کفار سے کونسی مشابہت منع ہے

    kuffar se konsi mushabihat mana hai

    تاریخ: 30 جون، 2026
    مشاہدات: 49
    حوالہ: 1532

    سوال

    (۱)کسی چیز کے شعار بننے کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟ یعنی کیا کسی عمل کا کسی قوم کے مشابہ ہونے میں تشبہ ہوتا ہے یا اور بھی کوئی صورتیں ہوتی ہیں؟ جیسے عورتوں سے مشابہت اختیار کرنا منع ہے۔

    (۲) محرم میں سیاہ کپڑوں کو سوگ کی وجہ سے حرام قرار دیا جاتا ہے یا تشبہ کی وجہ سے یا دونوں وجوہات سے؟

    (۳) اصلا تشبہ کب مذموم ہوتا ہے؟ اور اس کا کیا حکم شرع ہے؟ حرام یا مکروہ؟

    (۴) کسی چیز کے حرام ہونے کے لیے کس طرح کی نص کی حاجت ہوتی ہے؟

    (۵) کیا تشبہ ختم کرنے کی غرض سے ایسے اعمال کئے جاسکتے ہیں جو بد مذہبوں کا شعار ہوں۔

    سائل:مولانا راشد گلفام المدنی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) شعار کیلئے کسی قوم و جنس کی علامت کے طور پر متعین ہونا ضروری ہے۔

    فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:’’ غیر مسلم کی ہر وہ چیز جو ان کے لیے اس طرح خاص ہو کہ اگر مسلم اسے استعمال کرے تو اس پر غیرمسلم ہونے کا دھوکا ہو‘‘۔ (فتاوی فیض الرسول،2/600، شبیر برادرز لاہور )

    (۲) محرم میں سیاہ کپڑوں کو تشبہ کی وجہ سے حرام قرار دیا جاتا ہے، کہ عوام اہلسنت سوگ کی نیت سے سیاہ لباس نہیں پہنتی محض بد مذہبوں کی دیکھا دیکھی یہ لباس پہن لیتی ہے، لہذا اگر کوئی بنّیت ِ سوگ پہنتا ہے تو اس وجہ کر بھی حرمت ثابت ہوگی۔یاد رہے محرم الحرام میں سیاہ لباس کی حرمت کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ بالقصد روافض کے شعار کو اپنایا جائے تو یہ وہ حرام ہے جس کا مقابل فرض ہے اور دوسری یہ کہ بالقصد تو شعار نہ اپنایا لیکن موافقت بہر حال پائی گئی تو یہ حرام بمعنی مکروہ تحریمی ہے جس کا مقابل واجب ہے۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ایام محرم شریف میں سبز لباس جس طرح جاہلوں میں مروج ہے ناجائز وگناہ ہے۔ اور اودا یا نیلا یا آبی یا سیاہ اور بدتر واخبث ہے کہ روافض کا شعار اور ان کی تشبہ ہے اس طرح ان ایام میں سرخ بھی ناصبی خبیث بہ نیت خوشی و شادی پہنتے ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/185،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ایام محرم میں یعنی پہلی محرم سے بارہویں تک تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں ، سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے‘‘۔ (بہارشریعت،3/416،مکتبۃ المدینہ کراچی)

    مکروہ تحریمی پر بھی حرام کا اطلاق کیا جاتا ہے، علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی ﷫ (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَأَفَادَ فِي الْبَحْرِ صِحَّةَ إطْلَاقِ الْحُرْمَةِ عَلَى الْمَكْرُوهِ تَحْرِيمًا".ترجمہ:بحر میں ہے کہ مکروہِ تحریمی کو حرام کہنادرست ہے۔(الدر المختار، باب الجمعۃ، 2/161، دار الفکر بیروت)

    خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قَوْلُهُ: وَمَكْرُوهُهُ) هُوَ ضِدُّ الْمَحْبُوبِ؛ قَدْ يُطْلَقُ عَلَى الْحَرَامِ كَقَوْلِ الْقُدُورِيِّ فِي مُخْتَصَرِهِ: وَمَنْ صَلَّى الظُّهْرَ فِي مَنْزِلِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَلَا عُذْرَ لَهُ كُرِهَ لَهُ ذَلِكَ. وَعَلَى الْمَكْرُوهِ تَحْرِيمًا: وَهُوَ مَا كَانَ إلَى الْحَرَامِ أَقْرَبُ، وَيُسَمِّيه مُحَمَّدٌ حَرَامًا ظَنِّيًّا. وَعَلَى الْمَكْرُوهِ تَنْزِيهًا: وَهُوَ مَا كَانَ تَرْكُهُ أَوْلَى مِنْ فِعْلِهِ، وَيُرَادِفُ خِلَافَ الْأَوْلَى".ترجمہ: (مصنف کا قول: اور اس کی مکروہ چیزیں) یہ محبوب کی ضد ہیں۔ مکروہ کااطلاق حرام پربھی ہوتا ہے، جیساکہ امام قدوری رحمہ اللہ نے قدوری میں لکھاہے کہ: جو شخص جمعہ کے دن بغیرعذر کے ظہر کی نماز گھر میں پڑھے تویہ مکروہ ہے۔ اور کبھی مکروہ کا اطلاق مکروہ تحریمی پر بھی ہوتا ہے، جو کہ حرام کے قریب قریب ہوتاہے ، جسے امام محمد رحمہ اللہ نے حرامِ ظنی کا نام دیا۔ اسی طرح مکروہ کا اطلاق مکروہِ تنزیہی پر بھی ہوتاہے، جس کا چھوڑنا بہتر ہے اور جسے خلافِ اولیٰ بھی کہتے ہیں۔(رد المحتار،کتاب الطہارۃ، سنن الوضوء، مطلب فی تعریف المکروہ، 1/131، دار الفکر)

    (۳) تشبہ کی کل سات صورتیں ہیں، جن میں سوائے دو صورتوں کے تمام مذموم ہیں۔ ان کے حکم اپنی نوعیت کے اعتبار سے کفر، گمراہی، حرام ، مکروہ تحریمی و جواز میں مختلف ہیں۔تشبہ کی صورتیں ملاحظہ ہوں:

    1. کفر: اگر کفار کو پسند کرکے ان سے التزامی (یعنی بِالقصد) مشابہت اختیار کی جائے، تو یہ مشابہت کفر ہے۔

    2. گمراہی: اگر بدعتی کو پسند کرکے ان سے التزامی مشابہت اختیار کی جائے، تو یہ مشابہت گمراہی ہے۔

    3. حرام: اگر نفع دنیوی کے لیے یا بطور مذاق کفار و فساق کے طرز کو التزاما اپنایا جائے، تو یہ حرام ہےبشرطیکہ کفار کا مذہبی شعار نہ ہو۔

    4. کفرفقہی : اگر نفع دنیوی کیلئے یا بطور مذاق کفار و فساق کے مذہبی شعار کو التزاما اپنایا جائے، تو یہ عند الفقہاء کفر ہے۔

    5. جائز: اگر کسی مقبول غرض کے لیے ضرورتاً التزاما مشابہت اختیار کی جائے، تو بقدر ضرورت یہ جائز ہے، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جنگی تدبیر کے طور پر کفار کا لباس اپنایا۔

    6. مکروہ تحریمی: بلا اکراہ و مجبوری غیر مذہبی شعار میں کفار و فساق کی مشابہت لزومی ہو تو یہ گناہ ہے۔

    7. جائز: غیر مذہبی شعار میں کفار و فساق کی مشابہت لزومی میں جب اکراہ و مجبوری شامل ہو تو یہ گناہ نہیں ہے۔

    یہاں پانچویں اور ساتویں صورت کے علاوہ تشبہ کی تمام صورتیں مذموم ہیں۔یہ صورتیں امام اہلسنت کی تحقیقی فتوی سے ماخوذ ہیں۔

    افعالِ انسانی میں تشبہّ کا دائرہ کار:

    افعال جوارح یا ظاہری انسانی افعال کی بنیادی طور پر تین بڑی اقسام ہیں:

    (۱) افعال طبعیہ: ایسے افعال جو خالصتاً تقاضائے بشری کا نتیجہ ہوں اور ان افعال کو ادا کرنے میں وہ فرد اپنے فطری تقاضوں کے تحت مجبور ہو۔مثال کے طور پر سر کو جنبش دینا،ہاتھ ہلانا،پلکیں جھپکانا وغیرہ یونہی مطلقا کھانا ،پینا،سونا،جاگنا،چلنا پھرنا، ستر کو ڈھانکنا اور جنسی ضروریات وغیرہ۔ اس قسم پر تشبہ کا اطلاق نہیں ہوتا اور ان افعال کوصرف اس لیے ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا کہ کفار سے تشبہ منع ہے اور وہ بھی یہ افعال کرتے ہیں اس لیے ایک مسلمان یہ سب نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ افعال تشبہ کے دائرے سے خارج ہیں۔

