چوری شدہ مال اور قطع تعلقی کا حکم

    chori shuda maal aur qata talluqi ka hukm

    تاریخ: 12 جون، 2026
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 1435

    سوال

    1: کسی کا مال چوری کیا ؟ تو واپسی کی کیا صورت ہوگی؟ زندہ ہو تو کیا صورت ہوگی؟ مرجائے تو کیا صورت ہوگی؟

    2: کوئی رشتہ دار بار بار قطع رحمی کرتا ہو، اسکے ساتھ صلہ رحمی کی جائے لیکن پھر بھی نہ مانے نمبر بلاک کردے ،گھر میں نہ آئے تو اسکا کیا حکم ہے؟

    3: خاوند نے اپنی مرضی سے مکان بیوی کے نام کیا ،بیوی اس مکان کا کچھ حصہ کرائے پر دے کر بچوں اور گھر میں خرچ کرے اور خاوند کو کچھ نہ دے تو کیا یہ جائز ہے؟

    4: خاوند کے نامناسب برتاؤ کے سبب مثلا حرام کمائی ،بہتان بازی وغیرہ بیوی اسکو گھر سے نکلنے کا کہہ سکتی ہے جبکہ گھر بیوی کا ہو اور وہ بیوی کو دو طلاقیں بھی دے چکا ہو اور عقد ثانی بھی نہ کیا ہو۔

    سائل: محمد ہارون اعوان: راولپنڈی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: چور کے پاس چوری شدہ مال بطور امانت ہوتا ہے اورجب تک وہ مال سلامت ہے اس کابعینہ لوٹانا واجب ہے اگر چہ چور نے آگے کسی کو بیچ دیا یا گفٹ کر دیا ،کیوں کہ کسی کے مال کو بیچنے اور گفٹ کردینے سے مالک کی ملکیت ختم نہیں ہوتی اوراگر وہ ہلاک ہو جائے یا چور قصدا ًہلاک کردے تو اس صورت میں چور اس کی قیمت ادا کرے گا ۔ علامہ حصکفی فرماتے ہیں :وَتُرَدُّ الْعَيْنُ لَوْ قَائِمَةًوَإِنْ بَاعَهَا أَوْ وَهَبَهَا لِبَقَائِهَا عَلَى مِلْكِ مَالِكِهَا وَلَا فَرْقَ فِي عَدَمِ الضَّمَانِ بَيْنَ هَلَاكِ الْعَيْنِ وَاسْتِهْلَاكِهَا فِي الظَّاهِرِ مِنْ الرِّوَايَةِ، لَكِنَّهُ يُفْتَى بِأَدَاءِ قِيمَتِهَا دِيَانَةً، وَسَوَاءٌ كَانَ الِاسْتِهْلَاكُ قَبْلَ الْقَطْعِ أَوْ بَعْدَهُوَفِيهِ لَوْ اسْتَهْلَكَهُ الْمُشْتَرِي مِنْهُ أَوْ الْمَوْهُوبُ لَهُ فَلِلْمَالِكِ تَضْمِينُهُ۔ترجمہ:اور چوری شدہ مال اگر باقی ہو ،مالک کے پاس بعینہ لوٹایا جائے گا اگر چہ چور نے اس کو بیچ دیا ہو یا کسی کو تحفہ (گفٹ)دے دیا ہو (پھر بھی اس کا لوٹانا لازم ہے )کیوں کہ وہ اپنے مالک کے ہی ملک میں ہےاورچوری شدہ مال کے خود ہلاک ہونے اور ہلاک کرنے دونوں صورتوں میں تاوان کےنہ ہونے کے حکم میں کو ئی فرق نہیں ہے،ظاہر الروایہ کے مطابق،لیکن دیانۃ قیمت کی ادئیگی کا فتوی دیاجائےگا،اور اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ شئ کی ہلاکت ہاتھ کاٹ دیئے جانے سے پہلے ہو یا بعد میں اور اسی میں ہے کہ مشتری منہ یاموہوب لہ(چور نے جس کو بیچ دیا ہویا گفٹ کردیاہووہ)اگرچوری شدہ مال کو ہلاک کردےتو11` مالک اس سے تاوان لے سکتا ہے۔(تنویر الابصر مع الدر المختار،کتاب السرقۃ،باب کیفۃ القطع واثباتہ،ج:4،ص:110،طبع:دارالفکر ،بیروت)

