شوہر اور بیوی کا بیان طلاق،طلاق،طلاق میں فی زمانہ اضافت عرفیہ ہے
    تاریخ: 6 جنوری، 2026
    مشاہدات: 35
    حوالہ: 535

    سوال

    شوہر کا بیان

    بیوی سے پہلی بار 18 اکتوبر کو لڑائی ہوئی، جس میں ، میں نے اسے ڈرانے دھمکانے کے لئے صرف یہ الفاظ کہے طلاق، طلاق۔ یہ بات میری بیوی نے نہیں سنی کیونکہ اس وقت میں گالم گلوچ کررہا تھا اور وہ کمرے سے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے نکل گئی۔ میں حلف لیتا ہوں کہ میں نے یہ الفاظ بیوی کو طلاق دینے کے لئے نہیں کہے بلکہ ان الفاظ سے بیوی کو محض ڈرانا ،دھمکانا مقصود تھا ۔ پھر اس کےبعد 6 نومبر کو دوبارہ لڑائی ہوئی جس میں ،میں نے یہ الفاظ کہے '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' برائے مہربانی میرے مسئلہ میں غور کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق جواب عنایت فرمائیں ۔

    شوہر:محمد حفیظ دانش: کراچی۔

    بیوی کا بیان

    میرا نام سیدہ حرا ذوالفقار ہے میرے شوہرنے 18 اکتوبر کو لڑائی کے دوران بقول انکے دو بار یہ الفاظ کہے طلاق ، طلاق۔ لیکن میں نے نہیں سنا کیونکہ وہ گالم گلوچ کررہے تھے اور میں کانوں پر ہاتھ رکھ کر نکل گئی ۔اور لڑائی اس بات پر تھی کہ میں نے کہا کہ آپ کے گھر والے میرے کمرے میں نوک کرکے آئیں، اسی بات پر بڑھتے بڑھتے وہ گالیوں پر اتر آئے۔ اسکے بعد 7 نومبر و دوبارہ لڑائی ہوئی، جس میں انہوں نے میر سامنے یہ الفاظ کہے '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' برائے مہربانی ہمارے مسئلہ میں غور کرکے شرعی اصولوں کے مطابق رہنمائی کیجیےتا کہ ہم ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟

    بیوی :سیدہ حرا ذوالفقار: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں عورت کو قضاءً تین طلاقیں پڑ گئیں۔ پہلی دو طلاقیں ان الفاظوں '' طلاق طلاق'' سے اور تیسری '' میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' سے ۔جبکہ آخری بار ان الفاظ ''میں تمہیں طلاق دیتا ہوں'' کا تکرار لغو و بے کار گیا۔یاد رہے طلاق کے لئے بیوی کا سننا ضروری نہیں ہے بلکہ


    اگر کسی شخص نے بیوی کی عدم موجودگی میں یا کسی بیابان میں کھڑے ہوکر اپنی بیوی کو طلاق دی تو بھی ہوجائے گی۔

    تفصیل اس امر کی یہ ہے کہ طلاق کے لئے ایقاع یعنی طلاق کا واقع کرنا ضروری ہے اور ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں اور وقوع طلاق کے لیے طلاق کی نسبت لفظوں میں یا نیت میں عورت کی طرف ہونا ضروری و لازم ہے ، وگرنہ محض لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ و جد الممتار میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہے چناچہ آپ رقمطراز ہیں :وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد۔ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)

    پھر اضافت لفظوں میں ہوگی یا نیت میں ، اگر لفظوں میں ہو تو اسکی تین صورتیں ہیں :

    1:شوہر کے کلام میں صراحت پائی جائے، جیسے انت طالق ، یا طلقتک

    2:طلاق کے الفاظ ایسے کلام کے جواب بولے جائیں جس کلام میں اضافت موجود تھی ۔کیونکہ سوال میں جواب کا اعادہ ہوتا ہے۔مثلاً بیوی کہے''طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔'' تو جواب میں خاوند کہے''میں نے طلاق دی'' تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقیں بیوی کو پڑیں گی۔

    3:خاوند کے کلام میں اضافت صراحتا موجود نہ ہو، اور نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر واقع ہوا ہو، لیکن عرف میں اس لفظ کو بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا گیا ہو کہ جب بھی وہ لفظ بولا جائے تو اس لفظ سے عورت کوطلاق دینا ہی سمجھا جاتا ہو ۔

    یہاں شوہر کے کلام میں پہلی دو صورتیں موجود نہیں ، اور تیسری کے وجود میں شک نہیں کیونکہ آج کل ہمارے عرف میں عورت کو اضافتِ لفظی صریحی کے ذریعے طلاق دینے کا رواج نادر ہے کہ شوہر بیوی کو طلاق دینے کہ لئے محض یہ الفاظ '' طلاق، طلاق، طلاق '' بول دیتا ہے، تو بلاشبہ ان الفاظ سے عرفاً اضافت کا ثبوت ہوجائے گا اور عدد کے اعتبار سے طلاق واقع ہوجائے گی۔

    اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے فتاوٰی بنام ''وسیم الفتاوٰی '' میں فرماتے ہیں:آج کل شوہر کی طرف سے بیوی کو اضافتِ لفظی کے ساتھ زبانی طور پرطلاق دینے کا رواج بہت ہی کم ہے۔اکثر طور پر زبانی طلاق بغیر اضافت کے فقط طلاق، طلاق، طلاق کے الفاظ کے ساتھ دی جاتی ہےلہذا یہاں عرفاً اضافت ثابت مانی جائے گی۔وھو لا یخفٰی علی من یعرف عرف زمانہ۔

    امامِ اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ خاوند کے کلام میں اضافت کی تیسری مذکور نہ ہو، اور نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر ہو، لیکن عرف میں اس لفظ کو بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا گیا ہو کہ جب دینا ہی سمجھا جائے۔ مثلاً کوئی کہے''طلاق مجھ پرلازم ہوگی''یا ''حرام مجھ پر لازم ہوگا'' یا ''مجھ پر طلاق ہے'' یا ''مجھ پر حرام ہے'' جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہے کہ یہ الفاظ عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال میں مشہور ہوچکے ہیں حتی کہ عرف والے طلاق کے لئے دوسرے الفاظ سے واقف نہیں، اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یہاں پر اگر اگرچہ لفظوں میں اضافت مذکور نہیں، لیکن عرفاً اضافت ثابت ہے، اور عرفاً جو چیز معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے تو یہاں اضافت پائی گئی تو وقوع طلاق کا حکم نیت کے بغیر کردیا جائےگا۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 349)

    اب امام اہلسنت کی اس مذکورہ عبارت اور دیگر فقہاء کی عبارت پر غور کیا جائے کہ شوہر کے اس قول '' طلاق مجھ پر لازم ہوگی'' سے طلاق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس میں طلاق کی نسبت مرد اپنی طرف کررہا ہے حالانکہ طلاق کا محل عورت ہے نہ کہ مرد ۔ اسی طرح دیگر الفاظ '' حرام مجھ پر لازم ہوگا'' یا '' مجھ پر طلاق'' اور '' مجھ پر حرام ہے'' سے طلاق نہیں ہونی چاہیے لیکن فقہاءِ کرام نے صراحتا نسبت نہ ہونے کے باوجود طلاق کا حکم دیا ہےکیونکہ انکے زمانے میں لوگوں کے درمیان ان الفاظ سے طلاق دینے کا رواج ہوگیا تھا جیساکہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ لوگوں کو ان کے علاوہ طلاق کے الفاظ کے بارے میں علم نہیں تھا اسی طرح اس زمانہ میں بھی لوگ اضافت و نسبت کے بارے میں بہت کم واقف ہیں اور عام طور پر لڑائی جھگڑےمیں زبانی طلاق میں نسبت یا اضافت کا خیال ہی نہیں آتا بلکہ اس وقت غصہ اور بھڑاس نکالنے کے لئے بیوی کو طلاق ، طلاق، طلاق اور اسکے ساتھ ساتھ جو منہ میں آتا ہے مغلظات بکتا چلا جاتا ہے ایسے جملوں کو بنانے یا سنوانے کا بھی کوئی ہوش نہیں ہوتا بس یہ خیال ہوتا ہے کہ جتنی جلدی ہوسکے بیوی کو منظر سے ہٹا دیا جاتا ہےیہ سب باتیں اہلِ علم حضرات بخوبی جانتے ہیں۔اور فی زمانہ لوگ اکثر طور پر زبانی طلاق میں بیوی کو ''طلاق، طلاق، طلاق '' ہی بولتے ہیں لہذا ان الفاظ سے بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور وہ حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7654 غیر مطبوعہ)