    (۲) افعال عادیہ: ایسے انسانی افعال جنہیں ایک انسان ایک خاص انفرادی کیفیت کے ساتھ انجام دے۔جیسا کہ کھانے ، پینے، سونے ،جاگنے،بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی عادات وغیرہ ۔افعال عادیہ اگرچہ افعالِ طبعیہ میں داخل ہیں لیکن یہ ان سے اس لیے مختلف ہیں کہ ان کو ایک بندہ مومن ایک خاص انفرادی کیفیت سے ادا کرتا ہے اس لیے کہ کھانا ہر فرد کی بنیادی ضرورت میں داخل ہے اور کوئی بھی فرد اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، کھانا کھانے پر تو تشبہ کا اطلاق نہیں ہو گا لیکن اس کے کھانا کھانے کی اشیا ءپر ،طرز نشست پر ، انداز پر اور اس کی پسند و نا پسند پر ضرور بالضرور تشبہ کا اطلاق ہو گا اس لیے ایک بندہ مومن کو لباس،وضع قطع اور عادات وغیرہ میں تشبہ بالکفار سے بچنا ضروری ہے۔

    (۳) افعال اختیاریہ: ایسے انسانی افعال جن کو ایک فرد اپنی مرضی سے اختیار کرتا ہے یعنی انسان اگرچاہے تو ان افعال کو ادا کرے اور چاہے تو ادا نہ کرے ،مثال کے طور پر نکاح کرنااور روزی کمانے کے ذرائع اختیار کرنا وغیرہ۔اس قسم پر بھی تشبہ کا اطلاق ہو تا ہے اور ایک فرد مسلم کو ان افعال میں بھی کفار کی پیروی و مماثلت سے اجتناب کرنا چاہیے۔

    تشبہ بالکفار سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا-لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ-وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. ترجمہ: اے ایمان والو ان کافروں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے اپنے بھائیوں کی نسبت کہا جب وہ سفر یا جہاد کو گئے کہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے نہ مارے جاتے اس لیے کہ اللہ ان کے دلوں میں اس کا افسوس رکھے اور اللہ جلاتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ (آل عمران:156)

    اس آیت میں مومنین کو عقیدہ قضاوقدر میں کفار سے مشابہت سے روکا جا رہا ہے کہ چونکہ کفار یہ سمجھتے ہیں کہ موت و حیات اسباب کے تابع ہے اور موت کا سبب سفر یا جہاد ہے اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے جبکہ ایمان والوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کی جارہی ہے کہ موت وحیات تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ چاہے تو مسافر اور غازی کو سلامت لے آئے اور محفوظ گھر میں بیٹھے ہوئے کو موت دیدے کیونکہ اسباب بھی مشیت الہٰی ہی کے تابع ہیں ۔

    اس مشابہت کے حکم سے متعلق قاضی ثنا اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "يعنى المنافقين عبد الله بن ابى وأصحابه فانه من تشبه بقوم فهو منهم رواه ابو داود عن ابن عمر مرفوعا والطبراني عن حذيفة مرفوعا لا سيما إذا كان وجه المشابهة موجبا للكفر كما فى ما نحن فيه فان ذلك القول انكار للقدر وهو كفر".ترجمہ:کافروں سے مراد منافق عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔(منافقوں کی طرح نہ ہو جانے کا حکم اس لیے دیا ) کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی قوم میں سے ہو گا۔اس حدیث کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے امام ابو داؤد نے مرفوعاً اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سے امام طبرانی نے مرفوعاً نقل کیا ہے۔خصوصاً ایسی مشابہت (سے تو اجتناب فرض ہے) جو موجب کفر ہوا س جگہ جس مشابہت کو اختیار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے وہ موجب کفر ہی ہے کیونکہ یہ تقدیر کا انکار ہے اور تقدیر کا انکار کفر ہے۔(تفسیر مظہری ،تحت سورۃ آل عمران:156، مكتبة الرشدية الباكستان)

    کسی قوم سے مشابہت اختیار کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ".ترجمہ:جو کسی قوم سے مشابہت اختیار کرے ، تو وہ انہیں میں سے ہے ۔( سنن ابی داؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشھرۃ ،4/44، رقم: 4031، المكتبة العصرية)

