ٹائل اور ماربل پر تیمم کا حکم

    tile aur marble par tayammum ka hukm

    تاریخ: 12 جولائی، 2026
    مشاہدات: 63
    حوالہ: 1612

    سوال

    کیا ٹائل پر تیمم کرنا درست ہے ، بعض ٹائل Mate کی ہوتی ہیں، اور بعض Polish والی ۔ اسی طرح ماربل کا بھی حکم ارشاد فرما دیں، بعض ماربل مصنوعی ہوتے ہیں اور اکثر قدرتی ، لیکن قدرتی ماربل بھی جب فرش پر لگایا جاتا ہے تو اس کی رگڑائی ہوتی ہے اور اس پر پالش بھی لگائی جاتی ہے ، کیا پالش لگے ماربل پر تیمم جائز ہے ؟

    سائل: شوال مدنی ۔ (دار الافتاء سیلانی ویب سائٹ)

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قدرتی ماربل پر تیمم جائز ہے، خواہ اس کی رگڑائی اور پالش ہو چکی ہو اور اس پر گرد و غبار نہ ہو، بشرطیکہ اس کے اوپر ویکس (Wax) یا کسی کیمیکل کی الگ تہہ نہ چڑھائی گئی ہو۔ یہی حکم اس ٹائل کا ہے جس پر گلیز (Glaze) یعنی روغن کی تہہ نہ ہو۔ اس کے برعکس مصنوعی ماربل پر، گلیز والی ٹائل پر (خواہ وہ میٹ (Matte) ہو یا پالش (Polish) والی) اور اس ماربل یا ٹائل پر جس کے اوپر ویکس وغیرہ کی تہہ لگی ہو، تیمم اسی وقت جائز ہوگا جب اس پر مٹی کا اتنا گرد و غبار موجود ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے، ورنہ نہیں۔

    تفصیل مسئلہ:

    تیمم جنس زمین سے ہوتا ہے، اور جنس زمین وہ چیز ہے جو آگ میں جلانے سے نہ راکھ ہو اور نہ دھاتوں کی طرح نرم پڑ کر یا پگھل کر ڈھلے۔ جو چیز جنس زمین سے ہو اس پر گرد و غبار کا ہونا شرط نہیں، جبکہ جو چیز جنس زمین سے نہ ہو اس پر تیمم اسی وقت درست ہے جب اس پر مٹی کا اتنا غبار ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے۔ نیز اگر جنس زمین کے اوپر کسی غیر جنس کی تہہ چڑھی ہو تو ہاتھ چونکہ اسی تہہ پر پڑتا ہے، اس لیے حکم کا مدار اسی تہہ پر ہوگا، اور جس چیز میں جنس زمین کے ساتھ غیر جنس ملی ہو اس میں غالب کا اعتبار ہے۔

    قدرتی ماربل پتھر ہے جو آگ میں نہ راکھ ہوتا ہے اور نہ دھاتوں کی طرح ڈھلتا ہے، بلکہ سخت حرارت سے چونا بن جاتا ہے، اور چونا خود جنس زمین سے ہے۔ فرش پر لگانے کے بعد اس کی جو رگڑائی اور پالش کی جاتی ہے وہ عموما محض گھسائی ہوتی ہے، جس میں پتھر کی اوپری باریک پَرَت اتار کر اسی کی سطح کو چمکایا جاتا ہے اور اوپر کوئی تہہ نہیں چڑھتی، لہذا ایسے ماربل پر تیمم بلا شبہ جائز ہے۔ اسی طرح جو سیلر (Sealer:وہ حفاظتی محلول جو پتھر کے مسام بند کرنے کے لیے لگایا جاتا ہے تاکہ پانی اور داغ اندر جذب نہ ہوں) پتھر کے اندر جذب ہو جاتا ہے اور سطح پر الگ تہہ نہیں بناتا، وہ بھی مانع نہیں۔ البتہ بعض جگہ چمک یا حفاظت کے لیے اوپر سے ویکس یا اسی قسم کے کیمیکل کی تہہ لگائی جاتی ہے، اور یہ جنس زمین سے نہیں، اس لیے اس صورت میں غبار کے بغیر تیمم درست نہ ہوگا۔

    مصنوعی ماربل پتھر کے سفوف اور پولیسٹر ریزن (Polyester Resin) کا مرکب ہے، اور اس کی بیرونی سطح پر عموما خالص ریزن ہی کی تہہ ہوتی ہے جسے جیل کوٹ (Gel Coat) کہتے ہیں۔ ریزن پلاسٹک کی قسم ہے جو آگ سے جل جاتی ہے اور جنس زمین سے نہیں۔ چونکہ ہاتھ اسی تہہ پر پڑتا ہے، اس لیے اگرچہ اندرونی مرکب میں پتھر کا سفوف غالب ہو، اس پر غبار کے بغیر تیمم جائز نہیں۔

    ٹائل کا اصل جسم مٹی اور معدنیات سے بنتا ہے جو جنس زمین ہے، لیکن اکثر ٹائلوں کی سطح پر گلیز چڑھائی جاتی ہے۔ گلیز دراصل مصنوعی شیشہ ہے جو ریت میں دوسرے اجزاء ملا کر تیار کیا جاتا اور بھٹی میں پکا کر ٹائل کی سطح پر جما دیا جاتا ہے۔ یہ تہہ چمکدار بھی ہوتی ہے اور میٹ بھی، لہذا محض میٹ ہونا گلیز نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ فقہائے کرام نے مصنوعی شیشے پر اور ان برتنوں پر جن پر غیر جنس کا روغن چڑھا ہو تیمم ناجائز قرار دیا ہے، اس لیے گلیز والی ٹائل پر غبار کے بغیر تیمم درست نہیں۔ جس ٹائل پر گلیز نہ ہو اور اس کی چمک محض مشینی گھسائی سے پیدا کی گئی ہو، اس پر تیمم جائز ہے۔ جہاں یہ معلوم نہ ہو سکے کہ سطح پر کوئی تہہ ہے یا نہیں، وہاں احتیاط اسی میں ہے کہ غبار والی جگہ یا کسی یقینی جنس زمین پر تیمم کیا جائے۔

    دلائل و جزئیات:

    تیمم کے پاک زمین سے ہونے کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے: فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا. ترجمہ: اور ان صورتوں میں پانی نہ پایا تو پاک مٹی سے تیمم کرو ۔ (المائدۃ: 6)

    جنس زمین کی پہچان کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: "ثم لا بد من معرفة جنس الأرض، فكل ما يحترق بالنار فيصير رمادا كالحطب والحشيش ونحوهما، أو ما ينطبع ويلين كالحديد والصفر والنحاس والزجاج، وعين الذهب والفضة ونحوها فليس من جنس الأرض، وما كان بخلاف ذلك فهو من جنسها". ترجمہ: پھر جنس زمین کی پہچان ضروری ہے، تو ہر وہ چیز جو آگ سے جل کر راکھ ہو جائے جیسے لکڑی اور گھاس وغیرہ، یا جو (آگ سے) ڈھل جائے اور نرم پڑ جائے جیسے لوہا، پیتل، تانبا، شیشہ اور خالص سونا چاندی وغیرہ، وہ جنس زمین سے نہیں، اور جو اس کے برخلاف ہو وہ جنس زمین سے ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ، فصل بیان ما یتیمم بہ، 1/53، دار الکتب العلمیۃ)

    جنس زمین کی جامع تعریف کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ جنس ارض کی تعریف میں اصح وواضح وجامع ومانع عبارت پانزدہم عبارت رضویہ ہے: وہ ثقیل یابس الاصل کہ نہ کثیر المائیۃ ہو نہ آگ سے منطرق‘‘۔

    (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید علی نبت جنس الصعید، 3/616، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    جنس زمین پر غبار کے شرط نہ ہونے کے متعلق علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: "فقال أبو حنيفة: يجوز التيمم بكل ما هو من جنس الأرض، التزق بيده شيء أو لا". ترجمہ: امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ہر اس چیز سے تیمم جائز ہے جو جنس زمین سے ہو، خواہ ہاتھ کو اس میں سے کچھ لگے یا نہ لگے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ، فصل بیان ما یتیمم بہ، 1/53، دار الکتب العلمیۃ)

    چونے، چکنے پتھر اور مٹی کے پکے ہوئے برتن پر تیمم کے متعلق علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: "فعلى قول أبي حنيفة يجوز التيمم بالجص والنورة والزرنيخ والطين الأحمر والأسود والأبيض، والكحل والحجر الأملس والحائط المطين والمجصص ... والآجر والخزف المتخذ من طين خالص". ترجمہ: پس امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر گچ، چونے، ہڑتال، سرخ، سیاہ اور سفید مٹی، سرمہ، چکنے پتھر، مٹی سے لپی ہوئی اور گچ کی ہوئی دیوار، پکی اینٹ اور خالص مٹی سے بنے ہوئے ٹھیکرے (برتن) سے تیمم جائز ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ، فصل بیان ما یتیمم بہ، 1/53-54، دار الکتب العلمیۃ)

    سنگ مرمر اور بے غبار پتھر پر تیمم کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ تیمم کی جائز اشیاء کے شمار میں فرماتے ہیں:’’ (۴) پتھر مرّعن... اگرچہ صاف دھلا بے غبار ہو... (۴۷) کلس چونا ... اقول یعنی وہ کہ سنگ گچ یا سنگ مرمر کوئی پتھر پھونک کر بنا ہو... (۱۳۳) سنگ مرمر ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/629-645، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    پتھر کے جل کر چونا بننے کے منافی ارضیت نہ ہونے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ یونہی نکلس بھی کہ اس جسم میں ہوتاہے جس میں اجزائے ارضیہ بکثرت اور رطوبات بہت کم ہیں اور اعتبارغالب ہی کاہے تووہ جسم جنس ارض ہی سے ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/611-612، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    شیشے پر تیمم کے ناجائز اور پتھر کی راکھ (چونے) اور دھلے ہوئے پتھر پر جائز ہونے کے متعلق علامہ علاء الدین الحصکفی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "ولا (بمنطبع) كفضة وزجاج (ومترمد) بالاحتراق إلا رماد الحجر فيجوز كحجر مدقوق أو مغسول، وحائط مطين أو مجصص، وأوان من طين غير مدهونة". ترجمہ: اور (تیمم جائز نہیں) ڈھلنے والی چیز سے جیسے چاندی اور شیشہ، اور نہ جل کر راکھ ہونے والی چیز سے، سوائے پتھر کی راکھ کے کہ اس سے جائز ہے، جیسے پسے ہوئے یا دھلے ہوئے پتھر سے، اور مٹی سے لپی ہوئی یا گچ کی ہوئی دیوار سے، اور مٹی کے ان برتنوں سے جن پر روغن نہ کیا گیا ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، 1/240، دار الفکر)

    شیشے کی اصل اور پتھر کی راکھ کی وضاحت کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله وزجاج) أي المتخذ من الرمل وغيره بحر ... (قوله إلا رماد الحجر) كجص وكلس ... (قوله أو مغسول) مبالغة في عدم اشتراط التراب". ترجمہ: (شیشے سے مراد) وہ شیشہ ہے جو ریت وغیرہ سے بنایا گیا ہو ... (پتھر کی راکھ) جیسے گچ اور چونا ... (دھلے ہوئے پتھر کا ذکر) مٹی کے شرط نہ ہونے میں مبالغے کے لیے ہے۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، 1/240، دار الفکر)

    معدنی شیشے سے تیمم کے جواز کو امام اہلسنت رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/642، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اور امام اہلسنت رحمہ اللہ نے ناقابل تیمم اشیاء میں مصنوعی شیشے اور کانچ کا نام درج کیا:’’ (۴۱) مصنوع شیشہ کہ ریتے میں دوسری چیز ملا کر بناتے ہیں جیسے سجی... (۱۰۸) کانچ‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/654-657، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اوپری تہہ کے اعتبار کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله غير مدهونة) أو مدهونة بصبغ هو من جنس الأرض كما يستفاد من البحر كالمدهونة بالطفل والمغرة". ترجمہ: (جن برتنوں پر روغن نہ ہو) یا ایسے رنگ سے روغن کیے گئے ہوں جو جنس زمین سے ہو، جیسا کہ "البحر" سے مستفاد ہے، مثلا وہ برتن جن پر طفل (چکنی مٹی) اور گیرو کا روغن کیا گیا ہو۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب التیمم، 1/240، دار الفکر)

    ملاوٹ میں غلبے کے اعتبار کے متعلق اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ سیدنا امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک ہر اس چیز سے کہ جنس ارض سے ہو تیمم روا ہے جبکہ غیر جنس سے مغلوب نہ ہو، اور اس کے غیر سے ہمارے جمیع ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے نزدیک روا نہیں‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/579، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    غیر جنس زمین پر موجود غبار سے تیمم کے متعلق علامہ کاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 587ھ) فرماتے ہیں: "ويجوز التيمم بالغبار بأن ضرب يده على ثوب أو لبد أو صفة سرج فارتفع غبارا، وكان على الذهب أو الفضة أو على الحنطة أو الشعير أو نحوها غبار فتيمم به أجزأه في قول أبي حنيفة ومحمد". ترجمہ: اور غبار سے تیمم جائز ہے، اس طرح کہ کسی نے کپڑے، نَمدے یا زین کے گدّے پر ہاتھ مارا اور غبار اٹھا، یا سونے، چاندی، گندم، جو یا ان جیسی چیزوں پر غبار تھا اور اس سے تیمم کر لیا، تو امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کے قول پر یہ کافی ہے۔

    (بدائع الصنائع، کتاب الطہارۃ، فصل بیان ما یتیمم بہ، 1/54، دار الکتب العلمیۃ)

    غبار کی مقدار کے متعلق اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ تیمم کی جائز اشیاء میں فرماتے ہیں:’’(۷۴) سونا، کپڑا، آدمی، جانور، جس چیز پر مٹی یا ایسا غبار ہو کہ ہاتھ پھیرے سے انگلیوں کا نشان بن جائے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، رسالہ: المطر السعید، 3/642، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: ابو امیر خسروسید باسق رضا

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    18 ربیع الثانی 1448ھ/1 اکتوبر 2026ء کو جاری کیا گیا