اپنی تمام کیفیت کو مفتیان کرام سے چیک کروالیں تاکہ زکوٰۃ میں کچھ کمی نہ رہ جائے۔
اس بات کا خصوصی خیال رہے کہ کسی چیز کا دہرا اندراج (Double Entry) نہ ہو، مثلاً سونا، چاندی شروع میں لکھ چکے، تو وہی سونا، چاندی دوبارہ مالِ تجارت والے حصہ میں نہ لکھا جائے، اسی طرح چیک، بانڈز وغیرہ کو نقد رقم میں شامل کرچکے ہیں، تو قابلِ وصول حصہ میں اسے نہ لکھا جائے۔
زکوٰۃ کا مصرف ومستحق مسلمان فقراء و مساکین اور غیر سید ہیں۔ سید کو زکوٰۃ یا صدقاتِ واجبہ دینا جائز نہیں ہے، ہاں! نفلی صدقہ، خیرات، عطیات وغیرہ دے سکتے ہیں۔
بعض لوگ زکوٰۃ کا باقاعدہ حساب نہیں کرتے، جتنا جی میں آئے دے دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل درست نہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اموال کا پورا حساب کرکے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ زکوٰۃ کا حساب کرتے ہوئے ان اموال کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قیمت لگانی چاہیے، نہ کہ خریداری کی قیمت۔
صرف وہ اثاثے شامل کریں جو آپ کے پاس موجود ہیں۔ خالی خانے چھوڑ سکتے ہیں۔