    تشبہ کی تحقیق میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”اس جنس مسائل میں حقِ تحقیق وتحقیقِ حق یہ ہے کہ تشبہ دو وجہ پرہے: التزامی ولزومی، التزامی یہ ہے کہ یہ شخص کسی قوم کے طرزووضع خاص اسی قصد سے اختیارکرے کہ ان کی سی صورت بنائے ان سے مشابہت حاصل کرے حقیقۃً تشبہ اسی کانام ہے فان معنی القصد والتکلف ملحوظ فیہ کمالایخفی (اس لئے کہ قصداورتکلف کے مفہوم کااس میں لحاظ رکھاگیاہے جیساکہ پوشیدہ نہیں) اور لزومی یہ کہ اس کاقصد تو مشابہت کانہیں مگروہ وضع اس قوم کاشعارخاص ہورہی ہے کہ خواہی نخواہی مشابہت پیداہوگی۔ التزامی میں قصد کی تین صورتیں ہیں:

    اول یہ کہ اس قوم کومحبوب ومرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے ،یہ بات اگرمبتدع کے ساتھ ہو،(تو) بدعت اور کفّار کے ساتھ(ہو ،تو) معاذاﷲ کفر، حدیث ’’من تشبہ بقوم فھو منھم‘‘(جو کسی قوم سے مشابہت اختیارکرے تو وہ ، انہی میں سے شمارہوگا) حقیقۃً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔غمزالعیون والبصائر میں ہے: "اتفق مشائخنا ان من رأی امرالکفار حسنا فقد کفر حتّٰی قالوا فی رجل قال ترک الکلام عند اکل الطعام حسن من المجوس اوترک المضاجعۃ عندھم حال الحیض حسن فہوکافر".ترجمہ:ہمارے مشائخ کرام کاا س پر اتفاق ہے کہ جو کوئی کافروں کے کسی کام کواچھا سمجھے تو وہ بلاشبہہ کافرہوجاتاہے یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ جوکوئی کھانا کھاتے وقت باتیں نہ کرنے کو اور حالت حیض میں عورت کے پاس نہ لیٹنے کو مجوسیوں اور آتش پرستوں کی اچھی عادت کہے تو وہ کافرہے۔

    دوم: کسی غرض مقبول کی ضرورت سے اسے (تشبہ ) اختیارکرے وہاں اس وضع کی شناعت اور اس غرض کی ضرورت کاموازنہ ہوگا اگرضرورت غالب ہوتو بقدرضرورت کاوقت ضرورت یہ تشبیہ کفرکیا معنی ممنوع بھی نہ ہوگا جس طرح صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مروی کہ بعض فتوحات میں منقول رومیوں کے لباس پہن کر بھیس بدل کر کام فرمایا او ر اس ذریعہ سے کفار اشرار کی بھاری جماعتوں پرباذن اﷲ غلبہ پایا اسی طرح سلطان مرحوم صلاح الدین یوسف اناراﷲ تعالٰی برہانہ کے زمانے میں جبکہ تمام کفار یورپ نے سخت شورش مچائی تھی دوعالموں نے پادریوں کی وضع بناکر دورہ کیا اور اس آتش تعصب کوبجھادیا۔خلاصہ میں ہے:"لوشد الزنار علی وسطہ ودخل دارالحرب لتخلیص الاساری لایکفر ولودخل لاجل التجارۃ یکفر ذکرہ القاضی الامام ابوجعفر الاستروشنی".ترجمہ:اگر کوئی شخص اپنی کمر میں زُنّار باندھے او رقیدیوں کو چھڑانے کے لئے دارحرب میں داخل ہوتو کافر نہیں ہوگا او راگر اس مدت میں تجارت کے لئے جائے توکافرہوجائے گا۔ امام ابوجعفر استروشنی نے اس کو ذکرکیاہے۔ملتقط میں ہے: "اذا شد الزنار او اخذ الغل اولبس قلنسوۃ المجوس جادا اوھازلا یکفر الا اذا فعل خدیعۃ فی الحرب".ترجمہ:جب کسی شخص نے زُنّار باندھا یاطوق لیا یا آتش پرستوں کی ٹوپی پہنی خواہ سنجیدگی کے ساتھ یاہنسی مذاق کے طور پر توکافرہوگیا، مگرجنگ میں (دشمن کومغالطے میں ڈالنے کے لئے) بطورتدبیر اُکساکرے توکافرنہ ہوگا۔منح الروض میں ہے:"ان اشد المسلم الزنار ودخل دارالحرب للتجارۃ کفرای لانہ تلبس بلباس کفر من غیر ضرورۃ شدیدۃ و لافائدہ مترتبۃ بخلاف من لبسھا لتخلیص الاساری علی ماتقدم".ترجمہ: اگرمسلمان زنّار باندھ کر دارالکفرمیں کاروبار کیلئے جائے توکافر ہوجائے گا اس لئے کہ اس نے بغیر کسی شدید مجبوری کے اور بغیر کسی ترتب فائدہ کے لباس کفرپہنا(جو اس کے لئے روانہ تھا) بخلاف اس شخص کے جس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لئے لباس کفر(برائے حیلہ) استعمال کیا، جیسا کہ پہلے ذکرہوا۔

