اسلامی موضوعات پر معلوماتی اور تعلیمی آرٹیکل پڑھیں
عدنان علی کیانیمدرّس جامعہ فیضان مصطفی مدینہ مسجد کو رنگی اہم تقاضہ "حصولِ علم"اس دنیا میں جتنے بھی ادیان موجود ہیں ان اہلِ مذہب سے اس کا مذہب کچھ نہ کچھ تقاضا ضرور کرتا ہے تاکہ اہل مذاہب کو اس مذہب کے ظاہری و باطنی دونوں طرح سے ثمراتِ مفیدہ حاصل ہو سکیں یوں ہی عالمگیر، آفاقی لاریب مذہبِ اسلام کا بھی ہر خاص و عام سے تقاضے و مطالبات ہیں کہ بندہِ مومن قبولِ اسلام کے بعد دین اسلام پر ہمیشہ عمل پیرا رہے اور اپنی دنیا اور آخرت کو فہم و فراست سے راہِ نجات بنا سکے سو ان تقاضوں میں سے بنیادی، اخلاقی، تربیتی، من الظلمات الہ النور رہنمائی کرنے والا رکن حصولِ علم ہے جس کا آغاز غارِ حرا کی پرکیف وادیِ حرا سے بذریعہ وحیِ خدا قلبِ مصطفی بصورتِ علم کے ہوا شاہد ہی علمِ دین کی اہمیت و افادیت سے کوئی ناآشنا ہو، ذیل میں حصولِ علم کے حوالے سے بنیادی چیزیں ذکر کی جائیں گی جس سے اس کی اہمیت مزید واضح ہو جائے گی۔تعارفِ علم کسی بھی چیز سے واقفیت سے قبل اس کا تعارف اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ ...
عدنان علی کیانیمدرّس جامعہ فیضان مصطفی مدینہ مسجد کورنگی کراچی مجدد کی تعریف، مجدد کا تعین، خصوصیات و علامات پہلی صدی کے مجدد کا مختصر تعارف مجدد کی تعریف:لفظ مجدد باب تفعیل سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے کہ نیا کرنے والا۔اسکی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے حضرتِ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ اپنی شہر آفاق تصنیف تفہیمات الہیہ میں لکھتے ہیں کہ: مجدد وہ شخص ہو گا جس کو الله تعالیٰ نے قرآن وحدیث کے علم میں خاص مقام عطا فرمایا ہو اور اس کو وقار اورسکینت سے مزین کیا ہو، وہ حرام ووجوب، مکروہ، استحباب واباحت سب کو ان کے مقامات پر رکھے، شریعت کو احادیث موضوعہ سے اور غلط قیاس کرنے والوں کے قیاس سے پاک صاف فرما دے، وہ ہر افراط وتفریط سے پاک کرے، الله تعالیٰ اس کی طرف لوگوں کے قلوب کو متوجہ کر دے، اس سے لوگ آکر اپنی علمی پیاس بجھائیں۔(تفہیمات الٰہیہ، ج01، ص40، ناشر: مدینہ برقی پریس(یوپی)مجدد کا تعین/انتخاب انتخابِ مجدد 01) نہ ہی وہ از خود02) اور نہ ہی عام لوگ03) اور ...
محمد زوہیب رضاقادری 01 ذوالحج 1445ھ، بمطابق 08 جون 2024ءایک خبیث الفطرت ، ازلی بدبخت شخص مجتہد کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجتہد وہ ہے جو مختلف اقوال میں تطبیق (optimal solution ) دے دے اس طرح بیٹھے بیٹھے بندہ مجتہد بن جاتا ہے۔ اور میں نے آپ کو ان دو سوالوں میں مجتہد بنادیا یوں موصوف نے فیس بُک پر تمام سامعین کو پَل بھر میں مجتہد بناکر سرٹیفکیٹ بھی دے ڈالا۔ فیس بُکی دنیا کے ان مجتہدین سے گزارش ہے ذرا حقیقی دنیا کے مجتہد کی صفات بزبان سیدی اعلیٰ حضرت ملاحظہ فرمائیں اور بیان کردہ صفات کا صرف درست تلفظ مع معنی و مفہوم بتادیں تو ہم تسلیم کرلیں گے کہ آپ واقعی مجتہد ہیں۔ مجتہد کی خصوصیات و صفات سے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: جو آیات و احکام و اصابتِ احکام وطرقِ حدیث و شذوذ و نکارت و نقدِ رجال، اسباب جرح و تعدیل و عللِ غاَمضَہ و وجوہِ نظم و صنوحِ معنٰی و جمیع مبادي ادبیہ و اصولیہ و ناسخ و منسوخ و مناہجِ ترجیح و تطبیق و مناشئ حکم و مقاصدِ شرح و مصالحِ زمن و عوائدِ ا...
