ai ke zariye insani kirdar banana
سوال
کیا اسلام میں AI کے ذریعے anime-style انسانی کردار کی تصویر بنانا جائز ہے؟ اگر کردار fictional ہو اور کسی حقیقی انسان کی تصویر نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ اور اگر وہ کردار کسی پہلے سے موجود anime series کا ہو تو کیا اسے AI image یا video میں استعمال کرنا جائز ہے؟ براہ کرم قرآن، حدیث اور فقہی اصول کی روشنی میں جواب دیں۔
سائل : وقاص پیرزادہ :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:یاد رہے جن تصاویر کی ممانعت احادیث میں آئی ہے وہ دستی تصاویر ہیں یعنی ہاتھ سے بنائی جانے والی یا پرنٹ شدہ تصویر ہے لیکن اگر موبائل یا کیمرے سے تصویر بنائی گئی تو ایسی تصویر بنانے میں حرج نہیں ہےجبکہ تک کہ اس کا پرنٹ آؤٹ نہ نکلوا لیا جائے۔ لہذا اے آئی AI) )کے ذریعے اینیمے اسٹائل (Anime-style)کے انسانی کرداروں کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا جب کہ اس ڈیجیٹل تصویر کا کوئی وجودِ خارجی (Physical Existence) نہ ہو یعنی نہ وہ پرنٹ کی گئی ہو یانہ ہی اس کا کوئی جسمانی مجسمہ بنایا گیا ہو، تب تک وہ نوری عکس ( Digital Reflection) کے حکم میں ہوتی ہے جیسے آئینے یا پانی کا عکس، لہذا محض اسکرین پر AI تصویر یا ویڈیو بنانا اس کے اپنے وجود کی حد تک شرعاً جائز اور ممانعت کی علتوں سے خارج ہے۔
البتہ اگر اس ڈیجیٹل تصویر یا AI ویڈیو کو فحاشی، عریانی، غیر محرم خواتین کا عریاں روپ، جھوٹ، یا کسی کی دل آزاری و بہتان(Deep fake) وغیرہ کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ بذاتِ خود تصویر کی وجہ سے نہیں بلکہ الگ سے ان گناہوں اور فتنوں کے وجہ سے ناجائز و حرام ہوگی۔
2: لیکن اگر اینیمے کردار بالکل فرضی(Fictional)ہوں، کسی حقیقی انسان کی نقل نہ ہو اور اس کے اعضاء کارٹونی یا غیر حقیقی ہوں جن میں عام انسانی جسم کی کامل تجسیم نہ ہو جیسے بعض ویڈیوز میں انسانی سر کے لیے گول دائرہ اور ہاتھوں کے لئے لکیریں وغیرہ ہوتی ہیں ،تو اس صورت میں بھی حرج نہیں اسی شرط کیساتھ کہ یہ دیڈیوز فحاشی، عریانی، جھوٹ، یا کسی کی دل آزاری و بہتان پر مبنی نہ ہو۔
3: اگر وہ کردار کسی پہلے سے موجود اینیمے سیریز کا ہو اور اس کی AI کے ذریعے تصویر یا ویڈیو بنائی جائے، تو اس میں دو باتیں ضروری ہیں:
اولاًیہ کہ وہ مواد اخلاقی و شرعی طور پر مباح ہو، اور ثانیاً یہ کہ حقوقِ طبع و اشاعت (Copyrights) کی خلاف ورزی نہ ہو۔
احادیثِ مبارکہ میں جاندار کی تصویر کشی پر جو وعیدیں آئی ہیں جیساکہ صحیح بخاری کی حدیث: "إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ"ان کی بنیادی علت "مضاہاۃ لخلق اللہ(مخلوق کا خالق کی مشابہت اختیار کرنا) اور تعظیم وبت پرستی کا ذریعہ بننا ہے، جبکہ غیر حقیقی و خیالی اینیمے کرداروں میں یہ علل نہیں پائیں جاتیں، بشرطیکہ وہ فحاشی اور عریانی سے پاک ہوں۔
