mukhtalif paanch sawalat ke jawab
سوال
1: کسی جانور کی تصویر یا کھلونے کے سامنے یا شیشے کے سامنے نماز ہوجاتی ہے یا نہیں؟
2: کعبۃ اللہ پر پہلی نگاہ پڑتے وقت جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے ۔ درود شریف پڑھے بغیر ایک ہی دعا دوبار پڑھی اچانک سامنے ایک آدمی آگیا ، اور کعبۃ اللہ سے نظر ہٹ گئی کیا یہاں پہلی نظر ختم ہوگئی یا نہیں؟
3:سعی کے تیسرے چکر میں ہوا خارج ہوگئی ، اور بغیر وضو کئے باقی چکر پورے کئے کیا اس سے دم لازم ہوگا؟
4:عمرہ پر جائیں اور ہوٹل سے بچے ہوئے ٹشو،صابن شیمپو وغیرہ ساتھ لے آئیں تو کیا حکم ہے؟
5:شوگر چیک کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
سائل: محمد ہارون اعوان: راولپنڈی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: کسی جاندار کی تصویر کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے، یوں ہی اگر کھلونا کسی جاندار کا ہو اور مجسمہ نما ہو تو اسکا بھی یہی حکم ہے:علامہ حسن بن عماربن علی الشرنبلالی حنفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : ولبس ثوب فيه تصاوير" ذي روح لأنه يشبه عبادتها وأشدها كراهة أمامه ثم فوقه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه ۔ترجمہ:اور ایسا کپڑا پہن کر نماز پڑھناجس میں کسی جاندار کی تصاویر ہوں (مکروہ ہے) کیونکہ یہ اسکی عبادت کے مشابہ ہے ، اور جب تصویر سامنے ہو تو کراہت شدید ہوجائے گی ، پھر اوپر ہونا ،پھر دائیں ہونا،پھر بائیں ہونا پھر پیچھے ہونا مکروہ ہے۔
رہا آئینہ تو اسکےسامنے نماز بلاکراہت جائز ہے ،کیونکہ آئینہ میں دکھائی دینے والا عکس تصویر نہیں ہے۔لیکن اگر اس آئینہ سے نمازیوں کی نماز کے خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے تو اس صورت میں ایسے شیشوں کے سامنے نماز خلاف اولیٰ ہوگی وبس ۔ لہذاشیشوں پر کوئی مناسب کپڑے کا پردہ وغیرہ ڈال دیا جائے،اور پھر نماز ادا کی جائے ۔مفتی امجد علی اعظمی فتاویٰ امجدیہ میں لکھتے ہیں:آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سبب کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں ہے۔(فتاویٰ امجدیہ ،جلد 1 ص 184)
2:جب کعبۃ اللہ شریف زادھااللہ شرفا و تعظیما کی عمارت پرنظرپڑے تومستحب یہ ہے کہ اس وقت تکبیر و تہلیل کہے اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم پر درود شریف پڑھے پھر دعا کرے۔ اس لمحہ کی جانے والی دعا مقبولیت کے دروازے چھولیتی ہے ۔ محقق علی الاطلاق كمال الدين محمدبن عبدالواحد المعروف بابن الهمام المتوفى861ھ لکھتے ہیں:فَإِنَّ الدُّعَاءَ مُسْتَجَابٌ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ ترجمہ: بیت اللہ کی زیارت کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔(فتح القدیر شرح الھدایۃ جلد2ص 447)
یوں ہی امام ابوبكربن علی بن محمدالحدادی المتوفى 800ھ فرماتے ہیں :وَالدُّعَاءُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ مُسْتَجَابٌ۔ ترجمہ: بیت اللہ کی زیارت کے وقت دعا قبول ہوتی ہے ۔(الجوہرۃ النیرۃ شرح مختصر للقدوری ج 1 ص 153)
احمدبن محمدبن اسماعيل الطحطاوی متوفی 1231ھ فرماتے ہیں :أوصى الإمام رجلا أن يدعو عند مشاهدة البيت باستجابة دعائه ليصير مستجاب الدعوة۔ ترجمہ: امام اعظم نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی کہ بیت اللہ کی زیارت کے وقت مستجاب الدعوات ہونے کی دعا کرے ،تاکہ مستجاب الدعوات ہوجائے۔(حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح جلد1 ص 734)
اور قبولیت دعاکی فضیلت اس وقت تک ہے جب تک کعبۃ اللہ کی جانب صمیم قلب سے متوجہ رہے ۔
