تو آزاد ہے كا شرعی حکم
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 619

    سوال

    بیوی کا بیان

    میرا اور میرے شوہر کا جھگڑا ہوا ، میرےشوہر نے مجھے جو الفاظ بولے وہ یہ ہیں :میں تمہیں طلاق نہیں دونگا،تم آزاد ہو کہیں بھی جاؤ اپنی مرضی سے ۔ میں نے کہا یا تو مجھے چھوڑ دو یا جھگڑا کرنا چھوڑ دو ۔اور وہ اکثر آزاد لفظ استعمال کرتے ہیں ،جیساکہ اپنی بہن کو کپڑے دینے ہوں میں پوچھوں تو کہتے ہیں کہ تم آزاد ہو اپنی مرضی سے اپنے فیصلے لے سکتی ہو ۔وغیرہ

    سائلہ: صبا

    شوہر کا بیان

    میں نے لڑائی میں اپنی بیوی سے کہا کہ آپ آزاد ہو ، میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ آپ کہیں بھی جانا چاہو جا سکتی ہو ، اپنی امی کے گھر جانا چاہو تو جاؤ لیکن میں آپکو طلاق نہیں دونگا۔ایسا میں نے چار سے پانچ بار کہا ہے کہ آپ پر میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے آپ اپنے فیصلے لینے میں خود مختار اور آزاد ہو ۔ آپ طلاق کے پیپر بھیجو گی تو میں سائن کردونگا ۔

    سائل: نوید علی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت حال اگر سچ ہے تو عورت کو مرد کی طرف سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ اگرطلاق صریح الفاظ کے ذریعے ہو تو بغیر نیت کے واقع ہوجاتی ہے اور اگر کنایہ کے الفاظ ہوں تو طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق ہویا حالت غصہ میں کہا ہو یعنی مرد کی حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے،یہاں بھی مرد کے الفاظ تم آزاد ہو الفاظ کنایہ میں سے ہے ، جس کے لیے بھی طلاق کی نیت یا حالت(مذاکرہ طلاق یا حالت غصہ)ضروری و لازم ۔حالانکہ یہاں صراحتا اس بات پر دلیل موجود کہ طلاق مراد نہیں بلکہ اسکاخلاف مراد، جیساکہ مرد کے قول ''آپ آزاد ہو ، میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ آپ کہیں بھی جانا چاہو جا سکتی ہو ، اپنی امی کے گھر جانا چاہو تو جاؤ لیکن میں آپکو طلاق نہیں دونگا'' سے ظاہر و باہر ۔ لہذا طلاق اصلا واقع نہ ہوگی۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:(كِنَايَتُهُ) عِنْدَ الْفُقَهَاءِ (مَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ) أَيْ الطَّلَاقِ (وَاحْتَمَلَهُ) وَغَيْرَهُ (فَ) الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا) قَضَاءً (إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ) وَهِيَ حَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ أَوْ الْغَضَبِ :ترجمہ:فقہاء کے نزدیک کنایہ وہ الفاظ ہیں جن کو طلاق کے لیے وضع نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ طلاق اور اسکے علاوہ کا بھی احتمال رکھیں ان الفاظ سے نیت یا دلالت حال کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوگی اور دلالت حال مذاکرہ طلاق اور غصے کی حالت ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار باب الکنایات ،جلد 3ص300 الشاملہ)

    اسی میں ہے :نحواخرجی یحتمل رداونحوخلیۃ یصلح سبا ونحو انت حرۃ لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضاای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال :ترجمہ: ''نکل جا'' جیسے الفاظ رد وجواب سوال طلاق کا احتمال رکھتے ہیں، خلیہ۔ جیسے الفاظ گالی ہونے کااحتمال رکھتے ہیں، اور '' تو آزاد ہے'' جیسے الفاط سب ودشنام اور جواب ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، توحالت رضامندی میں یعنی غصہ کی حالت میں نہ ہو اور مذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو یہ تینوں قسم کے کنایا ت کی تاثیر نیت پر موقوف ہوگی، کیونکہ نیت اور عدم نیت کا احتمال ہے۔(ایضا)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنہن مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 ربیع الثانی 1440 ھ/17 دسمبر 2018 ء