اگریمنٹ میں معاہدہ کی خلاف ورزی

    agreement mein muahida ki khilaf warzi

    تاریخ: 3 اگست، 2026
    مشاہدات: 25
    حوالہ: 1695

    سوال

    ہم کسی سے مال اٹھاتے ہیں۔ایک سال کا ایگریمنٹ ہے اب وہ مال دینے سے انکار رہے ہیں۔جبکہ ہمارا اگریمنٹ ختم نہیں ہوا تو اس سلسلے میں فتوٰی چاہیےکہ یہ صحیح ہے یا غلط؟

    سائل:عبدالمناف: کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ایگریمنٹ وعدہ بیع کی ایک صورت ہے ، جس میں عاقدین پر شرعا اس کی پاسداری لازم ہے۔ بغیر کسی ایک کی رضا مندی کے دوسرے کو اس ایگریمنٹ کی خلاف ورزی کرنا ناجائز ہے۔قال اللہ تعالٰی : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔ترجمہ کنزالایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔(بنی اسرائیل: 34)

    بندہ مومن کی نشانی یہ ہے کہ وعدہ پورا کرے ، وعدہ خلافی نہ کرے ، کیونکہ حدیث پاک میں وعدہ خلافی کرنا منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے چناچہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے :عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ المُنَافِقِ ثَلاَثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ۔ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین علامت ہیں ، جب بات کرے توجھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسکا خلاف کرے، اور جب امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے۔(صحیح البخاری ، باب علامۃ المنافق ،حدیث نمبر 33)

    بہر صورت ایگریمنٹ کی خلاف ورزی جائز نہیں تاہم اس شخص کو مجبور نہیں کیا جاسکتا البتہ آپ چاہیں توایگریمنٹ کی بنیاد پرقانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:06 صفر المظفر 1442 ھ/24 دسمبر 2020 ء