تم اپنے گھر چلی جاؤکا حکم
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 43
    حوالہ: 620

    سوال

    4 یا 5 ستمبر 2022 کو ہمارا جھگڑا ہوا تو میں نے غصے میں آگر کہا تم اپنے گھر چلی جاؤ ،آج سے تم میرے لئے حرام ہو۔ اور یہ کہہ کر میں چلا گیا اور جب واپس آیا تو میری بیوی نے معافی مانگی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے اسکے بعد ہم میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنے لگے اور میاں بیوی والے تعلقات بھی قائم ہوتے رہے۔(پوچھنے پر معلوم ہوا کہ پہلے جملے تم اپنے گھر چلی جاؤ میں طلاق کی نیت نہیں تھی، نیز سائل کی زوجہ کو میڈیکل ایشو کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی جبکہ انکی عمر 45 سال ہے۔بیماری کا سرٹیفیکٹ بھی ساتھ لف ہے۔ )

    اسکے کچھ ماہ بعد12 فروری 2023 پھر جھگڑا ہوا تو میں اپنی بیوی کو اسکی ماں کے گھر چھوڑ آیا اسکے 17 فروری 2023 میں میں نے اسٹامپ پیپر پر تین طلاقیں لکھ کر بھیج دیں ۔جس میں یہ الفاظ تین بار درج تھے '' میں عبدالانیس خان ولد عبد الرشید خان اپنی منکوحہ مسمات فریدہ بنت فضل خان کو طلاق دیتا ہوں'' (طلاق نامہ منسلک ہے۔)اس بات کو چھ ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے ۔

    یو ٹیوب پر میں نے طلاق کے مسئلے پر مفتیان کرام کے بیانات سنے تو معلوم ہوا کہ میں نے ستمبر 2022 کو جو الفاظ بولے تھے وہ کنایہ کے تھے جس سے میاں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہوجاتے ہیں پھر رہنا چاہیں تو نیا نکاح نیا حق مہر ضروری ہوگا۔اب سوال یہ ہے کہ جب طلاق بائن واقع ہوگئی تو اس کے بعد جو لکھ کر دیئے وہ واقع ہوئی یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل: عبدل انیس خان : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سوال کے چند جزء ہیں ہر ایک کاجواب بالترتیب درج ذیل ہے:

    شوہر کے جملۂ اولٰی کا حکم:

    شوہر کے پہلے جملے '' تم اپنے گھر چلی جاؤ'' میں جب شوہر نے طلاق کی نیت نہ کی اور نہ ہی مذاکرہ طلاق تھا تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی، کہ یہ الفاظِ کنایہ سے ہے جس کے لئے نیت یا مذاکرۂ طلاق لازم ہے۔

    ان الفاظ کے بارے میں فتاوٰی فیض رسول میں ہے:اگر بہ نیت طلاق یا مذاکرۂ طلاق میں کہا تو اسکی بیوی پر طلاقِ بائن واقع ہوگی ، بعد عدت دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے ۔ اور اگر بہ نیتِ طلاق یا مذاکرۂ طلاق نہیں کہا بلکہ اظہارِ ناراضگی کے لئے کہا تو اسکی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی۔(فتاویٰ فیض ِ رسول ، جلد 2 ص 255)

    جملۂ ثانیہ کا حکم:

    شوہر کا یہ جملہ '' آج سے تم میرے لئے حرام ہو'' فی زمانہ عرف و عادت کی وجہ سے صریح بن چکا ہے جس سے بلانیت طلاق واقع ہوجائے گی ، البتہ رجعی واقع نہ ہوگی بلکہ بائنہ ہوگی، جسکا حکم یہ ہے کہ اس طلاق کے بعد عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی ، اب چاہے تو عدت میں اسی شوہر سے نکاح کرلے یا بعد عدت بھی اسی شوہر خواہ کسی اور شخص سے نکاح کرے۔

    فتاویٰ رضویہ میں ہے:اس کہنے سے کہ تُومجھ پر حرام ہے طلاق بائن ہوگی عورت نکاح سے کل گئی بعد عدّت اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرے، اور اگر اُس شوہر سے نکاح چاہے تو عدّت میں بھی ہوسکتا ہے اور بعد بھی۔فی ردالمحتار تحت قولہ خلیۃ، بریۃ حرام بائن الخ قولہ حرام سیأتی وقوع حرام بائن بہ بلانیۃ فی زماننا للتعارف سواء قال علیّ اولالخ وتمام تحقیقۃ فیما علقناہ علیہ۔ترجمہ:ردالمحتار میں ماتن کے ''تُواکیلی ہے، توبری ہے، تو حرام ہے طلاق بائن'' کے تحت لکھا ہے کہ ماتن کا قول ''حرام ہے'' عنقریب بیان آئے گا کہ اس ہمارے زمانے میں بغیر نیّت بھی بائنہ طلاق واقع ہوگی کیونکہ طلاق کےلئے یہ لفظ عرف بن چکا ہے حرام کے ساتھ عَلَیَّ(مجھ پر) کہے یا نہ کہے الخ، اسکی مکمل تحقیق اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاویٰ رضویہ ، جلد 12 ص 457 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    طلاقِ بائنہ کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنےاور ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا حکم:

    طلاقِ بائن کے بعد بغیر نکاح رجوع ممکن نہیں ہے ، لہذا جب تک نکاح نہ ہوجائے دونوں مثلِ اجنبی ہیں میاں بیوی کی طرح رہنا جائز نہیں، اس کے بعد ہونے والی وطی، وطی بالشبہہ قرار پائے گی اور اسکے نتیجے میں ہونے والی اولاد ثابت النسب قرار پائے گی۔البتہ میاں بیوی کی طرح رہنے کی صورت میں دونوں پر گناہ ہوگا، جس پر توبہ لازم و ضروری ہے۔

