اسپرے سے وضو کا حکم

    spray se wuzu ka hukum

    تاریخ: 3 اگست، 2026
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 1701

    سوال

    آج کل ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ایک مولانا صاحب ایک اسپرے بتارہے ہیں کہ اگر دوران حج حرم میں وضو کے مسائل ہوں تو اس اسپرے میں موجود پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے۔ اس بارے میں کیا شرعی رہنمائی ہے، تفصیلی جواب بالدلائل عطا فرمائیں نوازش ہوگی۔

    سائل: زنیب افضل:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ویڈیو کو ہم نے بغور دیکھا ہے جس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذکورہ طریقہ اختیار کرنے سے ہرگز وضو نہ ہوگا سو جب وضو نہ ہوگا تو نماز وغیرہ بھی نہ ہوگی۔کیونکہ اس میں چند خرابیاں ہیں لہذا حاجی پر لازم ہے کہ وضو کرنے کے لئے وضو خانے جائے اور وہیں وضو کرے ، بے شک اس میں مشقت ضرور ہے تاہم اسکا ثواب بھی کثیر ہے کہ جس قدر مشقت ہوتی ہے اسی قدر ثواب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بہر کیف اسپرے والی صورت میں درج ذیل خرابیاں ہیں۔

    1: عدم صحت وضو:

    وضو کے لئے لازم ہے کہ اعضاء پر پانی بہہ جائے اور بہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس عضو کو دھویا جارہا ہے اسکے ہر حصہ پر کم از کم دو قطرے بہہ جائیں ، بھیگ لینا یا تیل کیطرح مَل لینا دھونے کے لئے کافی نہیں ، صدرالشریعہ نے اس مسئلے کو بہارِ شریعت میں نقل فرمایا ہے ، چناچہ لکھتے ہیں:کسی عُضْوْ کے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عُضْوْ کے ہرحصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہ جائے۔ بھیگ جانے یا تیل کی طرح پانی چُپَڑلینے یا ایک آدھ بوند بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اس سے وُضو یا غسل ادا ہوگا ، اس امر کا لحاظ بہت ضروری ہے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نمازیں اکارت جاتی ہیں۔ (بہارِ شریعت ، جلد 1 حصہ 288)

    اسپرے والی صورت میں اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ اس اسپرے سے وضو کرنے کی صورت میں اعضاء ِوضو کے ہر حصہ پراتنی مقدار میں پانی نہ بہے کہ جو غَسَل کہلائے ، لہذا جب مقدارِ ضروری للغَسَل یعنی دھونے کی وہ مقدار جو لازم ہے ہی کامل نہیں تو ہرگز وضو بھی نہ ہوگاجب وضو نہ ہوگا تو نماز و دیگر عبادات کیونکر ادا ہو پائیں گی،بالخصوص اس صورت میں تو احتیاط اور زیادہ لازم ہے جبکہ لوگ مسائل شرعیہ میں غیر محتاط ہوں اور فی زمانہ دیکھا گیا ہے کہ وضو خانے جہاں وافر مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے وہاں بھی لوگ وضو کرنے میں ایسی بے احتیاطی کرتے ہیں جوکہ کسی پر مخفی نہیں۔لہذا عوام کو چاہیے کہ ایسے مسائل میں مستند و معتمد علماء سے ہی رجوع کریں، اور سوشل میڈیا پر وارد ہونے والے غیر محتاط و سہل پسند علماء کی تقاریر و بیانات سے صرفِ نظر کریں، کہ کوئی بھی صاحبِ بصیرت عالم یا مفتی عوام کو اس طرح کے مشورے نہیں دیگا ،جس سے لوگ تشویش میں مبتلا ہوجائیں۔

    تلویثِ مسجد :

    علاوہ ازیں اس صورت میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ دورانِ وضو اسکے قطرات مسجد میں ہی گریں گے، جوکہ خود ایک مکروہ عمل ہے، اور بے شبہ اس سلسلے میں لوگ بالکل احتیاط نہیں کریں گے، کراہت کی وجہ یہ ہے کہ وضو کا پانی نجاست ِ حکمیہ اور گناہوں کو لیجانے والا پانی ہے،یہ خود پاک ہوتا ہے لیکن مستعمَل اور غیر مطھر ہے (پاک کرنے والا نہیں)، تمام اکابرین امت اور فقہاء کا یہی حکم ہے کہ اس پانی سے مسجد کو آلودہ کرنا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے۔

    شامی میں ہے: والوضوء الا فيما أعد لذلك۔ ترجمہ:اور مسجد میں وضو کرنا مکروہ ہے سوائے اس جگہ کے جو وضو کے لئے تیار کی گئی ہو۔ اسکے تحت شامی میں ہے: لأن ماءه مستقذر طبعا فيجب تنزيه المسجد عنه، كما يجب تنزيهه عن المخاط والبلغم ۔ترجمہ:کیونکہ وضو کا پانی طبعی طور پر نجس ہوتا ہے، لہذا اس سے مسجد کو بچانا واجب ہے جیساکہ مسجد کو تھوک، بلغم سے بچانا واجب ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین شامی ، جلد1 ص 660 )

    مزید براں یہ کہ اس صورت میں بغیر شرعی وجہ کے وضو کی سنتوں کا ترک کرنا بھی لازم آرہا ہے جوکہ خود ممنوع عمل ہے اور جو بغیر شرعی مجبوری کے سنت کو ترک کریں وہ شفاعت مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محروم رہے گا ۔

    صاحبان ممبر و محراب کو چاہیے کہ عوام الناس کی عقلوں کے مطابق کلام کریں عوام میں ایسی بات سے بھی گریز کرنا چاہیے کہ جو فی نفسہ اگرچہ جائز ہو لیکن عوام میں اشتعال ،تشویش یا فتنے کا سبب بنے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 ذوالقعدہ 1446ھ/ 19 مئی 2025 ء