Mushtarka Cheez Ko Bech Kar Apne Liye Cheez Khareedna
سوال
میری ساس (فریدہ واحد) کا انتقال ہو گیا ہے۔ ان کے نام پر ایک اپارٹمنٹ اور گاڑی ہے۔ ان کے شوہر (واحد جام باوانی) کا انتقال 1995ء میں ہو چکا تھا۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں اور سب حیات ہیں۔ اپارٹمنٹ اور گاڑی ان کے شوہر کے پیسوں سے خریدے گئے تھے۔ شوہر کی وفات کے وقت وراثت تقسیم نہیں کی گئی تھی، کیونکہ بچیاں بہت چھوٹی تھیں۔ اس وقت شوہر کے بھائی بہنوں نے سب نے اپنے بھائی کی بیوی اور بیٹیوں کے حق میں اپنے وراثتی حق سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ مرحومہ (ساس) کے دو بھائی تھے، دونوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ ایک بھائی شادی شدہ تھے اور ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا حیات ہیں۔ ساس نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ گاڑی اور مکان میری چھوٹی بیٹی کے ہیں، اور دونوں بڑی بیٹیاں بھی اس بات پر راضی ہیں۔ وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
نوٹ: اپارٹمنٹ اور گاڑی اصل میں شوہر کی ملکیت تھے۔ ان کے انتقال کے بعد وراثت کی تقسیم نہیں کی گئی۔ پھر کچھ عرصے بعد ان کی بیوہ نے وہ اپارٹمنٹ فروخت کر کے کسی دوسری جگہ نیا اپارٹمنٹ اور گاڑی خرید لی والد صاحب کے بینک اکاؤنٹ میں بھی رقم موجود تھی اس کی تقسیم اور والدہ صاحبہ کے بینک اکاؤنٹ میں رقم موجود تھی اس کی بھی تقسیم کرد یں ۔
سائل: نوید نیازی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں مرحومہ فریدہ واحد نے مشترکہ گھر دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر فروخت کیا تھا، لہٰذا ابتداءً یہ بیعِ فضولی تھی۔ تاہم چونکہ دیگر ورثاء نے اس بیع کو رد نہیں کیا، بلکہ ان کی طرف سے دلالۃً رضا پائی گئی، اس لیے یہ بیع نافذ ہوگئی۔گھر فروخت ہونے کے بعد حاصل ہونے والی مشترکہ رقم ورثاء میں تقسیم نہیں کی گئی، بلکہ تقسیم سے پہلے اسی رقم سے مرحومہ فریدہ واحد نے اپنے نام پر ایک فلیٹ اور ایک گاڑی خرید لی۔ شرعاً یہ فلیٹ اور گاڑی مرحومہ فریدہ واحد کی ملکیت قرار پائیں گے، البتہ مرحومہ دیگر ورثاء، یعنی ایک بھائی، تین بہنوں اور اپنی تین بیٹیوں کے حصوں کی رقم (مشترکہ گھر کی فروخت سے حاصل شدہ )کی ضامن ہوگئیں۔
بعد ازاں مذکورہ بھائی اور تینوں بہنوں کا انتقال ہوگیا، پھر مرحومہ فریدہ واحد بھی وفات پاگئیں۔ چونکہ مرحومہ فریدہ واحد دیگر ورثاء کے حصوں کی رقم کی ضامن تھیں، اس لیے ان کا ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے ان بھائی اور بہنوں کے ورثاء کو ان کے مورثین کے شرعی حصوں کے مطابق واجب الادا رقم ادا کرنا لازم ہے۔ البتہ اگر وہ اپنے حق کی رقم معاف کردیں تو ان کے معاف کرنے سے یہ دَین ساقط ہوجائے گا۔اگر وہ اپنے حصے کی رقم معاف نہ کریں تو مشترکہ گھر فروخت ہونے کے وقت جو قیمت وصول ہوئی تھی،اسی قیمت کے اعتبار سے ہر وارث کو اس کے شرعی حصے کے مطابق رقم ادا کی جائے گی۔
مزید یہ بھی واضح رہے کہ مرحوم واحد جام کے انتقال کے ساتھ ہی ان کا ترکہ تمام ورثاء کی مشترکہ ملکیت بن گیا تھا۔ اس لیے ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے اگر بعض ورثاء نے اپنے حصے سے دستبرداری یا معافی کا اظہار کیا تھا تو اس سے ان کا حقِ وراثت ساقط نہیں ہوا؛ کیونکہ حقِ وراثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ ایک لازمی حق ہے، جو محض دستبرداری یا معاف کرنے سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ جب مشترکہ گھر فروخت ہوگیا تو عینِ ترکہ ختم ہوگیا اور ہر وارث کا حق فروخت کرنے والے کے ذمہ بطورِ دَین ثابت ہوگیا، اور دَین معاف کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے۔
نیز مرحوم واحد جام کے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم بھی ان کے ترکہ میں شمار ہوگی لہذایہ تمام شرعی ورثاءمیں ان کے مقررہ شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔اسی طرح مرحومہ فریدہ واحد کے ترکہ میں موجود بینک بیلنس بھی ان کے ترکہ کا حصہ ہے، لہٰذا تجہیز و تکفین، قرض اور وصیت (اگر ہو) کی ادائیگی کے بعد اسے شرعی ورثاء کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ موجودہ صورت میں مرحومہ فریدہ واحد کے ترکہ کے نو (9) حصے کیے جائیں گے، جن میں تین بیٹیوں میں سے ہر ایک کو2 حصے اور مرحومہ کے بھتیجے کو تین (3) حصے ملیں گے۔
اپنے شریک کا اس کی اجازت کے بغیر حصہ بیچنے کے متعلق 'دررالحکام شرح مجلۃ الحکام' میں ہے:” لو باع أحد صاحبي الدار المشتركة حصته وحصة شريكه بدون إذنه لآخر فيكون البيع المذكور فضولا في حصة الشريك (البهجة) وللشريك المذكور إن شاء فسخ البيع في حصته وإن شاء أجاز البيع إذا وجدت شرائط الإجازة“ .ترجمہ:اگر مشترکہ گھر کے مالکان میں سے ایک نے اپنا حصہ اوراپنے شریک کا کسی اجنبی کو اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو یہ شریک کے حصے میں بیع فضولی ہوگی اور شریک کو اختیار ہے کہ وہ چاہےتو اپنے حصے کی بیع ختم کردے اور چاہے تو اسے جائز کردے جبکہ بیع کی شرائط پائی جائیں ۔ (دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،(المادة ١٠٧٥) كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ،ج:3،ص:29،مطبوعہ دار الجیل)
جس نے اپنے لیے کوئی چیز خریدی وہ شئی اسی کی ملکیت میں ہوگی اس بارے رد المحتار میں ہے :’’ وَمَا اشْتَرَاهُ أَحَدُهُمْ لِنَفْسِهِ يَكُونُ لَهُ وَيَضْمَنُ حِصَّةَ شُرَكَائِهِ مِنْ ثَمَنِهِ إذَا دَفَعَهُ مِنْ الْمَالِ الْمُشْتَرَكِ۔ ترجمہ : اور اگر ان میں سے کوئی ایک شریک مشترکہ مال میں سے اپنے لیے کوئی چیز خرید لے تو وہ چیز اسی کی ملکیت ہوگی، البتہ اگر اس کی قیمت مشترکہ مال سے ادا کی ہو تو وہ اپنے دوسرے شرکاء کے حصوں کی قیمت کا ضامن ہوگا۔( رد المحتار ،ج:4،ص:307،دار الفکر بیروت )
اسی بارے اعلیٰ حضرتعظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :’’مورث نے جو جائداد اپنے روپیہ سے خریدی وہ ظاہر ہے کہ اسی کی ہے اور جو دوسرے کے روپے سے خریدی وہ اگر اپنے لئے خریدی یعنی عقد بیع دوسرے کے نام نہ کرایا تو وہ بھی اسی مشتری کی ہے لان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ (اس لئے کہ خریداری جب مشتری پر نفاذ کے طورپر پائی جائےتو نافذہوجاتی ہے۔ (فتاوی رضویہ ،ج:17،ص:16)
وراثت ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی اس بارے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:”میراث حقِ مقرر فرمودہ ِرب العزۃ جل وعلا ہے ، جو خود لینے والے کے اسقاط سے ساقط نہیں ہوسکتا، بلکہ جبراً دلایا جائے گا، اگرچہ وہ لاکھ کہتا رہے مجھے اپنی وراثت منظور نہیں، میں حصہ کا مالک نہیں بنتا، میں نے اپنا حق ساقط کیا ، پھردوسرا کیوں کر ساقط کرسکتا ہے؟“(فتاوی رضویہ،ج18،ص168،رضافاؤنڈیشن)
دین معاف کرنے سے معاف ہوجاتاہےاس بارے فتاوی رضویہ میں ہے:” ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیا، اس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہو۔“ (مترجم از فارسی،فتاوی رضویہ، ج 19، ص 233، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
اسی طرح بہار شریعت میں ہے:” مدیون کو دین ہبہ کردینا ایک وجہ سے تملیک ہے اور ایک وجہ سے اسقاط، لہٰذا رد کرنے سے رد ہوجائے گااور چونکہ اسقاط بھی ہے لہٰذا قبول پر موقوف نہ ہوگا۔ (بہار شریعت،ج03،ص99-100،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
ہبہ شدہ چیز میں قبضہ ضرورہی ہے اس بارے میں علامہ ابن عابدین خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:’’و شرائط صحتها في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول‘‘. ترجمہ :موہوبہ شئی میں ہبہ کی صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مقبوضہ ہو ،مشاع نہ ہو ،جدا ہو مشغول نہ ہو ۔(رد المحتار ،کتاب الہبۃ،ج:5،ص:688،دارا لفکر بیروت )
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
بھتیجا عصبہ میں سے ہے اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے :"وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم وهم أربعة أيضا: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق. ترجمہ : اور باقی عصبات میں مرد وارثین بغیر اپنی بہنوں کے اکیلے ہی وارث بنتے ہیں، اور یہ بھی چار ہیں: چچا، چچا کا بیٹا، بھائی کا بیٹا، اور آزاد کرنے والے کا بیٹا۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الفرائض، الباب الثالث في العصبات، ج:6، ص:451، دار الفكر بيروت )
بھتیجی ذوی الارحام میں سے ہے اس بارے السراجی فی المیراث میں ہے:"والصنف الثالث ينتمي إلى أبَوَي الميت، وهم أولاد الأخوات وبَناتُ الإخوة وبنو الإخوة لأم.ترجمہ:ذوی الارحام کی تیسری قسم جو میت کے والدین کی طرف منسوب ہو وہ بہنوں کی اولاد اور بھائیوں کی بیٹیاں اور ماں شریک بہنوں کے بیٹے ۔(السراجی فی المیراث،باب ذوی الارحام،صفحہ:70،دعوت اسلامی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: صفر المظفر 1448 ھ/24 جولائی 2026ء