مشینی ذبیحہ کاشرعی حکم
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 277

    سوال

    مشینی ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ کیا مشین چھری کی طرح ذبح کا آلہ نہیں؟

    سائل:سید انس امجدی،کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بجلی سے چلنے والی مشین سے ذبح کئے ہوئے جانور حلال ہیں۔

    طریقہ یہ اختیار کیا جائے کہ بلیڈ کے نیچے بالترتیب جانور لٹائے جائیں،پھر مسلمان عاقل بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر مشین کا بٹن چلائےاور شرعی تقاضوں کے مطابق جانوروں کی رگیں کٹ جائیں، تو اس کے ذریعے ہزاروں جانور بھی حلال ہونگے۔البتہ یہ خیال کیا جائے کہ جو جانور بلیڈ کے نیچے ہوں ان کا حلق بلیڈ کی طرف ہو نہ کہ گردن۔

    کتب فقہ میں صراحت ہے کہ کوئی شخص دو بکریوں کو اس طرح لٹائے کہ ایک دوسری کی اوپر ہو پھر ایک تسمیہ کے ساتھ دونوں کو ذبح کردے تو دونوں بکریاں حلال ہونگی کیونکہ یہاں فعلِ ذبح میں تعدّد نہیں ہوا لہذا تسمیہ بھی متعدّد نہیں ہوگی۔

    چنانچہ علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"لَوْ أَضْجَعَ شَاتَيْنِ إحْدَاهُمَا فَوْقَ الْأُخْرَى فَذَبَحَهُمَا ذَبْحَةً وَاحِدَةً بِتَسْمِيَةٍ وَاحِدَةٍ حَلَّا".ترجمہ: اگر دو بکریوں کو اس طرح لٹایا کہ ایک دوسری کے اوپر ہو پھر دونوں کو بیک وقت ایک ہی بسم اللہ پڑھ کر ذبح کر دیا دونوں حلال ہیں۔(الدرالمختار،کتاب الذبائح،6/302،دار الفکر)

    ایسا ہی صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ نے بہار شریعت میں نقل فرمایا۔(بہار شریعت،3/319،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    یونہی علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ (الاختیار لتعلیل المختار،کتاب الصید،5/5،مطبعۃ الحلبی القاہرۃ)

    اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ایک دفعہ چھری پھیر نے میں جتنے جانور یا پرندے آجائیں، سب کے لئے ایک ہی تسمیہ کو کافی قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ فرمایا:"وَلَوْ أَضْجَعَ إحْدَى الشَّاتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى تَكْفِي تَسْمِيَةٌ وَاحِدَةٌ إذَا ذَبَحَهُمَا بِإِمْرَارٍ وَاحِدٍ، وَلَوْ جَمَعَ الْعَصَافِيرَ فِي يَدِهِ فَذَبَحَ وَسَمَّى، وَذَبَحَ آخَرَ عَلَى أَثَرِهِ وَلَمْ يُسَمِّ لَمْ يَحِلَّ الثَّانِي، وَلَوْ أَمَرَّ السِّكِّينَ عَلَى الْكُلِّ جَازَ بِتَسْمِيَةٍ وَاحِدَةٍ، كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ".ترجمہ: اگر دو بکریوں میں سے ایک کو دوسری پر لٹائے تو ایک بسم اللہ کافی ہو جائے گا جب کہ دونوں بکریوں کو ایک ہی بار چھری گزار کر ذبح کرے، اور اگر اپنے ہاتھ میں چند چڑیاں اکٹھا کرے، پھر ایک کو ذبح کرے اور بسم اللہ کہے اور اس کے بعد دوسرے کو ذبح کرے اور بسم اللہ نہ کہے تو دوسرا پرندہ حلال نہ ہوگا ، ہاں اگر سب پر چھری گذار دے تو ایک ہی بسم اللہ سے درست ہے، ایسا ہی خزانۃ المفتیین میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الذبائح،الباب الثانی،5/289،دار الفکر)

    شبہ:

    بعض اہل علم حضرات نے مشینی ذبیحہ میں بجلی کو ذابح قرار دیا ہے اور یہی عدم جواز کا بنیادی نکتہ بیان ہوا کہ ذابح یعنی بجلی میں شرعی صلاحیت نہیں کیونکہ شرعی صلاحیت سے مراد صاحب عقل و شعور ہونا اور مسلم یا کتابی ہونا ہے،جبکہ مشین نہ تو عقل رکھتی ہے نہ مسلم یا کتابی ہے۔

