سوال
ہمارے شہر گولاچی میں ایک قدیمی مسجد ہے جو کہ نمازیوں کی تعداد مسجد کے نمازیوں کے لئے ناکافی ہوچکی ہے لہذا ہم نے اسے ازسرِ نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ تین منزلہ عمارت پر مشتمل ہوگی، عارضی طور پر ہم نمازِ پنجگانہ ساتھ ملحق مدرسہ کی جگہ پر ادا کررہے ہیں، لیکن جمعہ کے لئے مدرسہ کی جگہ ناکافی ہے کیونکہ جمعہ میں 2000 تک افراد شرکت کرتے ہیں ، سو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی اور جگہ پر جہاں نمازیں نہیں ہوتی جمعہ کا قیام کرسکتے ہیں یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:عبدالسلیم میمن:گولاچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جمعہ کی ادائیگی کے لئے مصر یا فنائے مصر شرط ہے ، مسجد یا ایسی جگہ کی کوئی شرط نہیں کہ جہاں نمازِ پنجگانہ کی ادائیگی لازم و ضروری ہے، لہذامقرر کردہ جگہ پر نمازِ جمعہ بے شک و شبہ ادا ہوجائے گی۔
محقق علی الاطلاق علامہ ابن ہمام ہدایہ کی عبارت (فی مصلی المصر) کے تحت رقمطراز ہیں: والحكم غير مقصور على المصلى بل تجوز في جميع أفنية المصر : أي وإن لم يكن في مصلى فيها۔ترجمہ: یہاں حکم مصلے(جہاں پنچ وقتہ نماز ہوتی ہو۔) ہی پر مقصور نہیں ہے بلکہ پورے فنائے شہر میں جمعہ کی ادائیگی جائز ہے اگر چہ اُس جگہ میں کوئی جائے نماز نہ بنی ہو۔(فتح القدير على الهداية ، کتاب الصلاۃ،ج02،ص51 ،دار الفکر، لبنان)
سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں فرماتے ہیں: جمعہ کے لئے شہر یا فنائے شہر کے سوا نہ مسجد شرط ہے نہ بنا، مکان میں بھی ہوسکتا ہے میدان میں بھی ہوسکتا ہے اذن عام درکار ہے ۔(فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 444، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ” جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں، مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے، لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ، ج 08، ص 460، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہيب رضا قادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 15 رجب المرجب 1447ھ/ 05 جنوری2026 ء