سوال
لڑکی اور لڑکے میں جھگڑا چل رہا تھا ، لڑکی کا باپ اسکے گھر گیا تو شوہر اور سسر کے درمیان بحث ومباحثہ ہوگیا ایسے میں لڑکی کے باپ نے لڑکی سے کہا کہ کچھ دن کے لئے گھر چلو جب معاملہ ٹھنڈا ہوجائے واپس آجانا تو جب یہ اپنی بیٹی کو لے کر صحن میں پہنچا تو شوہر نے سسر سے کہا اپنی بیٹی کو لے جاؤ ، پھر لڑکی مخاطب ہوکر کہا تُو یہاں آئی نا طلاق ہے میری، جا طلاق ہے، جاجا طلاق ہے۔ اسکے بعد سسر اپنی بیٹی کو گھر لے آیا اب رہنمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟
لڑکے سے استفسار کیا تو اس نے کہا کہ میری مراد تھی کہ جب یہاں واپس آئے تو طلاق ہوگی۔
سائل:محمدعثمان: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں پہلی طلاق معلق ہوگی یعنی جب لڑکی اس گھر میں آئے گی تو واقع ہوگی، کیونکہ جب شوہر نے کہا '' تو یہاں آئی نا طلاق ہے میری'' تو اس نے واضح طور عورت کی مجیئت (آنے) پر طلاق کی تعلیق کردی، اور تعلیق طلاق کا حکم یہ ہے کہ جس چیز پر طلاق کو معلق کیا ہے اس چیز کے وجود کےبعد طلاق واقع ہوجائے گی لہذا جب عورت گھر میں آئے گی تو یہ طلاق واقع ہوگی۔
جبکہ بعد والی دو طلاقیں فوراً واقع ہوجائیں گی، کیونکہ شوہر کا قول '' جا طلاق ہے ، جاجا طلاق ہے'' اسی بات پر دلالت کررہا ہے کہ وہ عورت کو فوراً طلاق دینا چاہتا ہے بالخصوص اس لئے کیونکہ اس نے طلاق کے ساتھ پہلی بار لفظ ''جا'' جبکہ دوسری بار ''جا جا'' استعمال کیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ فوراً یہاں سے نکل جا اسکے بعد طلاق گویا اسکا سبب ہے اب پورے جملے کا مفہوم یہ اخذ ہوگا کہ '' تو فوراً یہاں سے نکل جا کیونکہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے'' اور بلاشبہ اس کا تعلیق سے کسی طرح کا تعلق نہیں بنتا اس لئے آخری دو طلاقیں فوراً واقع ہوجائیں گی۔
اب جبکہ دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور تیسری عورت کے گھر میں آنے سے ہوگی ، تو اس سے بچاؤ کی صورت یہ ہے کہ ا ٓپ گھر تبدیل کرلیں اور وہاں بیوی کو لےا ٓ ئیں تو اس طرح تیسری طلاق سے بچ جائیں گے البتہ خیال رہے آئندہ اگر ایک طلاق بھی دی تو عورت حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔
تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:3ص:341،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى۔اعلٰی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفادِ شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا۔(اور وہ طلاق ہے)۔(فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج13ص137)
تعلیق کے حکم سے متعلق الہدایہ مع البنایہ میں ہے:(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیئے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔( الہدایہ مع البنایہ ،باب الایمان فی الطلاق ،ج:5،ص:413،طبع:دارالکتب العلمیہ)
آخری دو جملوں میں تعلیق نہیں ہوسکتی جیسا اوپر گزرا ، علاوہ ازیں قاعدہ فقہیہ بھی اس مسئلے کی تائید کرتا ہے کہ تعلیق اگر بلاحرف عطف ہو تو صرف پہلی معلق ہوگی باقی دو منجز ہونگی، جیسا کہ سیدی اعلی حضرت جد الممتار میں فرماتے ہیں: ھذا کلہ اذا ذکرہ بحرف العطف فان ذکرہ بغیر حرف العطف ان کان الشرط مقدماً فقال:ان دخلت الدار فانت طالق طالق طالق وھی غیر مدخولۃ فالاول معلق بالشرط والثانی یقع للحال والثالث لغو ثم اذا تزوجھا و دخلت الدار ینزل المعلق وان دخلت بعد البینونۃ قبل التروج حنث ولا یقع شئی وان کانت مدخولۃ فالاول معلق بالشرط والثانی والثالث یقعان فی الحال وان اخر الشرط فقال:انت طالق طالق طالق ان دخلت الدار وھی غیر مدخولۃ فالاول ینزل للحال و لغا الباقی وان کانت مدخولۃ ینزل الاول والثانی للحال و یتعلق الثالث بالشرط کذا فی السراج الوھاج اھ ھندیۃ۔ترجمہ:یہ تمام تر تفصیل اس وقت ہے، جب اس نے تعلیق حرف عطف کے ساتھ ذکرکی ہو،پس اگر تعلیق کو حرف عطف کے بغیر ذکر کیا، تو اگر شرط مقدم ہو اور شوہر کہے:اگر تو گھر میں داخل ہوئی، تو تجھے طلاق ہے،طلا ق ہے،طلاق ہے اور عورت غیر مدخولہ ہو ،تو پہلی طلاق شرط کے ساتھ معلق ہوگی اور دوسری فوراً واقع ہو جائے گی اور تیسری لغو ہو جائے گی، پھر جب وہ اس سے شادی کرے اور عورت گھر میں داخل ہو ،تو معلق بھی واقع ہو جائے گی اور اگر وہ نکاح سے باہر ہونے کے بعد دوبارہ نکاح سے پہلے داخل ہوئی، تو قسم ختم ہوجائے گی اور کچھ بھی واقع نہیں ہوگا اور اگر عورت مدخولہ ہو، تو پہلی طلاق شرط کے ساتھ معلق ہوگی اور دوسری ،تیسری فوراً واقع ہوجائیں گی اور اگر شرط کو مؤخر کیا اور کہا:تجھے طلاق ہے،طلاق ہے،طلاق ہے ،اگر تو گھر میں داخل ہوئی اور عورت غیر مدخولہ ہو، تو پہلی فوراً واقع ہو جائے گی اور باقی لغو ہو جائیں گی اور اگر عورت مدخولہ ہو ،تو پہلی اور دوسری فوراً واقع ہو جائیں گی اور تیسری طلاق شرط کے ساتھ معلق ہوگی ،اسی طرح سراج الوہاج میں ہے۔ہندیہ۔(جد الممتار،ج5،ص66،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 13 ذوالعقدہ 1445ھ/ 22 مئی 2024 ء