    بجلی کو ذابح قرار دینے کی دلیل یہ دی جاتی ہےکہ مشینی نظام ذبح میں انسان نہ مشین چلاتا ہے نہ بلیڈ،یہ تو صرف بٹن دباتا ہے اور مشین بجلی چلاتی ہے،یونہی اس کا بلیڈ بھی بجلی چلاتی ہے۔

    مزید تفصیل کرتے ہیں کہ جو شے علت کو وجود میں لائے اگر بے اختیار ہو تو مباشر قرار نہیں دی جاسکتی۔پھر اگر فعل بابِ جنایات سے ہو تو خلافِ اصل فعل کا انتساب متسبّب کی طرف کیا جائے گا، وہ بھی فعل کو وجود میں لانے کے لحاظ سے نہیں، بلکہ خلافِ اصل صرف وجوب ضمان کی حد تک۔اور اگر فعل باب اباحات سے ہو تو سبب فراہم کرنے والے متسبّب کی طرف فعلِ تلف کی کا انتساب کسی حیثیت سے نہیں کیا جائے گا ،حتی کہ خلاف اصل بھی اس کی طرف نسبت کی کوئی گنجائش نہیں۔

    مشینی ذبیحہ میں چونکہ فعلِ ذبح باب جنایات سے نہیں، بلکہ اباحات سے ہے،کیونکہ مشینی طریقہ کار میں ذبح جانوروں کے مالک کی اجازت سے ہوتا ہے اس لئے یہاں فعلِ ذبح مباح ہے ،ملکِ غیر میں تعدّی کے سبب جنایت نہیں۔ لہذا متسبّب (یعنی بٹن دبانے والے) کی طرف کسی بھی حیثیت سے ذبح کی نسبت نہیں کی جائے گی۔نتیجۃً فعلِ ذبح کو وجود میں لانے کا سہر اہرحال بجلی کے سر ہے جو کہ ایسی علّت فاعلی ہےجو مباشرِ ذبح ہے، کیونکہ اسی کی تحریک سے مشین کا چھر احرکت میں آتا ہے۔یہی بجلی اصل میں ذابح/مباشر ہے،بٹن دبانے والا محض سفیر ہے۔

    ازالہ شبہ:

    اوّلاً : مسئلہ مذکورہ میں علّت اور سبب وغیرہ کی بحث منصوص نہیں بلکہ مصنوع ہے اور گنجائشِ اختلاف رکھتی ہے۔تو کیا لاکھوں مسلمانوں کو ایک علمی اختلاف کی بنیاد پر مردار خور قرار دینا درست یا شرعا محمود ہے؟خاص کر حج کے موقعہ پر کہ عموما یہی گوشت دستیاب ہوتا ہے تو عامہ بلادِ اسلام کے حجاج کا ابتلاء ہوا جو کم از کم حاجت شرعیہ کا درجہ ضرور رکھتا ہے۔

    ثانیًا : لاؤڈاسپیکر سے نکلنے والی آواز انسانی نہیں،پھر اس پر تکبیر تحریمہ اور انتقالات کےجواز کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس میں مجوّزین نے اسپیکر کو استحسانا ہی سہی کالعدم تسلیم نہیں کیا؟ جی ضرور کیا،تو اس مسئلے میں بجلی کو کالعدم قرار دینے سے کیا چیز مانع ہے؟

    پھر مذکورہ مؤقف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ متسببّب پر قصاص واجب نہیں ہوگا۔اگر مقتول اس کا قرابتدار ہو تو یہ اس کی میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ اگر مقتول نے اس کے حق میں کوئی وصیت کی تھی تو اس سے بھی وہ محروم نہیں ہوگا ۔نیز اس پر کفارہ بھی واجب نہیں ہوگا ، کیونکہ مباشر نہیں۔

    اگر ایسا ہی ہے تو بندوق کی گولی سے مارنے والے شخص سے قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟ یہاں بھی متسبّب مباشر نہیں کہ علت فاعلی تو “kinetic energy”ہے اور’’ Trigger‘‘ دبانے والا متسبّب۔

