شیئرز کی خرید و فروخت میں ٹی پلس ٹو کا حکم

    shares ki khareed o farokht mein t plus two ka hukm

    تاریخ: 6 جولائی، 2026
    مشاہدات: 31
    حوالہ: 1579

    سوال

    1:مارکیٹ میں دو طرح کے شیئرز چل رہے ہیں ، شرعیہ اور نان شرعیہ۔ کیا ان دونوں میں یا کسی ایک میں سیل پرچیز کے ذریعے نفع کمانا جائز ہے؟

    2: اسٹاک مارکیٹ میں T+2 ہوتا ہے یعنی اگر آپ نے شیئر پیر کو خریدا ہے تو وہ بدھ کو آپ کے نام ہوگا اب سوال یہ ہے کہ نام ہونے سے پہلے سیل کرنا کیسا ہے؟

    سائل:رافع :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اسٹاک مارکیٹ کے وہ شیئرز جو شرعیہ کمپلائن ہوتے ہیں اکثر علماء کے نزدیک انکی خرید و فروخت جائز ہے کیونکہ ان شیئرز کی بنیاد شرعی اصولوں پر ہوتی ہے جس کے تحت ملنے والا نفع حلال ہوتا ہے۔ جبکہ نان شرعیہ شیئرز سے مراد وہ ہیں جس میں حصص کی بنیاد ایسی اشیاء پر ہوتی ہے جو شرعاً ممنوع و حرام ہوتے ہیں مثلاً شراب وغیرہ لہذا ایسے شیئرز کی خرید و فروخت ناجائز و حرام ہے۔

    2:اسٹاک مارکیٹ میں T+2 کے ساتھ بیع کرنا جائز ہے یعنی اگر کسی نے شیئرز خرید لئے لیکن اب تک CDC میں اسکے نام رجسٹرڈ نہیں ہوئے تو بھی آگے بیچ سکتا ہے شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ (جبکہ شیئرز شرعیہ کمپلائن ہوں۔)

    اسکی تفصیل یہ ہے کہ

    شیئرز کا CDC میں اندراج در اصل قانونی ملکیت یا ملکیت کا ٹائٹل ہے ، شرعا ً بیع کے جائز ہونے کے لئے قانونی دستاویز میں کسی شخص کے نام ملکیت کا اندراج ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ صرف عقدِ بیع اور قبضہ ضروری ہے اگرچہ حکمی ہی کیوں نہ ہو ۔ اور T+2میں عقدِ بیع یعنی سیل کنٹریکٹ اور قبضہ دونوں ہوجاتے ہیں سو اگر ملکیت کا ٹائٹل بائع کے نام نہ بھی ہو لیکن وہ شخص شرعاًاسکا مالک ہو اور اس پر قبضہ رکھتا ہوتو اسکو آگے فروخت کرسکتا ہے۔

    اس بات کی تفصیل کہ اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والی سیل /پرچیز کے ذریعے ملکیت اور قبضہ حاصل ہوجاتا ہے یہ ہے کہ جب بائع اور مشتری کے مابین ایجاب و قبول ہوجائے اور بیع کے صحیح ہونے کی تمام شرائط بھی پائی جائیں تو شرعاً مبیع بائع کی ملکیت سے نکل کر مشتری کی ملکیت میں

    داخل ہوجاتا ہے۔

    جبکہ ان شیئر میں قبضہ حکمی بھی ہوجاتا ہے کیونکہ قبضے میں دو چیزیں لازم ہیں۔

    1: مبیع مشتری کے ضمان میں ہو۔

    2: عقد ختم ہونے کا دھوکہ نہ ہو۔

    اوریہ بات واضح ہے کہ شیئرز مارکیٹ میں محض عقد سے ہی وہ شیئرز خریدار کے ضمان میں آجاتے ہیں اور خریدار جس طرح قیمت کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ برداشت کررہا ہوتا ہے یونہی وہ کمپنی اور اس کے اثاثوں کے نقصان کا ذمہ بھی اٹھاتا ہے ۔

    یونہی جب عقد ہوجائے تو اسکے ختم ہونے کا دھوکہ بھی نہیں ہے کیونکہ اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین اور عرف کے مطابق جب ایک مرتبہ عقد تام ہوجائے تو فریقین اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے بلکہ فروخت کرنے والے پر لازم ہے کہ خریدار کے نام شیئرز کا CDC میں اندراج کرائے ناکامی کی صورت میں CDC اس پر بھاری جرمانہ عائد کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ شیئرز کا خریدار کے ضمان میں آجانا ، عقد ختم ہونے کے دھوکے کا ختم ہوجانا ہی قبضہ ہے، البتہ اسے قبضہ حقیقی نہیں کہیں ہے بلکہ یہ قبضہ حکمی ہے کیونکہ شیئرز میں قبضہ حقیقی ممکن نہیں ہوتا۔ جیساکہ ہدایہ میں ہے:لأن تسليم المشاع وحده لا يتصور، والتخلية اعتبرت تسليما لوقوعه تمكينا وهو الفعل الذي يحصل به التمكن ولا تمكن في المشاع۔ترجمہ: کیونکہ مشاع (یعنی ایسی چیز جو دو یا زیادہ افراد کے درمیان مشترک ہو) کا اکیلے طور پرقبضہ دینا ممکن نہیں ہوتا، اور تخلیہ (یعنی کسی کو چیز کے استعمال کے لیے چھوڑ دینا) کو قبضے کے قائم مقام اس لیے سمجھا گیا ہے کہ یہ تمکین (یعنی تصرف و استعمال کی قدرت دینا) کے طور پر واقع ہوتا ہے یعنی وہ فعل جس کے ذریعے قبضہ حاصل ہوجائے جبکہ مشاع میں حقیقی(قبضہ کی) قدرت ممکن نہیں ۔(ہدایہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ ، جلد 3 ص 238)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: شوال المکرم 1446ھ/ 19 اپریل2025 ء