محمد زوہیب رضا قادری 16 صفر المظفر 1446ھ، 22 اگست 2024ءقحط الرجال اس حالت کو کہتے ہیں جب قوم یا ملک میں مخلص، قابل، اور باصلاحیت افراد کی کمی ہو اور عوامی امور کو چلانے کے لیے کوئی موزوں رہنما یا ماہر نہ ہو۔صدارتی تمغوں و ایوارڈ یافتگان میں کوئی ایک بھی سائنسدان ہے جس نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا کوئی طریقہ دریافت کیا ہو؟ کوئی ایک بھی آبی ماہر ہے جس نے بارش اور سیلاب کے پانی کے استعمال کا کوئی نیا طریقہ بتایا ہو؟ کوئی ایک بھی ڈاکٹر ہے جس نے کسی زرعی یا انسانی و حیوانی بیماری کے علاج کی دوا ایجاد کی ہو؟کوئی ایک بھی انجینیئر ہے جس نے تعمیراتی، طبی، یا کیمیائی شعبے میں کوئی نئی ایجاد کی ہو؟ کوئی ایک بھی معیشت دان ہے جس نے قرضوں کی معیشت کی دلدل سے نکلنے کا کوئی طریقہ بتایا ہو؟جب صرف گلوکار، چور، فراڈیے، بھانڈ، اور میراثی ہی قومی ہیروز اور قابلِ فخر قرار پائیں، یہی توقحط الرجال ہے۔...
محمد زوہیب رضاقادری 03 ذوالحج 1445ھ، بمطابق 10 جون 2024ءفی زمانہ لوگوں میں لادینیت پھیلتی جارہی ہے ۔ لوگ مغرب زدہ ہوکر اللہ کریم جل مجدہ کی ذاتِ کریمہ سے منکر ہوتے جارہے ہیں ۔ رب کریم کی بنائی ہوئی جنت ، دوزخ کا برسرِ عام مذاق بیانا جارہا ہے، جسکی چند بڑی وجوہات میں سے دو درج ذیل ہیں جن کا میں نے بذاتِ خود مشاہدہ کیا ہے۔ 1: ماضی بعید میں مسلمانوں میں چند ایسے فرقے مثلا کرامیہ وغیرہ گزرے ہیں جو اخلاقیات و بیانِ فضائل میں وضع حدیث کو جائز قرار دیتے تھے اور آج کل کے روافض کا بھی یہی حال ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کئی احادیث وضع کیں جن میں سے بعض کو قاضی بیضاوی اور صاحب کشاف نے فضائل سُوَر میں ذکر کیا ہے ۔ ان احادیثِ موضوعہ نے اگر چہ ترغیب و اخلاقیات کے معیار کو بلند کیا ہوگا تاہم فی زمانہ جو کہ عین عقلی و سائنٹفک زمانہ ہے اس میں الحادی ذہن بھی پیداکئے ہیں۔2:ہمارے عصری نظام تعلیم کا اکثر حصہ مغرب زدہ ہے یا مغرب کی للکار ہے اس نصاب کو پڑھنے والے طلباء مغربی اقوام کی ما...
محمد زوہیب رضا قادری28 شوال المکرم 1445ھ، 08 مئی 2024ءاے عزیز ! شریعت عمارت ہے اور اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی، پھر اعمالِ ظاہر وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہوا میں چنے گئے، اور جب تعمیر اوپر بڑھ کر آۤسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیو (بنیاد) کی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف نیو کی بلکہ اعلٰی حصہ اسفل کا بھی محتاج ہے۔ اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی، احمق وہ کہ جس پر شیطان نے نظر بندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب ہم توزمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ نیو سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن مجیدنے فرمایا کہ فانھار بہٖ فی نارجہنم کہ اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے پڑی، والعیاذ باﷲ رب العالمین اسی لئے اولیائے کرام فرماتے ہیں صوفی جاہل شیطان کا مسخرہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عاب...