مضاہاۃ لخلق اللہ کا مطلب یہ ہے کہ تصو یر بنانے والا شخص جب کسی کی جب کسی جاندار کی بالکل سچی اور مکمل شبیہ ( Realistic Picture ) بناتا ہےتو ظاہر میں اللہ تعالی کی تخلیقی صلاحیت کا مقابلہ یا اس کی نقالی کر رہا ہوتا ہے۔فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی جاندار کی بالکل سچی اور مکمل شبیہ بناتا ہے، تو اس میں یہ اثر پایا جاتا ہے کہ گويا وہ اللہ کی صفتِ "خالق" اور "مصور" میں نقالی کر رہا ہے۔ اسی لیے قیامت کے دن ایسے لوگوں سے بطورِ عجز و سزا کہا جائے گا کہ "جو تم نے بنایا ہے اس میں روح ڈال کر دکھاؤ"، جو کہ ان کے بس میں نہیں ہوگا۔ کارٹونی یا اینیمے (Anime) کرداروں میں "علت مضاہاۃ " اس لیے نہیں پائی جاتی کیونکہ وہ فرضی، غیر حقیقی اور خیالی خاکے ہوتے ہیں جن کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہوتا، ان کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ یہ اللہ کی پیدا کردہ کسی حقیقی انسان یا جاندار کی ہو بہو نقل ہے۔
فقہاء نے تصویر کی بعض صورتوں کو علت نہ ہونے کے سبب حکمِ تصویر سے خارج کیا ہے چنانچہ در المختار میں ہے: أَوْ مَقْطُوعَةَ الرَّأْسِ أَوْ الْوَجْهِ أَوْ مَمْحُوَّةَ عُضْوٍ لَا تَعِيشُ بِدُونِهِ۔ترجمہ: اگر تصویر کا سر، چہرہ یا کوئی ایسا بنیادی عضو مٹا ہوا ہو جس کے بغیر جاندار کا زندہ رہنا عادتاً ممکن نہ ہو تو وہ ممنوع نہیں رہتی۔
اسکے تحت شامی میں ہے: (قَوْلُهُ أَوْ مَمْحُوَّةَ عُضْوٍ إلَخْ) تَعْمِيمٌ بَعْدَ تَخْصِيصٍ، وَهَلْ مِثْلُ ذَلِكَ مَا لَوْ كَانَتْ مَثْقُوبَةَ الْبَطْنِ مَثَلًا. وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ الثَّقْبُ كَبِيرًا يَظْهَرُ بِهِ نَقْصُهَا فَنَعَمْ وَإِلَّا فَلَا۔ترجمہ: یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے(یعنی پہلے قطعِ رأس کا خاص ذکر کیا اور پھر عام ضابطہ بیان کیا)اور کیا اسی کے مثل وہ صورت بھی ہوگی جب مثال کے طور پر اس کا پیٹ سوراخ شدہ ہو؟ ظاہر یہی ہے کہ اگر سوراخ بڑا ہو جس سے اس کا نقص ظاہر ہوتا ہو تو ہاں(یعنی مکروہ نہ ہوگی)، ورنہ نہیں۔
آگے لکھتے ہیں: (قَوْلُهُ لِأَنَّهَا لَا تُعْبَدُ) أَيْ هَذِهِ الْمَذْكُورَاتُ وَحِينَئِذٍ فَلَا يَحْصُلُ التَّشَبُّهُ۔ ترجمہ: ان کا قول لا تعبد: ان کی عبادت نہیں کی جاتی، یعنی ان ذکر کردہ تمام چیزوں کی، اور ایسی صورت میں تشبہ (غیروں کی مشابہت) حاصل نہیں ہوتا۔(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، جلد 2 ص 418 ، امدادیہ)۔
فی زمانہ حقِ طباعت و اشاعت (کاپی رائٹ) کاقانونی حیثیت حاصل ہو چکی ہے، اور عرف میں بھی یہ ایک معتبر حق تسلیم کیا جاتا ہے، خصوصاً بین الاقوامی سطح پر اس کو قانونی و عرفی طور پر مانا جاتا ہے،اس لیے اگر کسی بھی شخص نے ویڈیو یا تصاویر کا حقِ طباعت محفوظ کر رکھا ہے، تو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حق میں کوئی تصرف کرنا،یا اس ویڈیو کواپنے کسی چینل پر اپلوڈ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوگا، بلکہ اپلوڈ کرنے کی صورت میں اپلوڈ کرنے والا کا ہی نقصان ہوتا ہے کہ اس پر کاپی رائٹس کی خلاف ورزیوں کے سبب پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔
حقوق کے شرعی تحفظ سے متعلق المعاییر الشرعیہ معیار نمر 42 میں ہے:"الاسم التجاري، والعنوان التجاري، والعلامة التجارية، والتأليف، والاختراع، والابتكار هي حقوق خاصة لأصحابها، أصبح لها في العرف المعاصر قيمة مالية معتبرة لتمول الناس لها. وهذه الحقوق مصونة شرعا ويعتد بها، فلا يجوز الاعتداء عليها۔ ترجمہ: تجارتی نام، تجارتی عنوان، تجارتی علامت، تالیف، اختراع، یہ اپنے اصحاب کے ساتھ مخصوص ایسے حقوق ہیں کہ لوگوں کے ان کی مالیت کا اعتبار کرنے کی وجہ سے جدید عرف میں ان کی معتبر مالی قیمت بن گئی ہے۔ یہ حقوق شرعاً محفوظ ہیں اور ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، لہذا ان پر دراندازی کرنا جائز نہیں ہے۔ (المعايير الشرعية للإيوفي، المعيار الشرعي رقم 42: الحقوق المالية والتصرف فيها، البند 3/3/3/1)
