rishtedaron se qata talluqi karna kaisa
سوال
گزارش یہ ہے کہ ہم چار بھائی ہیں اور ایک بہن سب کے سب شادی شدہ ہیں ۔ میری بہن کے محلے میں ایک فیملی آئی جس کے میری بہن سے بہت اچھے تعلقات ہوگئے تھے اور بہن کے سسرال والوں نے بہن نے ان کے گھر آنا جانا شروع کردیا تھا ۔ ایک دن ہمیں ہماری بہن کے جیٹھ نے بتایا کہ آپکی بہن کے اسکی سہیلی (جو فیملی نئی آئی تھی ) کے شوہر سے ناجائز تعلقات ہیں اور انکے پاس بہن کے ایس ایم ایس اور واٹس ایپ کا ڈیٹا پرنٹ آؤٹ کی صورت میں موجود تھا۔جب میری بہن سے اسکے شوہر کے سامنے یہ سب پوچھا گیا تو کچھ دیر توقف کے بعد اس نے سب کچھ سچ بتادیا کہ ایسا ہی ہے ۔کہ میرے اس سے دو سال سے تعلقات ہیں ۔اس دوران دونوں کئی بار زنا کر چکے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔اس واقعے کے دو ماہ بعد ہماری بہن گھر آئی اسکو گھر کی سب خواتین نے بشمول والدہ کے خوش آمدید کہا جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔لیکن میں اور میری بیوی اس سے نہیں ملے اور اسکے بعد بھی آتی رہی لیکن ہم نہیں ملے دیگر بھائی اوالدہ اوراور بھائیوں کی بیویاں کہتی ہیں کہ تمہاری بہن ہے اس سے مل لو اسکا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنی بہن سے نہ مل کر صحیح کررہا ہوں یا نہیں؟ کیا شرعی لحاظ سے اس طرح ملنا جائز ہے یا نہیں ؟
جوبھابھیاں اور بھائی اور والدہ اس سے ملتی ہیں انکا ملنا جائز ہے یا نہیں ؟
سائل: زید بن رشید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
قطع تعلقی یعنی رشتہ داروں عزیزوں سے تعلقات ختم کرنے کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر رشتہ داروں میں سے کوئی خلاف شرع کام کرتا نظر آئے یا ثابت ہوجائے کہ اس نے خلاف شرع کام کیا ہے تو اسکو سب سے پہلے پیار سے سمجھایا جائے کہ یہ گناہ کا کام ہے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی نافرمانی ہے ۔ اگر اس سمجھانے سے ہی معاملہ حل ہوجائے اور وہ آئندہ اس کام کو انجام نہ دینے کا عزم مصمم (پختہ ارادہ) کرلے اور اللہ کی بارگاہ میں اس گناہ کی بصدق قلب توبہ کرلے تو ایسے شخص سے تعلق توڑنا سخت گناہ ہے ،کیونکہ شریعت نے جو کام آپ کے ذمے کیا وہ آپ نے سرانجام دے دیا جس کی وجہ سے آپ کا ذمہ ختم ہوا اور اس نے توبہ کرلی جس کی وجہ سے وہ دنیا میں عام مسلمانوں کی طرح ہوگیا ہے۔
لیکن اگر کوئی بار بار سمجھانے کے باوجود اس گناہ کو ترک نہ کرے۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ سوشل بائیکاٹ(تعلقات ختم کرنے کی) کی وجہ سے وہ اس گناہ سے رک جائے گا توفرض ہے کہ ایسے شخص سے تعلقات ختم کر لیئے جائیں حتیٰ کہ وہ راہ راست پر آجائے۔
لیکن اگر تعلقات ختم کرنے کی وجہ سے وہ اس گناہ پر مزید جری ہوجاتا ہے یاتعلقات ختم کرنے کے باوجود وہ گناہ نہیں چھوڑتا تو ایسے شخص سے تعلقات منقطع نہ کریں لیکن میل جول بھی نہ رکھیں۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو بس سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے دور رہیں۔یہ خلاصہ ہے تعلقات رکھنے یا نہ رکھنے کا۔
اب اگر آپکی بہن اس فعل بد سے توبہ کرچکی ہیں اور اس شخص سے،اسکی بیوی سے ،اسکے گھر والوں سے مکمل تعلق ختم کرچکی ہیں تو آپ کے لیے ان سے تعلقات ختم کرنا جائز نہیں ہے، تعلقات ختم رکھنے کی صورت میں آپ گناہ گار ہوں گے۔لیکن اگر ابھی تک آپکی بہن نے اس شخص سے، اسکی بیوی سے ،اسکے گھر والوں سے مکمل تعلق ختم نہیں کیا بلکہ ان کے ہاں آنا جانا ہے۔ اور آپ کے تعلقات قطع کرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تو آپ تعلق ختم نہ کریں بلکہ تعلق رکھیں لیکن میل جول نہ رکھیں یعنی ملاقات ہو جائے تو بس سلام دعا کے بعد ایک دوسرے سے دور رہیں۔تاکہ آپ قطع تعلق کے گناہ کے حقدار نہ بن جائیں ۔
اس سلسلے میں متفق علیہ حدیث پاک ملاحظہ فرمایئے حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:خلق الله الخلق. فلما فرغ منه، قامت الرحم، فاخذت، بحقوالرحمن، فقال له: مه قالت: هذا مقام العائذ بک من القطيعۃ۔ قال: الا ترضين ان اصل من وصلک، واقطع من قطعک؟ قالت: بلی يارب! قال: فذاک’’ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو ’’رحم‘‘ نے کھڑے ہوکر رحمن (رحم کرنے والے) کے دامن میں پناہ لی۔ اللہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ رحم نے عرض کیا: میں قطع رحمی (رشتہ داری ختم کرنے) سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا کہ تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا: ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر ایسا ہی ہوگا‘‘۔(صحيح البخاری، کتاب التفسير، حديث نمبر:4830، صحيح المسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، حديث نمبر:2554)
ایک اور متفق علیہ حدیث رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھئے: حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:لايدخل الجنة قاطع ترجمہ: قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔( صحيح البخاری، کتاب الادب، حديث نمبر5984، صحيح مسلم، کتاب البروالصلة والادب، حديث نمبر2556)
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ومن كان يؤمن بًالله واليوم الآخر فليصل رحمه:ترجمہ: جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہئے ۔ (صحيح البخاري حدیث نمبر6138)یہی حکم آپکے بھائیوں ،بھابھیوں اور والدہ کے لیے بھی ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 صفر المظفر 1440 ھ/30اکتوبر 2018 ء