    جبکہ علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"وَعَلَى كُلٍّ فَالْقَتْلُ بِالْبُنْدُقَةِ الرَّصَاصِ عَمْدٌ لِأَنَّهَا مِنْ جِنْسِ الْحَدِيدِ وَتَجْرَحُ فَيُقْتَصُّ بِهِ".ترجمہ:تمام تعبیرات کی بناء پر جسے سکے کی گولی سے قتل کیا جائے تو وہ قتل عمد ہے،کیونکہ یہ لوہے کی جنس سے ہے اور وہ زخم لگاتی ہے لہذا اسکے بدلے میں قصاص لیا جائے گا۔(رد المحتار،كتاب الجنايات،6/528،دار الفكر)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’دھاری دار آلہ... سے جرح یعنی زخم ہوا تو قتل عمد ہے... گولی اورچَھرے سے قتل ہوا، یہ بھی اسی (آلہ جارحہ)میں داخل ہے۔(بہار شریعت،3/776،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    اور قتل عمد میں قصاص لیا جانا واضح ہے۔جیسا کہ اسی بہار شریعت میں بیان ہوا :’’قتل عمد میں قصاص واجب ہوتا ہے‘‘۔(بہار شریعت،3/780،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    معلوم ہوا کہ بعض مسائل میں استحساناً حکم مستبّب کی طرف منسوب ہوتا ہے۔

    ثالثاً: عرف جو کہ فقہ اسلامی کا اہم اصول اور دلیل شرعی ہے جس کا لحاظ ہر مفتی کیلئے ضروری ہے۔اور عرف کے خلاف فتوی دینا مفتی کیلئے جائز نہیں۔عرف و عادت سے کئی احکام شرعیہ تبدیل ہوجاتے ہیں۔

    علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لیس للمفتی و لا للقاضی ان یحکما بظاھر الروایۃ و یترکا العرف ". ترجمہ:مفتی اور قاضی کے لیے جائز نہیں کہ ظاہر الروایہ کے مطابق حکم دیں اور عرف کو چھوڑ دیں۔(شرح عقود رسم المفتی،ص:222،دار النور للتحقیق والتصنیف کراتشی)

    ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:"والعرف فی الشرع لہ اعتبار.. .لذا علیہ الحکم قد یدار".ترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے.. .اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی،ص: 212)

    سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:"والعرف قاض".ترجمہ:عرف فیصلہ کر نے والا ہے۔(فتاوی رضویہ، 3/49، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    مسئلہ مبحوث عنہابھی عرف سے متعلق ہے لہذا مشین چلانے کی نسبت بٹن دبانے والے کی طرف کی جائے گی نہ کہ بجلی طرف۔بجلی محض ایک قوت کانام ہے اور وہ قوت بٹن کے تابع ہے اور بٹن انسان کے تابع۔بجلی کی قوت اپنا مستقل وجود نہیں رکھتی بلکہ مشین یا انسان کے تابع ہوتی ہے۔انسان کے بازو میں جو طاقتِ حرکیہ ہے وہ بھی اپنا مستقل وجود نہیں رکھتی بلکہ انسان کے تابع ہوتی ہے۔

    اصول ہے "التَّابِع تَابع لَا يفرد بالحكم"یعنی تابع احکام میں تابع ہوتے ہیں،ان کا کوئی انفرادی حکم نہیں ہوتا۔ فقہی تصریحات اس پر دالّ ہیں کہ شرعی احکامات میں متبوع کا اعتبار ہوتا ہے تابع کی مستقل کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔مثلاً:

    (۱)کسی نے گائیں بیچی تو اس کا جنین تابع ہونے کی وجہ سے بیع میں خود بخود شمار ہوگا۔(درر الحکام فی شرح المجلۃ،المادۃ47:التابع تابع)

    (۲)کسی نے باغ بیچا اور باغ حوالے کرنے سےقبل پھل آگئے تو یہ پھل بھی مبیع شمار ہونگے۔(ایضاً)

    (۳)غاصب کے قبضے میں مغصوبہ شے کے زوائد بھی ملک ِ مغصوب منہ(یعنی اصل مالک) شمار ہونگے۔جیسا کہ کسی نے گھوڑی غصب کی اور اس نے بچہ جن دیا تو یہ بچہ بھی اصل مالک کا شمار ہوگاکہ بچہ تابع ہے۔(ایضاً)

    (۴)مرتہن (جس کے پاس گروی رکھی جائے)کے قبضے میں مرہونہ شے (گروی شے)کے زوائد بھی رہن شمار ہونگے۔جیسا کہ کسی نے اونٹنی رہن رکھی اور اس نے مرتہن کے ہاں بچہ جن دیا تو یہ بچہ بھی رہن شمار ہوگا،راہن اسے نہیں لے سکتا۔ (ایضاً)

    (۵)زمین کی بیع میں حقِ شرب و حقِ مرور تبعاً داخل ہونگے۔(الوجیز،القسم الثانی،القاعدۃ السادسۃ،النوع الثانی،القاعدۃ الاولی:التابع تابع)

    (۶)ہر وہ شے جو مبیع کو عرفاً شامل ہو بیع میں بلا ذکر بھی داخل ہوگی۔(الدر المختار،كتاب البيوع، فصل فيما يدخل في البيع تبعا،547/4،دار الفكر)

    (۷) ہر وہ شے جسے مبیع سے مضبوط اتصال حاصل ہو وہ بھی بیع میں بلا ذکر داخل ہوگی۔(ایضاً)

    (۸) کوئی تابع یعنی عورت جس کا مہر معجل شوہر کے ذمہ باقی نہ ہو،غلام غیر مکاتب،لشکری جس کو بیت المال یا بادشاہ کی طرف سے خوراک ملتی ہو،قیدی ،شاگرد جس کو استاذ کے یہاں سے کھانا ملتا ہو،نیک بیٹاوغیرہاپندرہ دن اقامت کی نیت کریں تب بھی وہ مقیم نہ ہونگے کہ اس وقت یہ تابع ہیں اور تابع کی مستقل کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"(والمعتبر نیۃ المتبوع )لانہ الاصل لا التابع (کامراۃ و عبد و جندی و اجیر مع زوج و مولی و امیر و مستاجر)".ترجمہ: اعتبار متبوع کی نیت کا ہے ،نہ کہ تابع کی نیت کا ، جیسے عورت شوہر کے ساتھ، غلام آقا کے ساتھ ،لشکر امیر کے ساتھ اور اجیر مستاجر کے ساتھ ہو،ملخصاً ۔(الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب صلاۃ المسافر،مطلب فی الوطن الاصلی،2/133، دار الفکر)

    ایسا ہی فتاوی عالمگیری میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الصلاۃ،الباب الخامس عشر،1/141،دار الفکر)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’مسافر اگر اپنے ارادہ میں مستقل نہ ہو تو پندرہ دن کی نیت سے مقیم نہ ہوگا، مثلاً عورت جس کا مہر معجل شوہر کے ذمّہ باقی نہ ہو کہ شوہر کی تابع ہے اس کی اپنی نیت بیکار ہے اور غلام غیر مکاتب کہ اپنے مالک کا تابع ہے اور لشکری جس کو بیت المال یا بادشاہ کی طرف سے خوراک ملتی ہے کہ یہ اپنے سردار کا تابع ہے اور نوکر کہ یہ اپنے آقا کا تابع ہے اور قیدی کہ يہ قید کرنے والے کا تابع ہے اور جس مالدار پر تاوان لازم آیا اور شاگرد جس کو استاذ کے یہاں سے کھانا ملتا ہے کہ یہ اپنے استاذ کا تابع ہے اور نیک بیٹا اپنے باپ کا تابع ہے ان سب کی اپنی نیت بے کار ہے بلکہ جن کے تابع ہیں ان کی نیتوں کا اعتبار ہے ان کی نیت اقامت کی ہے تو تابع بھی مقیم ہیں ان کی نیت اقامت کی نہیں تو یہ بھی مسافر ہیں۔(بہار شریعت،1/745-746،مکتبۃ المدینۃ کراچی)

    بر سبیل تنزل:

    البتہ علماء کے اختلاف سے بچنے کیلئے یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے کہ:

    ایسی مشین بنائی جائے جو کسی بَرقی قوت کے بجائے انسانی قوت سے چلے،اس میں بلیڈ لگے ہوں ،اسکے نیچے جتنے چاہیں جانور لٹائے جائیں۔پھر جب انسان بسم اللہ، اللہ اکبر کہہ کر اپنی قوت سے بلیڈ سے ذبح کرے، اور شرعی تقاضوں کے مطابق جانوروں کی رگیں کٹ جائیں، تو اس کے ذریعے ہزاروں جانور بھی حلال ہونگے۔ یہ جب ہے کہ کوئی ایک شخص یہ مشین چلائے ۔البتہ اگر مختلف افراد چلائیں توتمام پر علیحدہ علیحدہ تسمیہ پڑھنا واجب ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 ربیع الثانی1444 ھ/28 اکتوبر2023ء