طلاق دینا جائز ہے یا نہیں؟
    تاریخ: 10 جنوری، 2026
    مشاہدات: 42
    حوالہ: 561

    سوال

    میرے شادی کے وقت سسرال والوں نے گھر لینے میں میری سپورٹ کی ، سسرال والوں نے اور بیوی نے کل ملاکر 345000روپے لگائے۔یہ رقم خود سپورٹ کے لئے دی نہ نکاح کے وقت کچھ بولا اور نہ لکھوایا نہ میں نے تقاضا کیا بلکہ انہوں نےخوددے دیئے۔ اب میرے بچے بھی ہیں۔ سالے آکر مجھ سے لڑتے ہیں کہ بچوں کو لو اور گھر خالی کرو یہ ہمارا گھر ہے ۔انکے دل میں لالچ آگئی ہے کیونکہ اس وقت اس گھر کی مالیت 17 لاکھ روپے ہوچکی ہے۔5 سال سے یہ سب چل رہاہے۔ میری بیوی کی نفسیاتی مریضہ ہے جسکا انہوں نے مجھے شادی سے پہلے نہیں بتایا تھا۔ اسکو دورے پڑتے ہیں بچوں کی دیکھ بھال بھی میں ہی کرتا ہوں ۔ گھر کا کھانا بنانا۔ بچوں کو اسکول چھوڑناسب کچھ ۔بیوی کا کہنا ہے کہ میں شادی شدہ زندگی نہیں گزار سکتی۔مجھے طلاق دے دیں۔ اسکے گھر والے بھی طلاق مانگنے پر مصر ہیں۔میں چاہتا ہوں کی جو رقم بیوی اور اسکے گھر والوں نے سپورٹ کے لئے مختلف مدات میں لگائی وہ انہیں واپس کردوں اور اسے طلاق دے دوں ۔ کیا مجھ پر اسکا گناہ تو نہیں ہوگا برائے مہربانی شرعی فتوٰی لکھ دیں۔

    سائل:عا مر علی: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سسرال والوں نے پیسے دیتے وقت واپسی کی شرط کی تھی تو آپ پر یہ رقم لوٹانا ضروری تھی۔اگر انہوں نے آپکو گفٹ کے طور پر دیئے تو آپ پر لوٹانا ضروری نہیں ہے۔

    رہا طلاق کا مسئلہ تو یاد رہے بلاوجہ شرعی ،طلاق دینا ممنوع ہے۔کیونکہ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى الطَّلَاقُ»ترجمہ:حضرت عبداللہ ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالٰی کے نزدیک حرام اشیاء میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔(سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق، باب کراھیۃ الطلاق حدیث نمبر 2178)

    لیکن بعض صورتوں میں شریعت کی طرف سے طلاق کی اجازت ہے ، لہذا اگر ایسی ناگفتہ بہ حالت ہےکہ بغیر کسی معقول وجہ کے بیوی اور اسکے گھر والے طلاق کا مطالبہ کررہے ہیں اور منانے کی کوئی ترکیب بھی کارگر نہیں ہورہی تو شرعی طریقے سے طلاق دی جائے ،طلاق کا گناہ آپ پر نہیں ہوگا۔

    طلاق کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جس طہر(پاکی کے ایام جو حیض کے علاوہ ہوتے ہیں اور اُن دنو ں میں تعلق زوجین حلال ہوتا ہے) میں تعلق قائم نہیں کیا اس میں ایک طلاق دے ، مثلاوہ اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے ایک طلاق دی، اس طرح وہ عورت اسکے نکاح سے من وجہ نکل جائےگی اور عدت میں چلی جائےگی ، اور جیسے ہی عدت ختم ہوگی ویسے ہی آپکے نکاح سے مکمل نکل جائے گی ۔ اب اگر بعد میں دوبارہ ملنا چاہیں تو صرف نیا نکاح اور نیا حق مہر طے کرنا ہوگا۔یہاں یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ طلاق ایک دی جائے یا دو یا تین، عورت سے رشتہ ہر صورت میں ختم ہوگا مگرایک یا دو طلاقوں کے بعد اسی عورت سے دوبارہ نکاح جائز ہوگا مگر تین کے بعد دوبارہ نکاح بغیر حلالے کے نہیں ہوسکتا ، اور چونکہ بکثرت یہ مسئلہ مفتیان کرام کے پاس لایا جاتا ہے کہ مرد نے اپنی عورت کو تین طلاقیں دیدی پھر خیال آیا کے بچوں کی خاطر گھر بسایا جائے ، مگر اس وقت کیا کیا جائے ،جب اپنے ہی ہاتھوں سے آشیانہ جلادیاجائے،لہذا بہتر یہی ہے کہ مرد اگر بحالت مجبوری طلاق دینا چاہے تو فقط ایک طلاق دے، اسی میں زوجین کی بھلائی ہے، ہوسکتا ہے کوئی سمجھوتہ ہوجائے اور زوجین کے درمیان پھر سے میلان پیدا ہوجائے، اور دوبارہ نکاح کی ترکیب بن جائے، کیونکہ ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع یا نکاح جدید کا سلسلہ ممکن ہے جبکہ تین طلاقوں کے بعد نکاح ممکن نہیں سوائے یہ کہ حلالہ شرعی کیا جائے۔ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض (اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے)اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء:ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)

    دوسری جگہ ارشاد ہے:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28 رجب المرجب 1441 ھ/24 مارچ 2020 ء