    پھر اگربرسبیلِ تنزل ان الفاظ '' طلاق ، طلاق، طلاق '' کو اضافت لفظیہ والی اقسام میں شمار نہ کیا جائے تو بھی مذکورہ فی السوال صورت میں عورت کو طلاق ہوجائے گی۔

    کیونکہ اضافت اگر لفظا موجود نہ ہو تو وقوعِ طلاق کے لئے نیت میں ہونا لازم و ضروری۔ پھر نیّت میں اضافت کا قضاءً حکم دوقسم پر ہے:

    1: اوّل یہ ہے کہ ایسی صورت ہو جہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے محسوس کیا جائے کہ خاوند نے اضافت کی نیت کی ہے، اور یہ مقام کے لحاظ سے واضح ہوسکے، تو ایسے مقام پر طلاق کے وقوع کاحکم کیا جائے گا ۔جب تک خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی۔اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی، کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصوّر کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے۔

    2: دوسری قسم یہ ہے کہ وہاں یہ قرینہ نہ پایا جائے، تو وہاں طلاق کا واقع ہونا خاوند کے اس بیان پر موقوف ہوگا کہ میں نے بیوی کی نیت کی

    ہے لہذا وہاں نیت میں بیوی مراد لینے کا اقرار ہوتو طلاق ہوگی ورنہ نہیں، کیونکہ محض شک کی بنا پر طلاق کے حکم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔(ماخوذ از فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق جلد 12 ص 350 تا 358)

    اور یہاں بعینہ پہلی صورت موجود کہیہ الفاظ دورانِ جھگڑا کہےجو کہ نیتِ اضافت پر قرینہ ہے، اور پھر مرد خود اس بات کا مقر ہے کہ ان الفاظ سے بیوی ہی مراد تھی یعنی یہ الفاظ بیوی کو ہی کہے، البتہ طلاق مراد نہ لی بلکہ محض ڈرانا ، دھمکانا مقصود تھا۔تو اس قسمِ اول کے ثبوت کو اتنا ہی کافی و وافی کہ شوہر یہ کہے اردت امراتی(یعنی بیوی مراد تھی)یہ ضروری نہیں ان الفاظِ صریحہ میں جو غیر محتاجہ الی النیۃ ہیں الگ سے طلاق کی نیت کرے۔

    سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں :پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاءً ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا۔( فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)

    بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہترجمہ: کسی نے کہا طالق، تو پوچھا گیا کہ تو نے کس مقصد سے کہا، اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو (طلاق دینے )کے مقصد سے کہا ہے، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔( بحر الرائق شرح کنز الدقائق باب الفاظ الطلاق جلد 3 ص273)

    خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد عورت مرد کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ، طلاق واقع ہوتے ہی عدت شروع ہو چکی ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ: 228)

    دووسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)

    اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتكترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    نوٹ: یہ بات یاد رکھیں کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا شریعت میں سخت گناہ ہے،قرآنِ پاک کےبتائےہوئےطریقےکےخلاف،بلکہ قرآن پاک کےساتھ ایک طرح کا کھیل اور مذاق ہے،جیساکہ ایک حدیث اس بات کی غمازی کرتی ہے أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟ترجمہ: رسول اللہﷺکوایک شخص کےمتعلق یہ اطلاع ملی کہ اس نےاپنی بیوی کوایک ساتھ تین طلاق دےدی ہیں،توآپ ﷺسخت غصہ کی حالت میں کھڑےہوگئےاورارشادفرمایا کہ:ابھی جب کہ میں تمہارےدرمیان موجودہوں،کیا کتاب اللہ سےکھیلاجائےگا؟ (یعنی ایک ساتھ تین طلاق دینا قرآنِ پاک کے بتائے ہوئے طریقہٴ طلاق سے کھیل ہے)اس وقت ایک صحابی کھڑےہوگئے،اورعرض کیا کہ:یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس آدمی کوقتل ہی نہ کردوں،جس نےیہ حرکت کی ہے؟(سنن نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعۃ ومافیھا حدیث نمبر،3401)لیکن اگر کسی نے ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی تو وہ قرآن و حدیث و اجماع امت کے مطاق واقع ہوجائیگی۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 14 ربیع الثانی 1443 ھ/20 نومبر 2021 ء