محمد زوہیب رضاقادری13 صفر المظفر 1445ھ 31 اگست 2023ءبان بن عثمان، يقول: سمعت عثمان يعني ابن عفان، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من قال بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء، في الأرض، ولا في السماء، وهو السميع العليم، ثلاث مرات، لم تصبه فجأة بلاء، حتى يصبح، ومن قالها حين يصبح ثلاث مرات، لم تصبه فجأة بلاء حتى يمسي» ، وقال: فأصاب أبان بن عثمان، الفالج، فجعل الرجل الذي سمع منه الحديث ينظر إليه، فقال له: «ما لك تنظر إلي؟ فوالله ما كذبت على عثمان ولا كذب عثمان على النبي صلى الله عليه وسلم، ولكن اليوم الذي أصابني فيه ما أصابني غضبت فنسيت أن أقولها»ترجمہ: ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے شام کو تین بار یہ دعا پڑھ لی ‘ اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہیں آئے گی ''«بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الأرض ولا فی السماء وہو...
محمد زوہیب رضا قادری6 جمادی الاول 1445ھ بمطابق 21 نومبر 2023ءفقیر احمد یار کہتا ہے کہ رسول ﷲ ﷺ سے اللّٰه تعالی کے نام پر جنت مانگو جیسے حضرت ربیعہ رضی ﷲ عنہ نے حضور انور ﷺ سے جنت مانگی(ایک بار حضرت ربیعہ رضی ﷲ عنہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کے وضو کے لیے پانی لائے تو آقا کریم ﷺ نے فرمایا اے ربیعہ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا تو آپ نے عرض کی) اسئلك مرافقتك في الجنة (یارسول اللّٰه ﷺ جنت میں آپ کی ہمراہی مانگتا ہوں) بعض عشاق کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے جناب مصطفیٰ ﷺ مانگو اور جناب نبی کریم ﷺ سے خدا مانگوحضرت ربیعہ رضی ﷲ عنہ نے بھی حضور انور ﷺ سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور اقدس ﷺ جنت ہی میں ملیں گے اس لئے جنت بھی مانگ لی عرض کیا (اے آقا کریمﷺ) آپ سے آپ کی ہمراہی مانگتا ہوں جو جنت میں ہوگی۔(مرآة المناجيح 136/3)...
محمد زوہیب رضا قادری24 محرم الحرام 1445ھ بمطابق 12 اگست 2023ءایسا شخص جو توحید باری تعالی اور نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفے ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہو ۔ خلفائے راشدین ، جملہ صحابہ کرام، اہل بیت عظام ، آئمہ مذاہب اربعہ خصوصاً حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور متاخرین میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی ، حضرت امام ربانی مجددالف ثانی ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ، حضرت مولانا فضل حق خیر آبادی اور اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان محدّث بریلی رحمہم اللہ تعالیٰ کے عقیدہ پر ہو۔...
محّمد یو نس انس القادریقرآن مجید میں ہر چیز کا بیان ہے: جیساکہ خالق کائنات نے خود فرمایا:تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍیعنی اس میں ہر چیز کا واضح بیان ہے۔(النحل: 89) اس میں کوئی چیزایسی نہیں جسکا بیان نہ ہو،کوئی مسئلہ ایسا نہیں جسکا حل نہ ہو مگر ہر مسئلہ کا حل اور ہر شی کا فہم ہر شخص نہیں کر سکتا،بلکہ اس کے لیے رجالِ خاص ہیں ۔اسی مفہوم کو قرآن نے یوں بیان کیا :وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَالِمُونَ:اس کی سمجھ نہیں مگر عالموں کو۔( العنکبوت :43)اس لیے طالبانِ حق کو فرمایاکہ تم کسی مسئلہ میں الجھ جاؤ،کسی فقہی ،فنی یا تاریخی گنجلکعبارت میں پھنس جاؤ،کسی مسئلہ کی تحقیق تمہیں پریشان کر دے،بظاہر متضاد آیتیں یا حدیثیں پڑ ھ کرتمہارا سر چکرا جائے تو خود سے کوئی مؤقف اپنانے کے بجائےعلمائے ربانیین کی طرف رجوع کرو۔اسی لیے توفرمایا: فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۔علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔(الانبیاء : 7) ...