تجارتی لائسنس میں تصرف کے حکم پر شرعی معیار نمبر (42) میں ہے: "الرخصة التجارية: الرخصة التجارية هي حق تمنحه السلطة لبعض التجار للعمل بها في نشاطات محددة. ويجوز لصاحبها أن يتصرف بها بمال أو بدونه، إلا إذا منع القانون ذلك صراحة۔ترجمہ: تجارتی اجازت نامہ [لائسنس]: تجارتی اجازت نامہ [لائسنس] ایسا حق ہوتا ہے جو حکومت بعض تاجروں کو محدود سرگرمیوں میں کام کرنے کے لیے دیتی ہے۔ حاملِ اجازت نامہ کے لیے اس اجازت نامہ میں مال کے عوض یا اس کے بغیر تصرف کرنا جائز ہے، الا یہ کہ قانون اس تصرف سے واضح طور پر منع کرتا ہو۔ (المعايير الشرعية للإيوفي، المعيار الشرعي رقم 42: الحقوق المالية والتصرف فيها، البند 3/3/3/3)
فحاشی، عریانی، جھوٹ، بہتان اور کسی کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کےذریعے تصاویر یا ویڈیوز تیار کرنا یا انہیں پھیلانا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ ان امور کی حرمت دلائلِ شرعیہ سے ثابت ہے، خواہ ان کا ارتکاب کسی عام تصویر کے ذریعے ہو یا ڈیجیٹل تصویر اور ویڈیو کے ذریعے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۔ترجمہ: بے شک جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلے، ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (سورۃ النور، آیت 19)
اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں میں فحاشی و بے حیائی پھیلانا سخت وعید کا موجب ہے، لہٰذا AI کے ذریعے فحش اور عریاں تصاویر یا ویڈیوز بنانا اور انہیں نشر کرنا بھی اس ممانعت میں داخل ہوگا،۔
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا۔ ترجمہ: اور جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو ان کے کسی جرم کے بغیر ایذا دیتے ہیں، وہ بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ( سورۃ الأحزاب، آیت 58)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بے گناہ شخص کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا، اس کی عزت کو مجروح کرنا اور اسے ناحق تکلیف پہنچانا حرام ہے؛ لہٰذا کسی حقیقی انسان کی تصویر یا ویڈیو کو AI کے ذریعے تبدیل کرکے اس کی طرف کوئی جھوٹا یا فحش عمل منسوب کرنا، یا ایسا فرضی منظر بنانا جس سے اس کی عزت و آبرو مجروح ہو، شرعاً ناجائز ہوگا۔
مزید برآں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔ ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ (سورۃ الحجرات، آیت :12)
جھوٹی نسبت اور بہتان کی مذمت میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ۔ ترجمہ: جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث 6018؛ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث نمبر 47)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسی گفتگو اور اشاعت سے اجتناب لازم ہے جس میں جھوٹ، فحش یا لوگوں کو ناحق تکلیف پہنچانا پایا جائے۔ نیز نبی کریم ﷺ نے جھوٹ کو منافقت کی علامات میں شمار فرمایا، چنانچہ ارشاد ہے: إذَا حَدَّثَ كذبَ۔ ترجمہ: جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (صحیح البخاری، کتاب الإيمان، حدیث 33؛ صحیح مسلم، کتاب الإيمان، حدیث نمبر 59)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب