گستاخ رسول کی سزا موت نہ ماننا

    gustakh rasool ki saza maut na maanna

    تاریخ: 24 جون، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 1505

    سوال

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !

    1:قبلہ مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ جو شخص کہے آسیہ ملعونہ کے خلاف نکلنے والے جلوس میں نہ جاؤ ۔ اور کہے کہ تم مولویوں کے پیچھے نماز پڑھناجائز نہیں ہے کیونکہ تم آسیہ کے حوالے سے لوگوں کو حکومت کے خلاف ورغلاتے ہو ۔

    2: یہی شخص مسجد کا متولی ہے اپنی مسجد سے اس بناء پرایک ایسے عالم دین کو نکالتا ہے جو دس سال سے اسی مسجد میں امام ہے، کہ یہ عالم دین اس بات پر تقریر کرتا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟

    سائل: عرفان علی قادری


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: نبی کریم ﷺ کی عزت و حرمت اور ناموس کا دفاع کرنا ہر مسلمان کا اولین فرض ہے ، آپکی عزت و ناموس کا دفاع کئی طریقوں سے کیا جاسکتا ہے ۔ مثلا رسول اللہ ﷺ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کی جائے ،یوں ہی دشمنان اسلام کا رد کیا جائے، آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی عظمت و رفعت بیان کی جائے ، اس حوالے سے سیرت جلسے، کانفرنسز اور سیمینار منعقد کیے جائیں ، اپنے بچوں کو نو عمری میں ہی آپ ﷺ کی عزت وحرمت کے حوالے سے صحابہ کرام کے واقعات سنائیں جائیں تاکہ بچپن سے ہی اپنے کریم آقا سے محبت کا رشتہ استوار ہوجائے۔ اس تمام تر کے باوجود اگر اس ملک میں کہ جو اسلام کے نام پر بنا ہے کسی موقع پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں صریح گستاخی کرنے والی عورت کو دو مقامات (سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ ) سے موت کی سزا سنائی جانے کے بعد ملک کے نام نہاد جج سپریم کورٹ سے بری کردیں ۔ جبکہ وہ ملعونہ خود اس بات کا اقرار کر چکی ہو ۔ تو ایسی صورت حال میں کہ جب بات افہام و تفہیم سے حل نہ ہوسکے ، بلکہ واضح طور پر نظر آرہا ہو کہ یہ لوگ یہود و نصاریٰ کے مشن پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس ملعونہ کو بری کرواکر بیرون ملک لے جانا چاہتے ہیں تواحتجاج کرنا، جلسے کرنا ، ریلیاں نکالنا ہر اس عام مسلمان کا آئینی،قانونی، شرعی حق ہے جو اپنے دل میں جذبہ حب محمدی رکھتاہو ۔بالخصوص اس وقت کہ جب لوگ محض اپنے دنیاوی مفادات کے لیے کئی کئی دن تک ملک جام رکھیں اور اپنے مقاصد فاسدہ کے حصول کے لئے ملکی معیشت کو سخت ترین نقصان پہنچائیں ۔ اب اگر اہل دین ،اہل محبت تمام تر حربے آزمانے کے بعد اپنے آقا و مولا کی عزت و ناموس کے لیے آخرِکار احتجاج کا راستہ اپنائیں تو اس وقت ان دین دشمنوں کو ملکی امن ،و ملکی معیشت کا خیال ستائے جاتا ہے۔اور احتجاج کرنے والے سینکڑوں علماء اور ہزاروں عاشفان رسول ﷺ پر دہشت گردی ،غداری کے مقدمات لگا کر انہیں جیل دوز کردیا جاتا ہے۔اور انہیں ملکی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے گویا کہ ان حضرات کے احتجاج سے قبل ملک دنیا کی اعلیٰ معیشت رکھنے والے ملکوں میں شمار کیا جاتا ہو اور ان ان کے دھرنوں کی وجہ سے دنیا کا بدترین معاشی ملک بن گیا ہو، جب کہ یہ دھرنے خالصتا مذہبی، اور ذاتی مفادات سے منزہ و مبرا تھے حالانکہ گزشتہ ادوار میں اس طرح کے احتجاج کو انہی لوگوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا ہے، کہ حالیہ دھرنے جن کا عشر عشیر بھی نہیں بنتے۔

    الغرض اگر یہ ساری صورت حال سچ پر مبنی ہے اس کو جاننے کے باوجود قائل نے ایسی بات کہی تو یقینا یہ شخص بے دین، گمراہ اور مستحق عذاب الٰہی ہے ۔نعوذ باللہ من ھذ القول ۔(ہم ایسی بات کہنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں ۔)

    اور اگراس نے علماء سے بغض کی بناء پر انکی تحقیر کے لیے ایسا کہا تو ایسا کہنا بلاشبہ کفر ہے ۔ مجمع الانہر میں ہے:الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ترجمہ: سادات کرام اور علماء کی تحقیر کفر ہے جس نے عالم کی تصغیر کرکے عویلم یا علوی کو علیوی تحقیر کی نیت سے کہا تو کفر کیا۔( مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب المرتد ثم ان الفاظ الکفر الخ داراحیاء التراث العربی بیروت 1/ 695)

    سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :علمائے دین کی تحقیر کفرہے۔(فتاویٰ رضویہ ،کتاب السیر جلد 14 ص243)

    اور اگر قائل مذکور کو اس ساری حقیقت کا علم نہیں تھا اس نے محض ذاتی تعصب یا بغض و دشمنی کی بناء پر ایسا کہاتو یہ نری جہالت ہے۔اور اسکا کہنا کہ ''تم مولویوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ''دین محمدی کی خود ساختہ تشریح اور دیندار لوگوں سے عداوت، اور اپنی خواہشات کی تکمیل کی واضح دلیل ہے جسکی شریعت میں میں کوئی اصل نہیں،بلکہ شریعت اسلامیہ میں اسکی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ والعلم عنداللہ الثواب

    2: اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو اما م صاحب کو مسجد سے نکالنا ناجائز و حرام ہے ۔ اور اگر مذکورہ شخص نے امام صاحب کواس لیے نکالا کہ اس کے نزدیک گستاخ رسول کی سزا موت نہیں ہے ، تو ایسا شخص اجماع امت کا منکر ہے ، جو حکم اجماع کے منکر کا ہے وہی حکم اس شخص کا ہوگا ۔

    کشف الاسرار شرح المنار میں ہے : یکفر جاحدہ کما یکفر جاحد ماثبت بالکتاب اوالمتواتر:ترجمہ:اجماع کا منکر کافر ہے جس طرح کتاب اﷲ یا خبر متواتر سے ثابت شدہ کا منکر کافر ہے۔(کشف الاسرار شرح منار الانوار فی اصول الفقہ جلد2 ص 111)

    کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے ۔

    قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ تعالیٰ الشفا بتعریف حقوق المصطفی میں لکھتے ہیں:قال ابوبکر بن منذد اجمع عوام اہل العلم علیٰ ان من سب النبی ﷺ یقتل وممن قال ذلک: مالک بن انس،واللیث واحمد واسحاق،وھو مذہب الشافعی وبمثلہ قال ابو حنیفۃ و اصحابہ والثوری، واہل الکوفۃ والاوزاعیترجمہ: ابو بکر بن منذر نے کہا کہ تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے نبی ﷺ کی توہین کی اسکو قتل کیا جائے گا ۔یہ قول امام مالک، لیث، ،احمد اور اسحاق کا ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے اور اسی طرح امام ابوحنیفہ،انکے اصحاب، سفیان ثوری،اہل کوفہ اور امام اوزاعی کا ہے۔( الشفا بتعریف حقوق المصطفی القسم الرابع،الباب الاول،الفصل الاول جلد 2ص 475 دار الفیجاء عمان)

    محقق علی الاطلاق ،علامہ ابن الھمام گستاخ رسول کے بارے میں لکھتے ہیں :كُلُّ مَنْ أَبْغَضَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَلْبِهِ كَانَ مُرْتَدًّا، فَالسِّبَابُ بِطَرِيقٍ أَوْلَى، ثُمَّ يُقْتَلُ حَدًّا عِنْدَنَا فَلَا تَعْمَلُ تَوْبَتُهُ فِي إسْقَاطِ الْقَتْلِ. قَالُوا: هَذَا مَذْهَبُ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَمَالِكٍ، وَنُقِلَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ أَنْ يَجِيءَ تَائِبًا مِنْ نَفْسِهِ أَوْ شُهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ، بِخِلَافِ غَيْرِهِ مِنْ الْمُكَفِّرَاتِ فَإِنَّ الْإِنْكَارَ فِيهَا تَوْبَةٌ ،ترجمہ: جو رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھے وہ مرتد ہے تو آپکی شان میں گستاخی کرنے والا بدرجہ اولیٰ مرتد ہوگا ، پھر اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اسکا توبہ کرنا بھی قتل کو ساقط نہ کرسکے گا۔علماء نے فرمایا کہ یہ اہل کوفہ ،امام مالک اور سیدنا ابو بکر صدیق کا مذہب ہے رضی اللہ تعالیٰ عنھم اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ خود آکر توبہ کرے یا اپنی توبہ پر لوگوں کو گواہ بنالے اسکے علاوہ دیگر کفریات کیونکہ انکا سرے سے انکار کرنا توبہ ہے ۔ (فتح القدیرباب احکام المرتدین جلد 6ص 98 دار الفکر )

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے : (وَكُلُّ مُسْلِمٍ ارْتَدَّ فَتَوْبَتُهُ مَقْبُولَةٌ إلَّا) جَمَاعَةٌ مَنْ تَكَرَّرَتْ رِدَّتُهُ عَلَى مَا مَرَّ وَ (الْكَافِرُ بِسَبِّ نَبِيٍّ) مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فَإِنَّهُ يُقْتَلُ حَدًّا وَلَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ مُطْلَقًا،وَمَنْ شَكَّ فِي عَذَابِهِ وَكُفْرِهِ كَفَرَ، ترجمہ: ہر مسلمان جو مرتد ہوجائے اسکی توبہ مقبول ہے ماسوائے ایسے گروہ کے جو بار بار ارتداد کا ارتکاب کرتا ہو اور وہ جو انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے ۔ تو اسکو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اسکی توبہ مطلقا مقبول نہ ہوگی ۔ اور جو شخص اس(یعنی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والے ) کی سزا میں یا اسکے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار ،مطلب توبۃ الیاس مقبولۃ جلد 4 ص 231،232)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی