعت سے نہ روکا جائے کہ دین کی حکمت کے خلاف ہے۔
3: عورتوں کا بلند آواز سے ذکر و سلام۔
صلوۃ التسبیح میں امام کا بلند آواز سے تسبیحات پڑھنا خلافِ سنت ہے، البتہ نماز ہو جائے گی اور سجدہ سہو بھی واجب نہ ہو گا۔اسکے علاوہ دیگر ذکر اذکار وسلام اتنی بلند آواز سے ہو کہ مسجد سے باہر جائے اور راہ گیروں تک پہنچے تو بلاشبہ ناجائز ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے کہ مرد اسکی آواز سن کر اسکی طرف راغب ہوتے ہیں اگر آواز خوبصورت ہو تو اس میں مزید فتنہ ہے ،حتیٰ کہ ہمارے فقہاء امت نے فرمایا کہ عورت دوران حج تلبیہ (یعنی لبیک اللہم لبیک)بھی بلند آواز سے نہ کہے بلکہ آواز پست رکھے کہ خود کو سن سکے بس جیسا کہ شامی میں ہے:وَفِي الْكَافِي: وَلَا تُلَبِّي جَهْرًا لِأَنَّ صَوْتَهَا عَوْرَةٌ، وَمَشَى عَلَيْهِ فِي الْمُحِيطِ فِي بَابِ الْأَذَانِ بَحْرٌ۔ترجمہ: اور کافی میں ہے کہ عورت تلبیہ بھی بلند آواز سے نہ کہے، کیونکہ اسکی آواز بھی عورت ہے، اور اسی بات کوصاحب محیط نے باب الاذان میں ذکر کیا ہے۔(شامی،مطلب فی ستر العورۃ،جلد1 ص 406)
سیدی اعلیٰ حضرت سے عورت کی آواز کے بارے میں پوچھا گیا :چند عورتیں ایک ساتھ ملک کر گھرمیں میلاد شریف پڑھتی ہیں اور آواز باہرتک سنائی دیتی ہے یونہی محرم کے مہینے میں کتاب شہادت وغیرہ بھی ایک ساتھ آواز ملا کر پڑھتی ہیں۔ یہ جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا۔
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں '' ناجائزہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اور عورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سے محل فتنہ ہے''واللہ تعالٰی اعلم۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الحظر والاباحۃ جلد 22 ص 240 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: عورت کا خوش الحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نامحرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جا ئے ، حرام ہے ۔نوازل امام فقیہ ابو اللیث میں ہے:''نغمۃ المرأۃ عورۃ ''یعنی عورت کا خوش آواز کر کے کچھ پڑھنا عورت یعنی محلِ ستر ہے ۔کافی امام ابو البرکات نسفی میں ہے: ''لا تلبی جھراًلان صوتھا عورۃ ''یعنی عورت بلند آواز سے تلبیہ نہ پڑھے، اس لیے کہ اس کی آواز قابلِ ستر ہے ۔(فتاوی رضویہ، جلد22،ص242، رضا فاؤنڈیشن لاهور)
البتہ اگر یہ صورت نہ ہو بلکہ آواز آہستہ ہو تو کوئی حرج نہیں، جائز بلکہ موجبِ اجروثواب ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ جراء:21 رمضان المبارک 1444 ھ/12 اپریل 2023 ء