mengni par paon rakh kar namaz-e-janaza parh diya
سوال
ایک شخص نے ایک جگہ نماز جنازہ پڑھائی دوران نماز اسے لگا شاید پاؤں کے نیچے چھوٹی کنکری وغیرہ ہے، نماز کے بعد دیکھا تو بکری کی مینگنی تھی کیا اس صورت میں نماز ہوگئی یا اب قبر پر نماز پڑھنی ہوگی؟کیونکہ نماز کا اعادہ نہیں کیا گیا اور تدفین ہوگئی ہے
سائل:سید آصف شاہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مینگنی اگرچہ نجاست غلیظہ میں سے ہے لیکن نجاست کی وہ مقدار جسے زائل کرنا فرض یا واجب ہوتا ہے ،اس کی مقداراس سے کم ہے سو نماز ہو گئی ۔البتہ ایسی حالت میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ میت کو دفن کرنے سے پہلے پہلے بہتر تھا چونکہ اب میت کو دفنا دیا گیا اس لیے اعادہ کیااجازت نہیں ۔
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”ہر حلال چوپایہ کا پاخانہ جیسے:گائے،بھینس کا گوبر، بکری اونٹ کی مینگنی۔۔۔یہ سب نَجاستِ غلیظہ ہیں۔ (بہارِ شریعت،جلد1،صفحہ391، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
فتاوی ہندیہ میں نجاست غلیظہ کے حکم کے حوالہ سے ہے:”النجاسۃ ان کانت غلیظۃ وھی أکثر من قدر الدرھم فغسلھا فریضۃ والصلاۃ بھا باطلۃ ،وان کانت مقدار درھم فغسلھا واجب والصلاۃ معھا جائزۃ وان کانت أقل من قدر الدرھم فغسلھا سنۃ“ترجمہ:نجاست اگرغلیظہ ہو اور وہ درہم سے زائد ہو تو اس کا دھونا فرض ہے ،بغیردھوئےنجاست کے ساتھ ہی نماز پڑھ لی، تو نماز باطل ہے۔اگر ایک درہم کے برابر ہے، تو اس نجاست کا دھونا واجب ،بے دھوئے نماز پڑھ لی تو فرض ادا ہوجائیں گے،اگر ایک درہم سے بھی کم ہے، تو اس نجاست کا دھونا سنت ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد1،صفحہ58،مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے:نَجاستِ غلیظہ اگر دِرہَم کے برابر کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہو تو ا س کا پاک کرنا واجِب ہے اگربِغیر پاک کئے نَماز پڑھ لی تو نماز مکروہ ِتحریمی ہوگی اور ایسی صورت میں کپڑے یا بدن کو پاک کرکے دوبارہ نَماز پڑھنا واجب ہے ، جان بوجھ کر اِس طرح نَماز پڑھنی گناہ ہے ۔ اگر نجاستِ غلیظہ درہم سے کم کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہے تو اس کا پاک کرنا سُنّت ہے اگربِغیر پاک کئے نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی، مگر خلافِ سنّت، ایسی نماز کو دوہرا لینا بہتر ہے ۔(بہارِشریعت حصہ:2ص،389مکتبۃ المدینہ)
رد المحتار میں ہے :و انما تفسد اذا کان النجس المانع فی موضع قیامہ أو جبھتہ أو فی موضع یدیہ أو رکبتیہ علی ما مر۔ترجمہ: ۔نماز اس وقت فاسد ہوگی جبکہ نماز سے مانع نجاست کھڑے ہونے کی جگہ یا پیشانی رکھنے کی جگہ یا ہاتھ رکھنے کی جگہ یا گھٹنے رکھنے کی جگہ پر ہو،جیساکہ پیچھے بھی گزرچکا۔ (ردالمحتار ،جلد1،صفحہ 626،مطبوعہ بیروت)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: بعض لوگ جوتا پہنے اور بہت لوگ جوتے پر کھڑے ہو کر نماز جنازہ پڑھتے ہیں، اگر جوتا پہنے پڑھی تو جوتا اور اس کے نیچے کی زمین دونوں کا پاک ہونا ضروری ہے، بقدر مانع نجاست ہوگی تو اس کی نماز نہ ہوگی اور جوتے پر کھڑے ہو کر پڑھی تو جوتے کا پاک ہوناضروری ہے۔(بہارِشریعت حصہ:6ص،826مکتبۃ المدینہ )
واللہ اعلم بالصواب