444-mt5 par sone ki cfd trading ka sharai hukm
سوال
میں PrimeXBT کے ذریعے MT5 پر XAU/USD (Gold) کی ٹریڈنگ کرتا ہوں۔ اس اکاؤنٹ میں leverage استعمال ہوتی ہے، لیکن میرے علم کے مطابق اس پر swap یا interest نہیں لیا جاتا۔ میری معلومات کے مطابق اس میں حقیقی سونا میرے قبضے یا ملکیت میں نہیں آتا، بلکہ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ پر ٹریڈ ہوتی ہے۔ براہِ کرم بتائیں،کیا اس قسم کی ٹریڈنگ شرعاً جائز ہے؟ اگر اس میں سود نہیں ہے لیکن leverage استعمال ہوتی ہے، تو کیا پھر بھی یہ ناجائز یا حرام شمار ہوگی؟ اگر یہ جائز نہیں ہے تو اس کی بنیادی شرعی وجہ کیا ہے؟ میں حلال کمائی چاہتا ہوں، اس لیے آپ سے قرآن و سنت اور معتبر فقہاء کی روشنی میں رہنمائی کی درخواست ہے۔ جزاکم اللہ خیراً۔
سائلہ: ام اسماء
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں PrimeXBT کے ذریعے MT5 پر XAU/USD (Gold) کی ٹریڈنگ شرعاً ناجائز و حرام ہے، چاہے اس میں swap نہ لیا جائے؛ کیونکہ یہ سونے کی خرید و فروخت نہیں بلکہ CFD (Contract for Difference) ہے، جس میں سونا نہ بیچنے والے کی ملکیت میں ہوتا ہے اور نہ خریدنے والے کے قبضے میں آتا ہے، بلکہ صرف قیمت کے فرق کا لین دین ہوتا ہے؛ اور leverage درحقیقت بروکر کی طرف سے قرض ہے جس کے ذریعے بروکر نفع حاصل کرتا ہے، اور قرض پر حاصل ہونے والا ہر نفع سود ہے۔ لہذا اس ٹریڈنگ سے بچنا لازم ہے۔
تفصیل مسئلہ
PrimeXBT کی ویب سائٹ کے مطابق MT5 پر جو ٹریڈنگ ہوتی ہے وہ CFDs کی ہے، چنانچہ لکھا ہے:
"Trade Forex and CFDs on indices, commodities, shares, and more with MetaTrader 5."
https://primexbt.com/platforms/mt5
CFD کے بارے میں ہانگ کانگ کے سرکاری ادارے Investor and Financial Education Council کی سائٹ پر ہے:
"an investor and a dealer agree to exchange the difference in the open and closing prices of an underlying asset… Investors do not own the underlying asset but maintain a long/short position of its price."
https://www.ifec.org.hk/web/en/blog/2022/12/be-careful-with-contract-for-difference-trading.page
اور سنگاپور کے سرکاری ادارے MoneySense کی ویب سائٹ پر ہے:
"As a CFD buyer, you do not own the underlying asset."
https://www.moneysense.gov.sg/investments/understanding-contracts-for-difference/
یعنی سرمایہ کار اثاثے کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ صرف اس کی قیمت پر خرید یا فروخت کی پوزیشن رکھتا ہے۔
رہا swap، تو PrimeXBT کی ہیلپ سائٹ پر MT5 کی فیسوں میں لکھا ہے:
"Swap fees (may be replaced with administrative fees depending on your trading account type)"
https://primexbt.help/en/articles/8461245-frequently-asked-questions-f-a-q-platform-wide
اور PrimeXBT کے swap-free پریس ریلیز میں ہے:
"admin fees are waived for up to three days on most trading instruments".
https://coingape.com/press-releases/primexbt-launches-swap-free-accounts-on-mt5-offering-interest-free-trading-solutions/
معلوم ہوا کہ swap-free اکاؤنٹ میں بھی پوزیشن زیادہ دن کھلی رکھنے پر swap کی جگہ دوسری فیس لی جاتی ہے۔
اس معاملے کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ اس میں قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمایا جاتا ہے، کیونکہ قیمت کا گھٹنا بڑھنا تو ہر تجارت میں ہوتا ہے اور اس سے بیع کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ اس کی خرابی یہ ہے کہ یہاں سونے کی حقیقی خرید و فروخت ہوتی ہی نہیں: نہ بروکر حقیقی سونا بیچتا ہے، اور نہ سیل (Sell) کی پوزیشن کھولنے والا اس سونے کا مالک ہوتا ہے، جبکہ جو چیز اپنی ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنا شرعاً ناجائز ہے۔ اسی طرح بائے (Buy) کی پوزیشن کھولنے والا بھی سونے پر کبھی قبضہ نہیں کرتا، اور پوزیشن بند کرتے وقت اسے قبضے سے پہلے ہی آگے بیچ دیتا ہے، حالانکہ سونا منقولہ چیز ہے اور منقولہ چیز کو قبضے سے پہلے آگے بیچنا ناجائز ہے۔
رہا یہ کہنا کہ اس میں swap نہیں لیا جاتا، اس سے بھی یہ معاملہ جائز نہیں ہوتا، کیونکہ leverage میں ٹریڈر اپنی رقم سے کئی گنا بڑی پوزیشن لیتا ہے اور باقی رقم بروکر کی طرف سے قرض ہوتی ہے، جو اسی بنیاد پر دی جاتی ہے کہ ٹریڈر اسی کے پلیٹ فارم پر ٹریڈ کرے اور بروکر spread اور فیسوں کی صورت میں اس سے نفع کمائے؛ اور قرض دے کر اس پر کسی بھی قسم کا نفع لینا سود ہے، جو قطعی حرام ہے۔ لہذا اگر سونے میں حلال تجارت کرنا چاہیں تو اپنی رقم سے حقیقی سونا خرید کر اس پر خود یا اپنے کسی وکیل سے قبضہ کروائیں، پھر جب چاہیں نفع کے ساتھ بیچ دیں۔
دلائل و جزئیات
جو چیز اپنے پاس نہ ہو اسے بیچنے کی ممانعت کے متعلق حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "أتيت رسول الله ﷺ فقلت: يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي، أبتاع له من السوق ثم أبيعه؟ قال: لا تبع ما ليس عندك". ترجمہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میرے پاس آدمی آتا ہے اور مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی، کیا میں اس کے لیے بازار سے خرید کر پھر اسے بیچ دوں؟ فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں اسے مت بیچو۔ (سنن الترمذی، ابواب البیوع، باب ما جاء فی کراہیۃ بیع ما لیس عندک، 3/526، الرقم: 1232، مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
غیر مملوک چیز کی بیع کے باطل ہونے کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "بيع ما ليس في ملكه باطل كما تقدم؛ لأنه بيع المعدوم، والمعدوم ليس بمال". ترجمہ: جو چیز اپنی ملکیت میں نہ ہو اس کی بیع باطل ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا؛ کیونکہ یہ معدوم کی بیع ہے، اور معدوم مال نہیں۔ (رد المحتار، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، 5/60، دار الفکر بیروت)
قبضے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: "أما الذي نهى عنه النبي ﷺ: فهو الطعام أن يباع حتى يقبض. قال ابن عباس: ولا أحسب كل شيء إلا مثله". ترجمہ: وہ چیز جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا، وہ غلہ ہے کہ اسے قبضے سے پہلے بیچا جائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: اور میں ہر چیز کو اسی کی مثل سمجھتا ہوں۔ (صحیح البخاری، کتاب البیوع، باب بیع الطعام قبل ان یقبض، 3/68، الرقم: 2135، دار طوق النجاۃ)
منقولہ چیز کو قبضے سے پہلے بیچنے کے ناجائز ہونے کے متعلق امام برہان الدین مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 593ھ) فرماتے ہیں: "ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك". ترجمہ: اور جس نے کوئی ایسی چیز خریدی جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جا سکتی ہو، تو اس کے لیے قبضے سے پہلے اسے بیچنا جائز نہیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبضے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، اور اس لیے کہ اس میں ہلاکت کی صورت میں عقد کے ٹوٹ جانے کا دھوکا ہے۔ (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، 3/59، دار إحياء التراث العربي بيروت)
سود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا.ترجمہ: اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔(البقرۃ:275)
قرض پر نفع کے سود ہونے کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام". ترجمہ: اور الاشباہ میں ہے کہ ہر وہ قرض جو نفع کھینچ کر لائے، حرام ہے۔ (رد المحتار، کتاب البیوع، فصل فی القرض، 5/166، دار الفکر بیروت) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب