زبانی طلاق کے بعد طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم
    تاریخ: 6 جنوری، 2026
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 532

    سوال

    مرد کا بیان

    میرے سسرال والے میرے پاس خلع مانگنے آئے تو میں نے انکو کہا کہ ایک طلاق دوں گا طلاق رجوع اور میں نے یہ بات اپنی بیگم سے بھی ڈسکس کی تھی میری بیگم نے مجھے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ ٹھیک ہے اگر آپ خلع نہیں دے رہے تو وہی ایک طلاق دے دیں جو آپ نے مجھ سے کہی تھی اور اس نے کہا کہ موبائل میسج پر دے دینا میں نے کہا کہ نہیں موبائل پر نہیں دونگا جو طریقہ ہے طلاق دینے کا شریعت کے مطابق تمہارے سامنے ہی دونگا طلاق کے معاملے میں میرے سسرال ولوں نے 1.5 سے 2 مہینے تک مجھے اپنی بیگم سے ملنے نہیں دیا اور پھر اچانک خلع کا مطالبہ کر دیا اور ناہی میرے بیٹے سید ریان علی جو کہ ابھی تو 9 سال کا ہے مجھے نہیں ملنے دیا اور مسلسل مجھ پر اور میرے گھر والوں پر پریشر ڈالتے رہے کہ میں اپنی بیگم کو طلاق دے دوں تو بڑی مجبوری میں میں نے ایک طلاق دینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنی بیگم کو بتا دیا تھا کہ اس طلاق میں دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں یہ بات انکے وکیل حماد کو اور میرے سالے زاہد کو اور انکے پورے گھر والوں کو یہ معلوم تھا کہ میں ایک ہی طلاق دوں گا مگر انہوں نے پیپرز میں گڑ بڑ کر کے اس طریقے سے طلاق لی جس سے وہ تین طلاق ظاہر ہوتی ہیں، اس طرح اوپر یہ تحریر لکھ دی '' میں سید نادر علی ولد سید صفدر علی مسماۃ سلطانہ پروین بنت شہاب علی تم کو ایک طلاق دیتا ہوں''اسکے بعد نیچے انہوں نے دو برابر کے نشان(=)ڈال دیئے ، انہوں نے میرا ذ ہن میرے بیٹے سے ملنے کی شرائط پر لگا کر رکھا اور میری شرائط مانی گئیں اس کے بعد میں نے اپنی بیوی کو جو سامنے موجود تھی زبانی یہ الفاظ کہے کہ میں اللہ کو حاظر ناظر جان کر تمہیں طلاق دیتا ہوں ، انکے وکیل نے کہا تین پوری کردو لیکن میں نے کہا شرعی اعتبار سے ایک ہی ہے(اسکی ریکارڈنگ موجود ہے) اسکے بعد وکیل نے فورا کہا کہ اب آپ طلاق کے پیپرز پر سائن کر دیں تاکہ سند رہے ۔ میری نیت ایک طلاق کی تھی اور میں نے اپنی نیت کے مطابق طلاق دی جس کا اللہ اور فرشتے گواہ ہیں۔ میرا کبھی بھی تین طلاق کا ارادہ نہیں رہا کیوں کہ مجھے واپس اپنی بیگم سے رجوع کرنا تھا۔ انہوں نے میرے ہاتھ میں طلاق کے پیپرز دیکھائے جن پر انہوں نے جہاں کہا میں نے وہاں سائن کر دئے۔ سب کو معلوم تھا کہ میں ایک طلاق دوں گا پھر بھی انہوں نے مجھ سے تین طلاق والے کاغذات پر سائن کر وائے جس کا مجھے بلکل پتا نہیں چلا کیوں کہ اس وقت میں بہت پریشانی میں تھا۔ اور میں نے یہ بات بھی پہلے ہی کہہ دی تھی کے اس معاملے میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑ ہوئی تو یہ طلاق نہیں مانی جائے گی لہذا یہ طلاق غلط طریقے سے لی گئی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس کا شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ اس مہینے 2023-09-18 کو جب میں نے اپنی بیگم سے رجوع کیا تو میں نے اپنی بیگم کو ٹیکسٹ میسج کئے اور فون پر بات کر کے ان کو کہا کہ میں آپ کو رجوع کر رہا ہوں۔ اب جب کہ میں نے رجوع کر لیا ہے تو میرے سسرال والے کہتے ہیں کہ آپ نے ایک طلاق نہیں بلکہ تین طلاق دی ہیں اور کہا کہ شریعت آپ کے مطابق نہیں چلے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ شریعت کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ وضاحت : مفتی صاحب دستخط کے وقت میں نے کا غذ نہیں پڑھا تھا اور میں نے ایک طلاق کی نیت سے طلاق کا دستخط کیا ہے اور میں نے سب کو بتا یا ہوا تھا ایک طلاق دوں گا۔

    سائل:سید نادر : کراچی۔

    عورت کا بیان

    ناگزیر وجوہات کی بنا پر جس کی تفصیلات درخواست ہذا کے ساتھ منسلک میں میں نے یعنی ( سلطانہ پروین بنت سید شباب علی حامل شناختی کارڈ نمبر 0-1870422-42401) نے اپنے سابق شوہر یعنی سید نا در علی ولد سید صفدر علی قومی شناختی کارڈ نمبر 42201-5742861-1 سے طلاق کا مطالبہ کیا جس پر انھوں نے مورخہ 2023-08-22 کو منسلک طلاق نامے میں مذکورہ گواہوں سمیت کئی عاقل و بالغ و مسلم گواہوں کی موجودگی جس میں نادر کے بڑے بھائی جناب سید انور علی اور بہنوئی جناب انیس بیگ اور انکے گھر کی خواتین بھی موجود تھیں، میں طلاق نامہ جس پر طلاق دینے سے متعلق جملے درج تھے اس پر پڑھنے کے بعد دستخط کیئے ، نیز اس میں تین جملوں کے بعد یہ بھی درج تھا کہ '' آج کے بعد تم میرے نکاح سے فارغ ہو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوجیسے چاہو زندگئ بسر کرو'' طلاق نامہ پڑھنے کی اور اس پر دستخط کرنے کی ویڈیو/ تصاویر بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ میری بہن کی جانب سے طلاق کے مطالبہ کے معاہدے پر جس پر طلاق لینے دینے سے متعلق جملے درج ہیں اس پر بھی دستخط کیئے اور بچے ریان علی سے متعلق مفاہمتی یاداشت جس پر طلاق دینے کا حوالہ ہے اس پر بھی دستخط کیے ا ور ایک بار زبان سے بھی طلاق دینے کا جملہ گواہان کی موجودگی میں ادا کیا۔ ان تمام عوامل کے باوجود سید نادر علی مندرجہ بالا مطلقہ خاتون واہل خانہ رشتہ داروں کو اپنے اور غیر متعلقہ موبائل نمبروں سے رابطہ کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے اور بات ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے جس سے مطلقہ خاتون اور اہل خانہ میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور جو سبب ہے ذہنی دباؤ اور ذہنی انتشار کا، نیز یہ کہ سید ناد رعلی مطلقہ خاتون اور اہل خانہ کے مبلغ ,200,000,RS ( رقم باون لاکھ روپے) کا دین دار ہے تو نادر علی یہ رقم لوٹانے کے بجائے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے جسکی وجہ سے ہم MENTAL TORTURE AGONY & کا شکار ہیں ان تمام عوامل کے باوجود مختلف دارلافتاء میں جھوٹ پر مبنی درخواستیں دے کر فتوے لے رہا ہے۔ جس میں وہ یہ جھوٹا بیان کر رہا ہے کہ میں نے ایک طلاق دی ہے تمام کاغذی ثبوت، گواہان، تصویر ویڈ یو اس بات کا ثبوت ہیں کہ سید نا در علی سراسر جھوٹ اور غلط بیانی 09-10-2023 سید زاہد علی ولد سید شباب علی موبائل نمبر 2231465-0300سے کام لے رہے ہیں اس بارے میں ہماری رہنمائی فرمادیجیئے۔

    سائل: سید زاہد علی: کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مستفسرہ میں عورت کو قضاءً تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ، جس کے بعد عورت ،مرد پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے۔عورت پر عدت لازم ہے اور اب رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں مگر یہ کہ حلالہ شرعیہ ہو۔

    تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد نے جب زبانی یہ کہا '' میں اللہ کو حاظر ناظر جان کر تمہیں طلاق دیتا ہوں'' تو یہ جملہ کہتے ہی ایک طلاق واقع ہوگئی ۔پھر اس کے بعد مرد نے طلاق نامہ پڑھ کر دستخط کئے جس کا ثبوت ویڈیو میں موجود ہے تو اس طلاق نامہ سے دو الگ طلاقیں مزید واقع ہوگئیں جو کل تین ہوئیں۔ ایک طلاق زبانی ، دوسری طلاق نامہ میں موجود اس جملے'' میں سید نادر علی ولد سید صفدر علی مسماۃ سلطانہ پروین بنت شہاب علی تم کو ایک طلاق دیتا ہوں''سے اور تیسری طلاق نامہ میں موجود اس جملے '' آج کے بعد تم میرے نکاح سے فارغ ہو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے میں خود مختار ہوجیسے چاہو زندگی بسر کرو''سے۔ البتہ اس آخری جملے سے بائن پڑے گی تو یوں کل تینوں بائنہ ہوجائیں گی۔

    طلاق نامہ میں موجود پہلے جملے '' میں سید نادر علی ولد سید صفدر علی مسماۃ سلطانہ پروین بنت شہاب علی تم کو ایک طلاق دیتا ہوں'' کے بعد دوسری اور تیسری لائن میں فقط برابر (=)کے دو نشان ڈال دینے سے دوسری اور تیسری طلاق نہ ہوگی، چونکہ یہ نشانات طلاق یا مفہوم طلاق پردلالت کے لئے موضوع نہیں تو ان نشانات کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی وقوعِ طلاق میں انکا کوئی دخل۔لہذا یہ لغو و باطل قرار پائیں گے۔جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : جبکہ اُن اشخاص نے اس سے طلاقِ زن کی درخواست کی اوراس کے جواب میں اس نے ''ہاں ہاں'' کہا طلاق اصلاً نہ ہوئی اگر چہ نیت طلاق سے ہی کہتا کہ لفظ''ہاں'' جب امر کے جواب میں واقع ہوتو اس کا حاصل وعدہ ہوتا ہے یعنی ہاں طلاق دے دُوں گا اور اس سے طلاق نہیں ہوسکتی اگر چہ نیت کرے کہ طلاق کے لئے نیت بے لفظ کافی نہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 12، ص 380، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    طلاق نامہ پڑھ کر اس پر دستخط کرنا اس کے مضمون سے رضامندی کی دلیل ہے لہذا مرد کا یہ قول معتبر نہ ہوگا کہ میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی مزید اس لئے بھی کہ طلاق نامہ حکمِ طلاق صریح میں ہے جو محتاجِ نیت نہیں۔ کما فی کتب العامہ القلم احد اللسانین۔

    طلاق نامہ ، طلاقِ مرسومہ مستبینہ کی ایک صورت ہے جسکا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی طلاق نامہ پر بلانیت دستخط کردے تب بھی طلاق واقع ہوجائے گی۔تمام کتب فقہ تبیین، بدائع ، شامی و ھندیہ وغیرہ میں یہی مذکور ہے۔ چناچہ ردالمحتارمیں علامہ ابن عابدین سید محمد امین المعروف شامی علیہ الر حمۃ فرماتے ہیں:’’ الکتابۃعلی نوعین مرسومۃ و غیر مرسومۃ و نعنی بالمرسومۃ ان یکون مصد را و معنونا مثل ما یکتب الی الغائب، وغیر مرسو مۃ ان لا یکون مصدرا و معنو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔غیر مرسومۃ ان نوی الطلاق یقع والا لا وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی اولم ینو۔ ترجمہ:’کتابت طلاق کی دو قسمیں ہیں (1)مر سومہ (2)غیر مرسومہ، اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق نامہ کا عنوان ہو اور تمہید ہو جیسے کسی غائب کو خط لکھاجاتا ہے ۔اورغیر مر سو مہ سے ہما ری مراد یہ ہے کہ جس پر طلاق نامہ کا عنوان نہ ہو،اور وجوہِ طلاق بھی بیان نہ کی جائیں، تحریر طلاق اگر غیرمرسومہ ہو اورشوہر نے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر نیت نہ کی تو طلاق واقع نہ ہو گی اورتحریر ِطلاق اگر مرسومہ ہے (جیساکہ مروجہ قانونی طلاق نامہ ) اس کے سبب طلاق واقع ہو جائے گی چاہے طلاق کی نیت ہویا نہ ہو۔(ردالمحتار،ج:4، ص: 455مکتبہ امدادیہ ملتان)

    ہاں اگر اس طلاق نامہ پر یوں ہوتا کہ طلاق دے چکا ، یا دے دی پھر یہ طلاق نامہ انشاء طلاق نہ ہوتا بلکہ سابقہ کی خبر ہوتا جبکہ یہاں طلاق نامہ پر جو الفاظ مذکور ہیں وہ محض انشاءِ طلاق پر دلالت کرتے ہیں لہذا یہ الگ سے مفیدِ طلاق ہونگے ، نیز اس لئے بھی کہ فقہاء نے فرمایا ''التاسس اولٰی یا التاسیس خیر من التاکید'' کہ تاسیس یعنی نئی طلاق بنانا تاکید سے بہتر ہے۔

    چناچہ سیدی اعلٰی حضرت ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: پس صورتِ مستفسرہ اگر شہادت معتمدہ سے بروجہ کافی تحریر خط ثابت ہوتو الفاظ مذکورہ سوال ایک سے تین تک جتنے خطوں میں لکھنے کا ثبوت تا بقائے عدت ہو اسی قدر طلاقیں وقتِ تحریر سے پڑنے کا حکم دیا جائے گا مثلاً شہادت مقبولہ سے صرف ایک خط ایک ثبوت ہُوا تو جس وقت اُس نے یہ خط لکھا اُس وقت س ایک طلاق مانیں گے اور اگر ایک خط عمرو کے نام اور دوسرا عدّت کے اندر اُنہیں الفاظ یا اُن کے مثل سے بکر یا عمرو ہی کے نام لکھنا ثابت ہوتو دواور اگر اسی طرح کے تین یا زائد ایک ہی شخص خواہ متعدد اشخاص کے نام لکھے ثابت ہوں تو تین کہ الفاظ مذکورہ کہ صریح ہیں ان میں ہر شخص کو لکھنا ہر بارکا لکھنا جدا طلاق سمجھا جائیگا۔ لما نصواعلیہ من ان التاسیس خیر من التاکید وان الصریح یلحق غیرہ۔ کیونکہ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ کلام سے نیافائدہ اخذکرنا پہلے ذکر شدہ فائدہ سے بہترہے اور یہ کہ صریح طلاق پہلی طلاق و لاحق ہوسکتی ہے۔ہاں اگر بعض خطوط میں الفاظ مذکور اور باقی میں اس طرح کا مضمون مسطور ہوکہ میں فلاں کو ایسا لکھ چکا ہُوں یا میں نے پہلے ہی لکھ دیا ہے، وامثال ذلک مما یتعین الاخبار عن ذاک السابق لایصلح للانشاء۔ اس کی مثل وُہ الفاظ جو پہلے خبر کے لئے متعین ہوں چکے تو وُہ الفاظ دوبارہ استعمال پر انشاء کی صلاحیت نہیں رکھتے۔تو ان باقی خطوط کی تحریر اُسی طلاق سابق کا ذکر قرار پائے گی جُدا طلاق نہ ٹھہرے گی، فی الھندیۃ عن الظہیریۃ لو طلقھا ثم قال لھا طلاق دادمت یقع اخری ولوقال طلاق دادہ است لایقع اخری،ہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے اگر خاوند نے طلاق دینے کے بعدکہا تجھے میں نے طلاق دی، تو یہ دوسری طلاق شمار ہوگی، اور اگر کہا طلاق دی گئی ہے، تو یہ دوسری نہ ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ جلد، 12 ص 425، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)

    اب جبکہ عورت کو تین طلاقیں ہوچکیں تو اب مرد کا اس عورت سے میل جول یا میل جول کی کوشش محض ناجائز ہی ہے۔لہذا مرد پر لازم ہے کہ عورت سے بلاضرورت رابطہ نہ کرے کہ وہ اس کے لئے اجنبیہ کی مثل ہے۔عورت عدت گزار کر جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔

    عدت کی تفصیل:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)

    دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 24 ربیع الاول 1445ھ/ 11 اکتوبر 2023