    عورت کی عدت کا حکم:

    طلاقِ بائنہ واقع ہوتی ہی عدت شروع ہوچکی، عدت تین حیض ہے اگر حیض نہ آتا ہو تو وہ عورت آئسہ ہے جسکی عمر کی حد مفتی بہ قول کے مطابق 55 سال ہے ،جیساکہ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: سن الإياس" وهو خمس وخمسون ستة على المفتى به۔ ترجمہ: سن ایاس(حیض سے ناامیدی کی عمر) مفتی بہ قول کے مطابق پچپن سال ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، جلد 1 ، ص 139)

    ہماری کتبِ فقہ میں تصریح ہے کہ اگر کوئی عورت ایسی ہو جو سنِ ایاس کو نہ پہنچی ہوتو اسکی عدت حیض سے ہی شمار کی جائے گی خواہ اسے تین حیض آنے میں سالوں کیوں نہ لگ جائیں ، سو اس سالوں میں وہ عورت معتدہ ہی رہے گی حتی کہ سن ایاس کو پہنچ جائے پھر جب سنِ ایاس کو پہنچ جائے تو اب تین ماہ گزار کے عدت سے نکلے گی ، کہ اب اسکی عدت حیض نہیں بلکہ تین ماہ شمار ہوگی۔

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: لو امتد طهرها تبقى عدتها حتى تبلغ سن الإياس فتح۔ترجمہ:اگر عورت کا طہر کا دورانیہ لمبا ہوجائے تو سن ایاس کو پہنچنے تک اسکی عدت باقی رہے گی۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،جلد3 ص 513)

    اللباب فی شرح الکتاب میں ہے: قولہ (وإن كانت) ممن (لا تحيض من صغر أو كبر) بأن بلغت سن الإياس (فعدتها ثلاثة أشهر) قيدنا الكبر ببلوغ سن الإياس لأنه إذا كانت ممن تحيض فامتد طهرها فإن عدتها بالحيض مالم تدخل في حد الإياس. جوهرة۔ ۔ترجمہ:اور عورت کو صِغر یا کِبر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ،کبر کی وجہ سےہوں کہ وہ سن ایاس کو پہنچ جائے، تو اسکی عدت تین ماہ ہے، ہم نے کبر سن ایاس تک پہنچنے سے مقید کیا کیونکہ اگر اسے حیض آتا ہو اور اسکا طہر کا دورانیہ لمبا ہوجائے تو اسکی عدت حیض سے ہی شمار ہوگی جبکہ حد ایاس کو نہ پہنچے۔(اللباب فی شرح الکتاب، جلد 3ص80)

    قدوری میں ہے: وإن كانت لا تحيض من صغرٍ أو كبرٍ فعدتها ثلاثة أشهرٍ بالنص ،۔ترجمہ: اور عورت کو صِغر یا کِبر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ، تو اسکی عدت تین ماہ ہے نص کی وجہ سے ۔

    نص سے مراد باری تعالٰی کا یہ فرمان ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ۔ترجمہ:اور تمہاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے ۔(الطلاق :4)

    پھر اگر عورت سن ایاس کوتو نہیں پہنچی لیکن ایسے قرائن و شواہد موجود ہیں مثلاً فی زمانہ میڈیکل رپورٹ وغیرہ جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ اب اسے حیض نہ آئے گا تو ایسی عورت بھی آئسہ کے حکم میں ہے اور اسکی عدت بھی تین ماہ ہی شمار ہوگی بالخصوص اس صورت میں کہ جب اسکی عمر پچاس سال یا اسکے قریب قریب ہوکہ بعض کتب فقہ میں ہے (جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا) حالاتِ زمانہ کے اعتبار سے 50 سال کی عمر کو بھی آئسہ کی حد قرار دینے پر فتوٰی دیا گیا ہے۔

    لہذا صورت مسئولہ میں بھی جب میڈیکل رپورٹ اس بات کی شاہد ہے کہ اب اس عورت کو حیض نہیں آئے گا تو اسکی عدت بھی تین ماہ شمار ہوگی۔ جس کے بعد یہ اس شوہر کے نکاح سے من کل الوجوہ نکل گئی۔

    اسٹامپ پیپر پر دی جانے والی طلاق کا حکم:

    جب تین ماہ بعد اسکی عورت کی عدت بھی ختم ہوگئی تو اب یہ محلِ طلاق نہ رہی جسکے بعد اسٹامپ پیپر پر تین طلاقیں لکھ دینے کی کچھ حیثیت نہیں کہ گویا کسی اجنبیہ کو لکھا تجھے طلاق تو اس سے کچھ اثر نہ ہوگا۔ اب ساتھ رہنا چاہیں تو نکاحِ جدید مع گواہان و حق مہر کرکے رہ سکتے ہیں۔

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: اس طلاق کے بعداگر تین حیض عورت کو ہوچکے تھے، اس کے بعد یہ خط لکھا جس کی نقل سوال میں ہے جب تو یہ خط بیکار ہے کہ پہلے طلاق ہوچکی اور عدت گزرلی اور اگر اس نے رجعت نہ کی تو عورت اجنبیہ ہوگئی اس کی طلاق کا محل نہ رہی اس صورت میں عورت جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ ، جلد 12 ص 560 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17 ذوالقعدہ 1444 ھ/07 جون 2023 ء