betiyon ke darmiyan zindagi mein tarka taqseem karna
سوال
عرض یہ ہے کہ میری دو بیٹیاں ہیں، میرا کوئی بیٹا نہیں ہے۔ شریعت کے مطابق میرے دنیا سے جانے کے بعد میری وراثت کی تقسیم کا کیا حکم ہوگا؟ برائے مہربانی تفصیلاً بتائیں، نوازش ہوگی۔( جبکہ ورثاء میں دو بھائی بھی موجو د ہے )
دوسری بات یہ ہے کہ اگر میں اپنی زندگی میں اپنی دونوں بیٹیوں کو اپنی جائیداد، رقم یا گولڈ اپنی مرضی سے لکھ دوں، تو کیا میری بیٹیوں اور مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں؟ اپنی زندگی میں یہ کام کرنے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی مجھے ان مسائل کا حل بتا دیں۔
سائل:عبد الطیف محمد عثمان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یاد رکھیں کہ ترکہ یا میراث اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے شرعی ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ اصول کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جب تک آپ حیات ہیں، آپ کی جائیداد ترکہ نہیں کہلائے گی، بلکہ وہ بدستور آپ کی اپنی ملکیت ہے۔ البتہ اگر آپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد، رقم یا سونا اپنی دونوں بیٹیوں کو دینا چاہیں تو یہ ہبہ کہلائے گا، میراث نہیں۔ تاہم ہبہ کرنے سے پہلے اپنے اور اپنی بیوی کے لیے اتنا مال ضرور رکھیں کہ آئندہ کسی کے محتاج نہ ہوں یا جتنا اپنے اور بیوی کیلئے مناسب ہو ، اس کے بعد باقی مال اپنی دونوں بیٹیوں کو برابر برابر ہبہ کرسکتے ہیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں اپنی دونوں بیٹیوں کو جائیداد یا مال ہبہ کردیں اور شرعی طور پر ہبہ مکمل ہوجائے، یعنی قبضہ بھی دے دیا جائے، تو وہ مال بیٹیوں کی ملکیت ہوجائے گا اور آپ کے انتقال کے بعد آپ کے ترکے میں شامل نہیں ہوگا۔
البتہ اگر آپ کی زندگی میں ہبہ مکمل نہ ہو اور جائیداد بدستور آپ ہی کی ملکیت میں رہے تو آپ کے انتقال کے بعد وہ جائیداد ترکہ بن جائے گی، اور اس وقت آپ کے تمام شرعی ورثاء، یعنی بیوی، بیٹیاں، بھائی اور بہنیں، شریعت کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اپنے اپنے حصے کے مستحق ہوں گے۔اگر ہبہ کرنے سے مقصود کسی شرعی وارث کو اس کے حقِ وراثت سے محروم کرنا ہو تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ وراثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے اور کسی شخص کے لیے اسے ختم کرنا یا کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم کرنا جائز نہیں، حتیٰ کہ خود وارث بھی اپنے اس حق کو ختم نہیں کرسکتا۔البتہ اگر ہبہ کرنے سے مقصود کسی فتنے یا نزاع سے بچنا ہو، تو اس صورت میں ہبہ کرنا درست ہے، اور اللہ تعالیٰ نیتوں کو خوب جانتا ہے۔
دلائل و جزئیات:
ہبہ کی تعریف سے متعلق علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ در مختار میں فرماتے ہیں :تمليك العين مجانا أی بلا عوض ترجمہ : بغیر عوض دوسرے کو کسی چیز کے عین کا مالک بنانا ( ہبہ کہلاتا ہے ) ۔( در مختار مع رد المحتار ، کتاب الھبۃ ، جلد 8 ، صفحہ 567 ، مطبوعہ کوئٹہ )
ہبہ کی شرائط بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین محمد بن علی حصکفی( المتوفی1088ھ) فرماتے ہیں:شرائط صحتھا فی الموھوب ان یکون مقبوضا غیر مشاع ممیزا غیر مشغول ترجمہ : ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے موہوب میں یہ شرط ہے کہ موہوب پر قبضہ کرلیاگیاہو، موہوب مشاع (مخلوط ملکیت)نہ ہو، ممیز وجداہو ،(موہوب لہ کے علاوہ کسی کی ملک میں)مشغول نہ ہو۔(درمختار ،کتاب الھبۃ ،ج8،ص569،مطبوعہ کوئٹہ)
ہر شخص اپنے مال میں تصرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔چنانچہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: جب وہ اُسی کی مملوکہ ہے، تو نفسِ زمین میں اُسے ہر طرح کے تصرف مالکانہ کا اختیار ہے جسے چاہے دے سکتا ہے، جو چاہے کر سکتا ہے۔ (فتاوی رضویہ ج19،ص223،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)
مال وراثت زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوتا ہے، چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:" ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه".ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو اس کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔ (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ ،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:"وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت أي وقت الحكم بالموت".ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب المفقود،7/367،دار الکتب العلمیۃ)
السراجی فی المیراث میں ہے : تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ .ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی) واللہ اعلم بالصواب
اس طرح وارث کا حقِ وراثت ساقط نہیں ہوگا بلکہ ہر ایک کا حصہ اس کی ملک میں اور تصرف میں دینا ضروری ہے ۔علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:" لَا يَدْخُلُ فِي مِلْكِ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ بِغَيْرِ اخْتِيَارِهِ إلَّا الْإِرْثُ اتِّفَاقًا". ترجمہ:انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیر کوئی شیء داخل نہیں ہوتی ،مگر میراث بالاتفاق داخل ہوتی ہے۔(الاشباہ والنظائر،1/299،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
مزید آپ فرماتے ہیں: "لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ ".ترجمہ: اگر وارث نے کہا:میں نے اپنا حق چھورڈیا ہے،تو اس کا حق باطل نہیں ہوگا کیونکہ ملک چھوڑدینے سے (یعنی محض دستبردار ہونے ) سے باطل نہیں ہوتا۔(الاشباہ والنظائر،1/272،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"الْإِرْثُ جَبْرِيٌّ لَا يَسْقُطُ بِالْإِسْقَاطِ".ترجمہ:وراثت جبری ہے کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتی۔(العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاو ی الحامدیۃ ،کتاب الدعوی،2/26،دار المعرفۃ بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1447 ھ/10ستمبر 2026ء