سوال
حنفی افراد غیر حنفی مثلا حنبلی یا شافعی امام کے پیچھے نماز ادا کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جیسے عمرے پر جاتے ہیں تو وہاں کے امام حنفی المسلک نہیں ہوتے اس صور ت میں ادا کردہ نماز کا کیا حکم ہے؟
سائل:محمد مزمل: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
(1)غیر حنفی امام کی اقتداء کب درست ہے اور کب نہیں؟
اس کی چند صورتیں ہیں :
1: اگرغیر حنفی امام صحیح العقیدہ سنی ہو ،اور تمام ارکان و شرائط کا عالم اور انکی رعایت کرکے نماز پڑھاتا ہے اور اس امام میں کوئی ایسی بات موجود نہیں ہوجوہم احناف کے مذہب پر نماز میں غیر مشروع ہیں جیسے رفع یدین یا فجر میں قنوت پڑھنا یا سینے پر ہاتھ باندھنا یا عمل کثیر کرنا وغیرہ تو ایسے امام کی اقتداءجائز ہے ۔اور اگر امام ان اعمال میں سے کسی کا ارتکاب کرتا ہے تو اسی امر غیر مشروع کے مطابق نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی ہوگی۔
2:اور اگر ایسی کوئی بات پائی گئی جو احناف کے مذہب پر نماز یا وضو کو فاسد کردےتو اقتداء حرام اور نماز باطل ہوگی ۔
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں ہے:اما الا قتداء بالمخالف فی الفروع کالشافعی فیجُوز مالم یعلم منہ مایفسد الصلاۃ علٰی اعتقاد المقتدی علیہ الاجماع، إنَّمَا اُخْتُلِفَ فِي الْكَرَاهَةِ.ترجمہ: فروعات میں مخالف(مذہب) مثلاً شافعی المذہب کی اقتداء اس وقت جائز ہوگی جب اس سے ایسے عمل کا علم نہ ہو جو اعتقاد ِمقتدی میں مفسدِنماز ہو ،اسی جواز پر اجماع ہے البتہ کراہت میں اختلاف ہے۔(بعض نے کہا مکروہ تنزیہی ہے اور بعض نے کہا مکروہ نہیں ہے۔)( غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی فصل فی الامامۃ، مطبوعہ مکتبہ نعمانیہ ، کوئٹہ ص 445)
علامہ شامی رحمہ اللہ حاشیۃ البحر میں مذکورہ جزئیہ نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں :أَنَّ الِاخْتِلَافَ فِي الْكَرَاهَةِ عِنْدَ عَدَمِ الْعِلْمِ بِالْمُفْسِدِ وَالْمُفْسِدُ إنَّمَا هُوَ تَرْكُ شَرْطٍ أَوْ رُكْنٍ فَقَطْ ثُمَّ رَأَيْت التَّصْرِيحَ بِذَلِكَ فِي رِسَالَةٍ فِي الِاقْتِدَاءِ لِمُنْلَا عَلِيٍّ الْقَارِي وَأَنَّهُ فِيمَا عَدَا الْمُبْطِلِ يَتْبَعُ مَذْهَبَهُ ترجمہ:اختلاف کراہت میں اس وقت ہے جب مفسد کا علم نہ ہو،اور مفسدمحض شرط کو چھوڑنا یا رکن کو چھوڑنا ہے پھر میں نے ملا علی قاری کے رسالے الاھتداء فی الاقتداء میں اسی بات کی صراحت دیکھی ۔ اور وہ یہ کہ مبطل (یعنی جو نماز کو فاسد کرنے والی ہیں) کے علاوہ میں اسکے مذہب کے اتباع کی جائیگی ۔(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ،باب القنوت فی غیر الوتر جلد 2ص 50،طبع: دارالکتاب الاسلامی)
علامہ ابن نجیم نے البحر الرائق میں اس مسئلے پر مفصل گفتگو فرمائی جسکے بعد لکھتے ہیں :حاصلہ ان صاحب الھدایۃ جوزالاقتداء بالشافعی بشرط ان لایعلم المقتدی منہ مایمنع صحۃ صلاتہ فی رأی المقتدی کالفصد ونحوہ وعددمواضع عدم صحۃ الاقتداء بہ فی العنایۃ وغایۃ البیان بقولہ کما اذالم یتوضأ من الفصد والخارج من غیرالسبیلین وکماکان شاکافی ایمانہ بقولہ انامومن ان شاء اﷲ اومتوضأ من القلتین اویرفع یدیہ عندالرکوع وعند رفع الراس من الرکوع اولم یغسل ثوبہ من المنی ولم یفرکہ اوانحرف عن القبلۃ الی الیسار اوصلی الوتر بتسلیمتین اواقتصرعلی رکعۃ اولم یوتراصلا اوقھقھہ فی الصلاۃ ولم یتوضأ اوصلی فرض الوقت مرۃ ثم ام القوم فیہ زاد فی النہایۃ وان لایراعی الترتیب فی الفوائت وان لایمسح ربع راسہ وزاد قاضی خاں وان یکون متعصبا والکل ظاھر ماعدا خمسۃ اشیاءترجمہ: حاصل یہ ہے کہ صاحب ہدایہ نے شافعی کی اقتداء کو اس شرط کے ساتھ جائز کہاہے کہ جب مقتدی اس امام کے کسی ایسے عمل کو نہ جانتا ہوجومقتدی کی رائے کے مطابق صحت نماز کے منافی ہے۔ مثلاً رگ کٹوانا وغیرہ، ، عدم صحت اقتداء کے چند مواضع عنایہ اور غایۃ البیان سے، ان الفاظ سے بیان کئے کہ مثلاً جب اس امام نے رگ کٹوانے یاغیرسبیلین سے کسی شے کے خارج ہونے پر وضو نہ کیا ہو یا اس امام کے ایمان میں شک ہے، مثلاً وہ یہ کہتا ہے کہ ''ان شأاﷲمیں مومن ہوں'' یا وہ قلتین پانی سے وضو کرتاہے یا رکوع جاتے وقت اور اُٹھتے وقت رفع یدین کرتاہے یا وہ منی لگ جانے کی وجہ سے کپڑے کو نہیں دھوتا اور نہ ہی اسے کھرچتا ہے(گاڑھی ہونے کی صورت)میں یا وہ قبلہ سے بائیں جانب پھرتاہے یاوہ دوسلاموں سے وتراداکرتاہے یاایک رکعت وترپڑھتاہے یابالکل پڑھتاہی نہیں یانماز میں قہقہہ سے ہنستاہے اور وضونہیں کرتا یاایک دفعہ وقتی نماز پڑھاچکاہے پھر اسی نماز کا امام بن جاتاہے۔ اس پر نہایہ میں اضافہ ہے کہ فوت شدہ نمازوں میں ترتیب کی رعایت نہ رکھتاہو حالانکہ وہ صاحب ترتیب ہو سر کے چوتھائی حصہ کا مسح نہ کرے، قاضی خاں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ وہ متعصب ہو،ان پانچ کے علاوہ باقی تمام واضح ہیں۔( البحرالرائق شرح کنز الدقائق،باب الوتر والنوافل ، جلد 2 ص 48، طبع: دارالکتاب الاسلامی)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسد ہے تو اقتداء حرام اور نماز باطل ، اور اگر اس وقت خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشرائط کی احتیاط نہیں کرتا تو اس کی اقتداء ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رعایت واحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نماز خاص میں رعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت جائز ہے جبکہ سنی صحیح العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اقتداء مکروہ تنزیہی۔ (فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ ،جلد 6 ص 579 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
احناف کے نزدیک عمل کثیر سے نماز فاسد ہوجاتی ہے:
امام سرخسی عمل کثیرکی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں : وَالْأَصَحُّ أَنْ يُقَالَ فِيهِ: إنَّ كُلَّ عَمَلٍ إذَا نَظَرَ إلَيْهِ النَّاظِرُ مِنْ بَعِيدٍ لَا يَشُكُّ أَنَّهُ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ فَهُوَ مُفْسِدٌ لِصَلَاتِهِ :ترجمہ:اور اصح قول کے مطابق عمل کثیر کی تعریف یہ ہے کہ دور سے دیکھنے والا شک نہ کرے کہ وہ نمازمیں نہیں ہےتو (اس کا یہ عمل )مفسد نماز ہے۔(المبسوط للسرخسی ،باب الحدث فی الصلاۃ،ج:۱،ص:۱۹۵،دارالمعرفۃ ،بیروت)
پھر اسی میں ایک اور مقام پر ہے:الْعَمَل الْكثير يبطل الصَّلَاةعمدا كَانَ أَو سَهوا، لِأَنَّهُ غير مُحْتَاج إِلَيْهِ، وَلَا يعْذر بِالنِّسْيَانِ لِأَن حَالَة الصَّلَاةمذكرة ترجمہ:اور عمل کثیر نماز کو فاسد کر دیتی ہے جان بوجھ کر ہو یا بھول کر اس لیئے کہ عمل کے ہونااس (جان بوجھ کر ہو یا بھول کرنے )کا محتاج نہیں ہے ،اور یہاں نسیان بھی عذر نہیں ہے کیوں کہ نماز کی حالت یاد دلانے والی ہے ۔(الباب فی الجمع بین الکتاب والسنۃ،باب العمل الکثیر یبطل الصلاۃ،ج:۱،ص:۲۷۲،دارالقلم ،سوریا ،بیروت)
ان باتوں کو جاننے کے بعدبالترتیب جواب ملاحظہ فرمائیں:
حرمین طیبین کے ائمہ کے پیچھے حنفی شخص کی نماز مکروہ ہے ، جسکی درج ذیل وجوھات ہیں۔
1: حرمین طیبین کے ائمہ غیر سنی ہوتے ہیں یعنی سنی صحیح العقیدہ نہیں ہوتے۔
2:ان سےدوران نماز عموماً ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جو ہمارے مذھب احناف پر مفسد نماز ہیں۔ مثلاعمل کثیروغیرہ ۔ لہذا حنفی شخص کی نماز ان کے پیچھے نہیں ہوگی ،کیوں کہ غیر حنفی کے پیچھے نمازکے درست ہونے کے لیئے ایک شرط یہ ہے امام ایسے عمل کا ارتکاب نہیں کرے جو مقتدی کے مذہب کے مطابق مفسد نماز ہو ،جیساکہ اوپر گزرا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 رجب المرجب 1441 ھ/24 مارچ 2020 ء