3:دم لازم نہ ہوگا کیونکہ سعی کے لیے وضو شرط نہیں ہے ، بغیر وضو سعی کی تو ادا ہوگئی البتہ وضو کرنا افضل و اعلٰی ہے کیونکہ سعی بھی ایک عبادت ہے ۔امام ابوبكربن علی بن محمدالحدادی المتوفى 800ھ لکھتے ہیں : فَإِنْ سَعَى جُنُبًا أَوْ سَعَتْ الْمَرْأَةُ حَائِضًا أَوْ نُفَسَاءَ فَالسَّعْيُ صَحِيحٌ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ تُؤَدَّى فِي غَيْرِ الْمَسْجِدِ كَالْوُقُوفِ ۔ ترجمہ: اگر کسی مرد نے ناپاکی کی حالت میں سعی کی ، یا کسی عورت نے حیض یا نفاس کی حالت میں سعی کی تو سعی درست ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو غیرمسجد میں ادا کی جاتی ہے جیساکہ وقوف عرفہ۔(الجوہرۃ النیرۃ شرح مختصر للقدوری ،کتاب الحج ،باب الجنایات ج 1 ص 153)
یوں ہی مجمع الانهرشرح ملتقى الابحر میں ہے:فَإِنْ سَعَى جُنُبًا فَالسَّعْيُ صَحِيحٌ؛ لِأَنَّهُ عِبَادَةٌ تُؤَدَّى فِي غَيْرِ الْمَسْجِدِترجمہ: اگر کسی مرد نے ناپاکی کی حالت میں سعی کی تو سعی درست ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو غیرمسجد میں ادا کی جاتی ہے ۔(مجمع الانهرشرح ملتقى الابحر،جلد 1 ص 294)
4: ہوٹل میں رہائش کی صورت میں دی جانے والے ٹشوز،صابن شیمپو وغیرہ ہوٹل کے پیکج میں شامل ہوتے ہیں، ان اشیاء کی قیمت وصول کی جاتی ہے خواہ ہوٹل بک کروانے والا انہیں استعمال کرے یا نہ کرے۔ لہذا اگرکوئی ہوٹل چھوڑتے وقت یہ چیزیں اپنے ساتھ لے جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،کیونکہ وہ انکی قیمت ادا کرکے انکا مالک ہوچکا ہے۔ البتہ بستر،تکیہ،تولیہ اور اس جیسی چیزیں استعمال کے لئے ہوتی ہیں ،اور ہمارے علاقوں میں یہی عرف ہے کہ رہائش اختیار کرنے والے جاتے وقت یہ چیزیں(بستر،تکیہ،تولیہ وغیرہ) وہیں چھوڑ جاتے ہیں لہذا بحکم عرف یہ چیزیں لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اگر کوئی لے آیا تو اس پر ان اشیاء کی قیمت دینا لازم ہوگی۔علامہ شامی اپنے شہرہ آفاق رسالے شرح عقود رسم المفتی میں لکھتے ہیں :وَالْعُرْفُ فِي الشَّرْعِ لَهُ اعْتِبَارُ ... لِذَا عَلَيْهِ الْحُكْمُ قَدْ يُدَارُترجمہ: اور شریعت میں عرف کا اعتبار ہے کیونکہ اس پر بھی حکم کا مدار ہے۔(رسائل ثلاثہ فی رسم الافتاء ص 263،دار اہل السنہ کراچی)
اسی میں ص 270 پر ہے والاحکام تبتنی علی العرف، فیعتبر فی کل اقلیم و فی کل عصر عرف اہلہ۔ترجمہ:احکام کی بنیاد عرف پر بھی ہے لہذا ہر ملک اور زمانے میں وہاں کا عرف ہی معتبر ہے۔ (ایضا)
5:شوگر ٹیسٹ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔کیونکہ روزہ ٹوٹنے کے لئے ضروری ہے کہ کوئی چیز انسان کے جسم میں منافذ اصلیہ(منہ،ناک، کان، شرمگاہ کے سوراخ )کے ذریعے داخل ہوجائے ۔لہذا اگر انسانی جسم سے کوئی چیز خارج ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔البتہ اس سے وضو ضرور ٹوٹ جائے گا۔ چناچہ سیدنا عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے :قَالَ: إِنَّمَا الْفِطْرُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ۔ ترجمہ: آپ نے فرمایا کہ روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے، کسی چیز کے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا۔( السنن الصغری للبيهقي،جلد 2 ص 101حدیث نمبر 1348)
یوں ہی سیدہ عائشہ سے حدیث مروی ہے :سَلْمَى بِنْت بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا الإِفْطَارُ مِمَّا دَخَلَ وَلَيْسَ مِمَّا خَرَجَ۔ترجمہ: سلمیٰ بنت بکر بن وائل کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ سے سنا وہ فرمارہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا : روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتا ہے،کسی چیز کے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتا۔( مسند ابو یعلٰی موصلی ،جلد 8 ص 75حدیث نمبر 4602)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 محرم الحرام 1441 ھ/04 ستمبر 2019 ء