    2:بلا وجہ شرعی کسی عام مسلمان سےبھی قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ہے جبکہ رشتہ داروں سے بدرجہ اولی جائز نہیں ہے۔ترمذی شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :«لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ» ترجمہ:آپس میں قطع تعلقی نہ کرو،آپس میں اختلاف نہ کرو،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو ،ایک دوسرے سےحسد نہ کرو اور اللہ کے لیئے ایک دوسرے کے بھائی ،بھائی بن جاؤ،اور کسی مسلمان کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سےقطع تعلقی کرے ۔(باب ماجاء فی الحسد ،حدیث نمبر:1935)

    اور جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ کوئی رشتہ دار بار بار قطع رحمی کرتا ہو، اسکے ساتھ صلہ رحمی کی جائے لیکن پھر بھی نہ مانے نمبر بلاک کردے ،گھر میں نہ آئے تو اسکا کیا حکم ہے؟تو شریعت اسلامیہ ہمیں یہ حکم دیتی ہے کہ تم کسی سے ہر گزمت توڑو اور جو تم سے توڑدے پھر بھی تم اس کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرو۔اوراعمال کی درستگی کا معیارشریعت ہے نہ کہ سامنے والے شخص کا کردار،اگروہ باربار قطع تعلقی کرے تواس کا وبال و گناہ اس کےاپنے سر ہےاور اگر آپ نے بھی قطع تعلقی کی تو آپ میں اور اس میں کیا فرق رہےگا؟بلکہ دونوں برابر کے گناہ میں شریک ہونگے ،اسی لئے سرکار دوعالم ﷺکافرمایا:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:كُنْتُ أَمْشِي ذَاتَ يَوْمٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ، صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ " ثُمَّ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ: " أَمْسِكْ لِسَانَكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ "ترجمہ:کسی دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں چہل قدمی کررہا تھا تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اےعقبہ بن عامر !"تعلق قائم کر تو اس کے ساتھ جو تجھ سےقطع تعلقی کرے ،عطاءکر تو اس کو جو تجھے محروم کردسے اور معاف کر تو اس کو جو تجھ پر ظلم کرے "پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺفرمایا اے عقبہ بن عامر !"اپنی زبان کوقابو میں رکھ،اپنی خطاؤں پر گریہ کر اور تیرا گھر تجھے کفایت کرے۔(شعب الایمان،فصل فی التجاوز والعفو،ج:10،ص:417،رقم:7723،طبع: مكتبة الرشد، للنشر والتوزيع بالرياض)

    3:صرف نام کردینے سے ملکیت ٹانسفر نہیں ہوتی جب تک قبضہ نہ دے اور قبضہ کا شرعی مطلب یہ ہے کہ نام واہب (گفٹ کرنے والا)گفٹ کردینے کے بعد اپنا سارا سامان اس مکان سے نکالے اور موہوب (جس کو گفٹ کردیا گیااس)کے حوالے کردےاور وہ اس پر قبضہ کر لےتب جا کے ہبہ تام ہوگا۔ آپ کے بیان کردہ صورت میں اس کی تفصیل نہیں ہے لہذاتفصیل ارسال کر لینے بعد ہی حکم شرع بتایا جائےگا۔

    4:آپ کا یہ سوال بھی مبہم ہے کہ الفاظ طلاق کیا تھے ،موقع محل کیاتھا اور اس کے بعد رجوع کیا یا نہیں ؟ان ساری باتوں کی تفصیل کے بعد ہی حکم شرع بتا یا جا سکے گا لہذا تفصیل بھیج کر مکمل جواب حاصل کریں ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24ربیع الاول 1441 ھ/22نومبر 2019 ء