Baghair number allot kiye mehaz zameen dikha kar plot bechna
سوال
ریئل اسٹیٹ میں یہ جو قسطوں پر پلاٹ ملتے ہیں ، وہ بغیر پلاٹ نمبر کے ہوتے ہیں بعد میں کچھ مہینوں بعد نمبرز کی الائٹمنٹ ہوتی ہےصرف جگہ دکھا دی جاتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیایہ پلاٹ لینا جائز ہے؟جبکہ کچھ بکنگ اماؤنٹ جمع کروانے کے بعد سوسائٹی والے اپنے لیٹر ہیڈ پر خریدنے والے کے نام کے ساتھ اماؤنٹ اور سارا ریکارڈ لکھ کر ایک پیپر دے دیتے ہیں کہ یہ پلاٹ تمہارا ہے، اس طرح پلاٹ لینا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں اگر قسطوں پر خریدے جانے والے پلاٹ کا وجود واقعی ہے اور نقشے کے مطابق اس کا فیز، سیکٹر، بلاک، گلی، سمت اور رقبہ وغیرہ واضح طور پر متعین ہوں، نیز خریدار موقع پر جا کر اس کے محل وقوع کی نشاندہی اور معائنہ کر سکتا ہو، تو صرف ابتدائی طور پر محض پلاٹ نمبر الاٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی خرید و فروخت ناجائز قرار نہیں دی جا سکتی، بلکہ یہ بیع جائز اور درست ہوگی۔
بعض اوقات ڈویلپمنٹ کے کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر پلاٹ گلی یا روڈ سے حسی طور پر ممتاز یا الگ الگ نظر نہیں آ رہے ہوتے، مگر اس کا وجود اور حدودِ اربعہ نقشے میں متعین ہوتی ہیں، لہذا اس معمولی جہالت (جسے جہالتِ یسیرہ بھی کہا جاتا ہے)و عدمِ تعین سے عقد میں کوئی ایسا نزاع پیدا نہیں ہوتا جو شرعاً فساد کا باعث بنے۔جبکہ بیع میں ایسی جہالت سببِ فساد ہے جو مفضی الی المنازعہ ہو۔کما ھو فی کتب العامہبالخصوص ہمارے زمانے میں پلاٹ وغیرہ کی مذکورہ طریقے سے خرید وفروخت کا عرف و تعامل بھی ہے لہذا اس عرف و تعامل کی وجہ سے بھی جہالتِ یسیرہ کو نظر انداز کیا جاتاہے۔
بالخصوص جب سوسائٹی والے خریدار کی رقم ، پلاٹ نمبر اوردیگر ریکارڈ کا باقاعدہ لیٹر ہیڈ پر اندراج کر کے بیع کی تصدیق کر دیتے ہیں، تواس وقت ہر طرح کی جہالت رفع ہوجاتی ہے اور معاملہ بالکل واضح و عیاں ہوجاتا ہے۔لہذا اس طرح پلاٹ کی خرید و فروخت شرعاً بالکل جائز و درست ہوگی۔
تفصیل:
فقہِ حنفی کی رو سے میں مذکورہ بیع کی صحت و جواز اور عدمِ جواز میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک کسی مکان یا زمین میں سے غیر متعین گز یا میٹر بیچنا مبیع کی جہالت کی وجہ سے فاسد ہے، کیونکہ زمین یا مکان کے تمام اجزا اور اطراف کی قیمت، عمدگی اور افادیت یکساں نہیں ہوتی، مثلاً کارنر کا پلاٹ، مین روڈ پر واقع پلاٹ یا ویسٹ اوپن پلاٹ عام اندرونی، پارک کے پیچھے یا روڈ سے ہٹ کر بنے پلاٹ کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہوتا ہے،لہذا عدمِ تعیّن نزاع کا سبب بن سکتا ہے۔
جبکہ صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ) کے نزدیک یہ بیع جائز ہے، کیونکہ اس غیر متعین حصے کو پوری زمین میں مشاع فرض کر لیا جاتا ہے اور مشاع کی بیع بالاتفاق جائز ہے۔
پھر فقہاء حنفیہ کی صاحبین کے اس قول کی تعبیر و تشریح میں دو آراء ہیں؛ پہلی رائے کے مطابق یہ بیع اسی وقت مشاع کی بنیاد پر صحیح ہوگی جب پوری زمین کا کل رقبہ معلوم ہو، لیکن راجح اور مفتیٰ بہ تعبیر کے مطابق کل رقبہ معلوم نہ بھی ہو تب بھی بیع جائز ہے، کیونکہ یہ ایسی جہالتِ یسیرہ ہے جس کی تعیین اور رفعِ نزاع ،بعد میں نقشے اور باہمی رضامندی سے طرفین کے اپنے اختیار میں ہوتا ہےاور عموماً بلکہ اکثر طور پر ایسی جہالت کیوجہ سے نزاع نہیں ہوتا لہذا یہ بیع مطلقاً (خواہ کل رقبہ معلوم ہو یا نہ ہو) درست ہوگی۔
ہدایہ میں ہے: قال: ومن اشترى عشرة أذرع من مائة ذراع من دار أو حمام فالبيع فاسد عند أبي حنيفة" وقالا: هو جائز، وإن اشترى عشرة أسهم من مائة سهم جاز في قولهم جميعا"لهما أن عشرة أذرع من مائة ذراع عشر الدار فأشبه عشرة أسهم. وله أن الذراع اسم لما يذرع به، واستعير لما يحله الذراع وهو المعين دون المشاع، وذلك غير معلوم، بخلاف السهم. ولا فرق عند أبي حنيفة بين ما إذا علم من جملة الذراعان أو لم يعلم هو الصحيح خلافا لما يقوله الخصاف لبقاء الجهالة.ترجمہ: قال: "اور جس نے سو گز کے مکان یا حمام میں سے دس گز خریدے، تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ بیع فاسد ہے" اور صاحبین نے فرمایا: یہ جائز ہے، اور اگر اس نے سو حصوں میں سے دس حصے خریدے تو ان سب کے قول کے مطابق جائز ہے۔ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ سو گز میں سے دس گز مکان کا دسواں حصہ ہیں، لہٰذا یہ دس حصوں کے مشابہ ہو گیا۔ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ گز اس چیز کا نام ہے جس سے پیمائش کی جائے، اور مجازاً اس جگہ کے لیے مستعار استعمال ہوتا ہے جس کو گز گھیرے، اور وہ جگہ متعین ہوتی ہے نہ کہ شائع، اور وہ (متعین جگہ) غیر معلوم ہے، بخلاف حصے کے۔ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس میں کوئی فرق نہیں کہ تمام گزوں کی کل مقدار معلوم ہو یا معلوم نہ ہو، الخصاف کے قول کے برعکس، اور صحیح بات یہی ہے، کیونکہ جہالت برقرار رہتی ہے۔(ہدایہ شرح بدایہ ، ج 3 ص 25،26 دار احیاء التراث)
علامہ ابن ھمام اسکے تحت فرماتے ہیں: ومبنى الخلاف على أن المؤدى من عشرة أذرع من مائة ذراع معين أو شائع فعندهما شائع كأنه باع عشر مائة وبيع الشائع جائز اتفاقا كما في بيع عشرة أسهم من مائة سهم، وعنده مؤداة قدر معين، والجوانب مختلفة الجودة فتقع المنازعة في تعيين مكان العشرة ففسد البيع، فلو اتفقوا على أن مؤدى عشرة أذرع من مائة من هذه الدار شائع لم يختلفوا، ولو اتفقوا على أنه متعين لم يختلفوا۔ترجمہ: اور اختلاف کی بنیاد اس بات پر ہے کہ سو گز میں سے دس گز کی صورت میں جو مبیع ادا کی جاتی ہے وہ متعین ہے یا شائع، پس صاحبین کے نزدیک وہ شائع ہے، گویا اس نے سو کا دسواں حصہ بیچا اور شائع کی بیع بالاتفاق جائز ہے جیسا کہ سو حصوں میں سے دس حصے بیچنے میں ہے، اور امام صاحب کے نزدیک اس کا حاصل ایک متعین مقدار ہے، جبکہ مکان کے اطراف اور جوانب کی کیفیت الگ الگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے دس گز کی جگہ متعین کرنے میں نزاع واقع ہوگا، اس لیے بیع فاسد ہو گئی۔ پس اگر یہ حضرات اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس مکان کے سو گز میں سے دس گز کی ادائیگی شائع ہی ہوتی ہے تو ان کے درمیان کوئی اختلاف نہ رہے، اور اگر وہ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ یہ متعین ہی ہوتی ہے تب بھی ان کے درمیان کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔
کچھ آگے لکھتے ہیں:
امام خصاف کی قولِ امام کی توجیہ اور صاحبین کے قول پر مشائخ کی تعبیر : ولما وضع المسألة في الجامع في عشرة أذرع من مائة ذراع ظهر أن ما قال الخصاف من أن الفساد عنده فيما إذا لم يعرف جملة الذرعان؛ وأما إذا عرف جملتها فالبيع عنده صحيح غير واقع من جهة الرواية، وكذا من جهة الدراية فإن الفساد عنده للجهالة كما قلنا، وبمعرفة قدر جملة المبيع لا تنتفي الجهالة عن البعض الذي بيع منه، واختلف المشايخ على قولهما فيما إذا باع ذراعا أو عشرة أذرع من هذه الأرض، ولم يسم جملتها فقيل على قولهما لا يجوز؛ لأن صحته على قولهما باعتبار أنه جزء شائع معلوم النسبة من الكل، وذلك فرع معرفة جملتها، والصحيح أنه يجوز لأنها جهالة بأيديهما إزالتها بأن تقاس كلها فيعرف نسبة الذراع أو العشرة منها فيعلم قدر المبيع۔ترجمہ: اور جب جامع میں مسئلہ اس طرح بیان کیا گیا کہ سو گز میں سے دس گز تو یہ بات ظاہر ہو گئی کہ خصاف نے جو کہا ہے کہ امام صاحب کے نزدیک فساد اس صورت میں ہے جب کل گز معلوم نہ ہوں، اور جب کل گز معلوم ہوں تو ان کے نزدیک بیع صحیح ہے، یہ روایت اور درایت کی جہت سے غیر واقع ہے، کیونکہ امام صاحب کے نزدیک فساد جہالت کی وجہ سے ہے جیسا کہ ہم نے کہا، اور مبیع کی کل مقدار معلوم ہو جانے سے اس بعض سے جہالت ختم نہیں ہوتی جس کی بیع کی گئی ہے۔ اور صاحبین کے قول پر مشائخ کے درمیان اس صورت میں اختلاف ہوا ہے جب اس زمین میں سے ایک گز یا دس گز بیچے جائیں اور اس کی کل مقدار کو بیان نہ کیا جائے، تو ایک قول یہ کہا گیا کہ صاحبین کے قول پر بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ ان کے قول پر اس کا صحیح ہونا کل میں سے ایک معلوم النسبت شائع حصہ ہونے کے اعتبار سے ہے، اور وہ کل کی معرفت پر موقوف ہے، اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ جائز ہے کیونکہ یہ ایسی جہالت ہے جسے ختم کرنا ان دونوں کے ہاتھ میں ہے اس طرح کہ اس پوری زمین کی پیمائش کر لی جائے تو اس میں سے ایک گز یا دس گز کی نسبت معلوم ہو جائے گی اور مبیع کی مقدار کا علم ہو جائے گا۔
اس فقہی و تجزیاتی تطبیق کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ دور میں رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت بغیر متعین نمبر کے کسی مجموعہ اراضی میں سے اسکا مخصوص رقبہ (مثلاً 100 میٹریا سو گز) خریدنا صاحبین کے قول پر شرعاً بالکل جائز ہے، کیونکہ عرف و تعامل کی وجہ سے یہ عدمِ تعیّن اور مؤخر شدہ تخصیص طرفین کے درمیان کسی واقعی نزاع یا خصومت کا سبب نہیں بنتی ۔تاہم جہاں سوسائٹی یا کمپنی کے حالات غیر مستحکم ہوں اور اس غیر متعین بیع کی وجہ سے فریقین میں شدید نزاع اور دھوکے (غرر) کا قوی اندیشہ موجود ہو، وہاں فسادِ عقد سے بچنے کے لیے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے احوط قول پر عمل کرتے ہوئے احتیاط اختیار کرنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔
مزید دلائل و جزئیات:
مبیع و ثمن کا معلوم ہونا ضروری ہے جیساکہ ہدایہ شرح بدایہ میں ہے: والأثمان المطلقة لا تصح إلا أن تكون معروفة القدر والصفةلأن التسليم والتسلم واجب بالعقد، وهذه الجهالة مفضية إلى المنازعة فيمتنع التسليم والتسلم، وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز، هذا هو الأصل۔ ترجمہ: اور مطلق ثمن درست نہیں ہوتے مگر یہ کہ ان کی مقدار اور صفت معلوم ہو، کیونکہ عقد کے ذریعے تسلیم و تسلم یعنی لین دین واجب ہو جاتا ہے، اور یہ جہالت نزاع کا باعث بنتی ہے جس سے تسلیم و تسلم ممتنع ہو جاتا ہے، اور ہر وہ جہالت جو اس صفت کی حامل ہو وہ جواز کو مانع ہوتی ہے، یہی اصل کلی ہے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، جلد3 ص 24 ،دار احیاء التراث)
بہارِ شریعت میں ہے : ” مبیع و ثمن دونوں اس طرح معلوم ہوں کہ نزاع پیدا نہ ہوسکے۔ اگر مجہول ہوں کہ نزاع ہو سکتی ہو ، تو بیع صحیح نہیں۔ (بہار شریعت ، 2 / 617 )
فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے جہاں عقدِ بیع کی صحت کے لیے مبیع اور ثمن کی تعیین و معرفت کو لازمی شرط قرار دیا ہے، وہیں اس ضابطے کی علت بھی واضح فرمائی ہے کہ ایسی جہالت جو طرفین کے درمیان کسی قسم کی نزاع یا جھگڑے کا باعث بنے، مانعِ صحتِ بیع ہےجبکہ وہ معمولی یا غیر مؤثر جہالت جو عرفِ عام یا تعاملِ ناس کی وجہ سے نزاع و خصومت کا سبب نہ بنے، شرعاً معاف اور قابلِ برداشت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے متعدد فرعی مسائل میں اس کی نظائر بیان کی ہیں، مثلاً کسی غیر معلوم الوزن مخصوص پتھر کو معیار بنا کر سامان خریدنا، یا کسی ایسے برتن کو پیمانہ بنا کر غلہ وغیرہ کی خرید و فروخت کرناجس کی مقدار معلوم نہ ہو، یا غلے کے پورے ڈھیر (صبرہ) کو بغیر ناپے تولے محض تخمینے اور اندازے سے بعینہٖ (خلافِ جنس کیساتھ )خریدنا ان تمام صورتوں میں اگرچہ مبیع کا حتمی وزن یا مقدار متعین نہیں ہوتی،لیکن اس وزن اور مقدار کا معلوم نہ ہونا عرفاً اور تعاملاً مفضی الی المنازعہ نہیں ہوتا ، لہذا شرعاً ان تمام عقود کو درست اور نافذ قرار دیا گیا ہے۔ اس شرعی اصول سے واضح ہوتا ہے کہ شریعتِ مطہرہ کا اصل مقصود معاملات کو نزاع و خصومت سے پاک رکھنا ہے، لہٰذا جس عقد میں جہالتِ مفضی الی النزاع نہ ہو، وہ عقد شرعی طور پر صحیح اور قابلِ اعتبار شمار ہوگا اور اس پر بیع کے تمام آثار مرتب ہوں گے۔
ہدایہ شرح بدایہ میں ہے: ويجوز بإناء بعينه لا يعرف مقداره وبوزن حجر بعينه لا يعرف مقداره"؛ لأن الجهالة لا تفضي إلى المنازعة۔ ترجمہ: اور ایسے متعین برتن کے ساتھ بیع جائز ہے جس کی مقدار معلوم نہ ہو، اور ایسے متعین پتھر کے وزن سے بیع جائز ہے جس کی مقدار معلوم نہ ہو، کیونکہ یہ جہالت نزاع کا باعث نہیں بنتی۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، جلد3 ص 24 ،دار احیاء التراث)
خاتم المحققین علام ابن عابدین شامی فرماتے ہیں: ومعلومیۃ المبیع و معلومیۃ الثمن بما یرفع المنازعۃ۔ ترجمہ: اور مبیعاور ثمن کا معلوم ہونا اس حد تک ضروری ہے جو نزاع کو ختم کر دے۔(رد المحتار علی در مختار، جلد 07، صفحہ 15، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
شیخ محقق، شاہ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:و الغرر يكون للجهل بالمبيع أو ثمنه أو سلامته أو أجَله، و قد يُتحمل غرر قليل و جهل يسير لأنهم أجمعوا على جواز دخول الحمام بالأجرة مع اختلاف عادة الناس في صبّ الماء وفي قَدْر مكثهم، و على جواز الشرب من السقاء بالعوض مع جهالة قدر المشروب واختلاف عادة الشاربين، و لها أمثال ذكرها الطيبي، وذلك للحاجة وتعذر الاحتراز عنه إلا بمشقة۔ترجمہ: اور دھوکہ کبھی مبیع میں جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے یا کبھی ثمن میں جہالت کے سبب یا کبھی چیز کی سلامتی یا ادائیگی کی مدت کے سبب ہوتا ہے۔ اور قلیل دھوکہ یا معمولی جہالت برادشت کرلی جاتی ہے، کیونکہ اہلِ علم کا اس پر اتفاق ہے کہ:حمام میں اجرت دے کر داخل ہونا جائز ہے، حالانکہ لوگوں کی عادتیں پانی ڈالنے اور وہاں ٹھہرنے کے وقت میں مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح سقاء سے قیمت کے عوض پانی پینا بھی جائز ہے، اگرچہ پینے کی مقدار معلوم نہیں ہوتی اور پینے والوں کی عادتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اور اس طرح کی کئی مثالیں علامہ طیبی نے ذکر کی ہیں۔ یہ اس لیے جائز قرار دیا گیا کہ لوگوں کی ضرورت ہے اور اس سے بچنا بہت دشوار ہے مگر سخت مشقت کے ساتھ۔ (لمعات التنقیح، جلد 05، صفحہ 564، دار النوادر، دمشق)۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب