دوسری بیوی اپنی طلاق کی تحریر لکھ کر شوہر کو بھیجے تاکہ شوہر پہلی بیوی کو دکھاسکے تو کیا حکم؟

    Doosri beevi apni talaq ki tehreer likh kar shohar ko bheje taake shohar pehli beevi ko dikha sake to kya hukam

    تاریخ: 5 جون، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1413

    سوال

    پہلی بیوی کا بیان: شوہر نے فرسٹ وائف کو روکنے کے لیے سیکنڈ وائف کا جھوٹا طلاق نامہ بھیجا فرسٹ وائف کے واٹس ایپ پر اور طلاق نامہ خود سیکنڈ وائف نے لکھا تھا کیا طلاق ہو جائے گی اس پر سائن نہیں کیا تھا شوہر نے۔

    شوہر کا بیان: میرا نام محمد فیصل ہے،میں نے دوسری شادی کی تو میری فرسٹ کو میری سیکنڈ وائف نے این آئی سی بھیج دیا ہمارا تو گھر اور بچوں کو چھوڑ کر دبئی سے کراچی چلی گئی یہ بات سیکنڈ وائف کو پتا چلی تو وہ نہیں چاہتی کہ یہ سب ہو تو اس نے مجھے ایک واٹس ایپ پر نوٹ بنا کر کے بھیجا کہ آپ یہ اپنی فرسٹ کو دکھا دو اور ان کو واپس بلا لووو اور میں نے وہ نوٹ بغیر سوچے سمجھے اور سرسری پڑھ کر اپنی فرسٹ وائف کو سینڈ کر دیا میری کوئی ایسی نیت نہیں تھی اور میں نے ایسا سوچا تھا میں نے صرف بولنا کی نیت سے اپنی وائف کو سینڈ کیا تھا اور نا میں خود سے چھوڑنا چاہتا ہوں کہ گناہ مجھ پر ہو۔

    واٹساپ پر دوسری بیوی نے جو طلاق نامہ لکھ کر شوہر کو بھیجا اور شوہر نے وہ پہلی بیوی کو بھیجا درج ذیل ہے :

    میرا نام محمد فیصل ہے اور اب دبئی میں مقیم ہوں ۔ اپنی دوسری زوجہ قرۃ العین ملک زوجیت محمد فیصل صدیق اپنے وعدہ اور قول وقرار کو پورا نہیں کر پایا اور قرۃ العین کو اپنی زوجہ ہوتے ہوئے اُس فرض اور ذمہ داری پورا کرنے میں نہ اہل رہا اور نہ آگے کرسکتا ہوں ۔ قرۃ العین کے پاس میری طرف سے دیا گیا کچھ بھی نہیں ہے نہ کے حق مہر میں کچھ لکھوایا تھا ۔لہذا میں اپنے ہوش اور حواس میں قرۃالعین ملک کو آزاد کرتا ہوں طلاق دے کر ۔

    میں محمد فیصل صدیق قرۃ العین ملک کو طلاق دیتا ہوں، میں محمد فیصل صدیق قرۃ العین ملک کو طلاق دیتا ہوں ، میں محمد فیصل صدیق قرۃ العین ملک کو طلاق دیتا ہوں ۔

    سائلین: عطیہ و فیصل:کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر مرد اس بات پر حلف لے لے کہ اس نے یہ تحریر بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے نہیں بھیجی تو اسکی بات کا اعتبار کرتے ہوئے عدمِ وقوعِ طلاق کا حکم دیا جائے گا۔ کیونکہ واٹساپ، میسج یا سادہ کاغذ پر لکھ کر طلاق دینا '' طلاقِ مستبینہ غیر مرسومہ '' ہے، جو ضرور محتاجِ نیت ہے یعنی اگر نیت ہو تو طلاق ہوگی وگرنہ ،نہ ہوگی۔

    اگرچہ یہ الفاظ شوہر نے نہیں لکھے دوسری بیوی نے لکھے مگر شوہر کو اتنا ضرور معلوم ہے کہ یہ تحریر طلاق سے متعلق ہے اور اس نےیہی سمجھ کر یہ تحریر پہلی بیوی کو بھیجی ہےتاکہ پہلی بیوی واپس آجائے ۔ اور ہمارے عرف میں جب بھی کوئی شخص ایسی حساس نوعیت کی تحریر یا پیغام کسی دسرے فرد بالخصوص متعلقہ فرد کو بھیجتا ہے تو اسکا یہ عذر مسموع نہیں ہوتا کہ میں نے ٹھیک سے پڑھی نہیں ، میں نے بغیر سوچے سمجھے بھیج دی وغیرہ ، بلکہ ایسی تحریر آگے فارورڈ کرنے کا مطلب و مقصد عرف میں یہی ہے کہ میں اس تحریر کے مضمون سے مکمل متفق ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہاں ایسے قرائن ضرور موجود ہیں جو اس بات پر دلالت کررہے ہیں کہ شوہر نے یہ تحریر بیوی کو طلاق کی نیت سے بھیجی ہے لیکن شوہر اس بات کا مُقِر (اقراری) نہیں ہے بلکہ نیت کا انکاری ہے۔ لہذا اس صورت میں عدمِ نیت سے متعلق اسکی بات بلاحلف معتبر نہ ہوگی۔ لہذا اس پر حلف لازم ہے سو اگر وہ حلف لے لے کہ اس نے یہ الفاظ نیتِ طلاق سے نہیں کہے تو اسکی بات کا اعتبار کرتے ہوئے عدمِ وقوعِ طلاق کا حکم دیا جائے گا۔

    لیکن اگر واٹساپ پر میسج طلاق کی نیت سے کیا تھا لیکن بعد میں نیت کا منکر ہوگیا تو اس کا وبال مرد کے سر ہوگا ساری زندگی حرام کا مرتکب ہوتا رہے گا۔ اگر اس کے باوجود میاں بیوی والے معاملات کرے گا تو سخت گناہ میں ملوث ہوگا ۔ بروز قیامت سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

    حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)

    واٹساپ یا میسج کے ذریعے طلاق دینا بھی مستبینہ غیر مرسومہ طلاق کی ایک صورت ہے لہذا بلا نیت سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔

    یہاں شوہر کی بات بغیر حلف کے معتبر نہیں جیساکہ فتاوٰی رضویہ میں سیدی اعلٰی حضرت ہندیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: اماقضاء فتنقسم ھذا الصورۃ الٰی قسمین الاوّل ان توجد ھٰھنا قرینۃ یستأنس بھا علی تحقق النیۃ ویکون ھوالاظھرفی المقام فح یحکم بالوقوع مالم یقل انی لم اردھا فان قالہ فلا یصدق الابالیمین فان حلف صدق لکونہ امینا فی الاخبار عمافی نفسہ وقداتی بمایحتملہ کلامہ ۔ترجمہ: نیّت میں اضافت کا قضاءً حکم دوقسم پر ہے:اوّل یہ ہے کہ ایسی صورت کہ جہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے محسوس کیا جائے کہ خاوند نے اضافت کی نیت کی ہے، اور یہ مقام کے لحاظ سے واضح ہوسکے، تو ایسے مقام پر طلاق کے وقوع کاحکم کیا جائے گا جب تک خاوند یہ نہ کہہ دے کہ میں نے بیوی کا ارادہ نہیں کیا اور اگر اس نے ایسا کہہ دیا تو اس سے قسم لی جائے گی اور قسم کے بغیر اس کی تصدیق نہ کی جائے گی، اگر اس نے قسم دے دی تو پھر اس کی تصدیق کردی جائے گی اورطلاق نہ ہوگی، کیونکہ اپنی نیت کے متعلق خبر دینے میں سے امین تصوّر کیا جائے گا جبکہ اس نے کلام بھی ایسی کی ہے جس میں گنجائش ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد 12 ص 350، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجـــــواب صحــــیـح

    ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    20 محرم الحرام1448ھ/ 06 جولائی 2026 ء