    سوم: نہ تو اُنہیں اچھاجانتا ہے نہ کوئی ضرورتِ شرعیہ اس پرحامل ہے، بلکہ کسی نفع دنیوی کے لئے یایوہیں بطورِہزل واستہزاء اس کامرتکب ہوا،توحرام وممنوع ہونے میں شک نہیں اور اگروہ وضع اُن کفارکامذہبی دینی شعارہے ، جیسے زنّار، قشقہ، چُٹیا، چلیپا، تو علماء نے اس صورت میں بھی حکمِ کفردیا کماسمعت اٰنفا (جیسا کہ تم نے ابھی سنا) اور فی الواقع صورتِ استہزاء میں حکمِ کفر ظاہرہے کمالایخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں)۔ اور (تشبہ) لزومی میں بھی حکمِ ممانعت ہے ،جبکہ اکراہ وغیرہ مجبوریاں نہ ہوں جیسے انگریزی منڈا، انگریزی ٹوپی، جاکٹ، پتلون، اُلٹاپردہ، اگرچہ یہ چیزیں کفار کی مذہبی نہیں مگرآخرشعار ہیں تو ان سے بچنا واجب اور ارتکاب گناہ۔ ولہٰذا علماء نے فسّاق کی وضع کے کپڑے موزے سے ممانعت فرمائی۔فتاوٰی خانیہ میں ہے: "الاسکاف اوالخیاط اذا استوجر علی خیاطۃ شیئ من زی الفساق ویعطی لہ فی ذٰلک کثیراجر لایستحب لہ ان یعمل لانہ اعانۃ علی المعصیۃ".ترجمہ: موچی یادرزی فسّاق وفجّار کی وضع کے مطابق معمول سے زیادہ اُجرت پرلباس تیارکرے تو اس کے لئے یہ کام مستحب نہیں اس لئے کہ یہ گناہ پر امداد واعانت ہے۔

    مگر اس کے تحقق کو اس زمان ومکان میں ان کاشعار خاص ہونا قطعاً ضرور جس سے وہ پہچانے جاتے ہوں اور ان میں اور ان کے غیر میں مشترک نہ ہو ورنہ لزوم کا کیا محل، ہاں وہ بات فی نفسہٖ شرعاً مذموم ہوئی تو اس وجہ سے ممنوع یامکروہ رہے گی نہ کہ تشبّہ کی راہ سے، ‎امام قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں دربارہ طیلسان کہ پوشش یہود تھی فرماتے ہیں: "اما ماذکرہ ابن اقیم من قصۃ الیہود فقال الحافظ ابن حجر انما یصح الاستدلال بہ فی الوقت الذی تکون الطیالسۃ من شعارھم وقد ارتفع ذٰلک فی ھذہ الازمنۃ فصار داخلا فی عموم المباح وقد ذکرہ ابن عبدالسلام رحمہ اﷲ تعالٰی فی امثلۃ البدعۃ المباحۃ".ترجمہ: رہایہ کہ جوکچھ حافظ ابن قیم نے یہودیوں کاواقعہ بیان کیاہے تو اس بارے میں حافظ ابن حجر نے فرمایا کہ یہ استدلال اس وقت درست تھا جبکہ مذکورہ چادر اُن کا (مذہبی) شعار ہواکرتی تھی لیکن اس دَور میں یہ چیز ختم ہورہی ہے لہٰذا اب یہ عموم مباح میں داخل ہے، چنانچہ علامہ ابن عبدالسلام رحمۃ اﷲ علیہ نے اس کو بدعت مباح کی مثالوں میں ذکرفرمایاہے۔امام اجل فقیہ النفس فخرالملۃ والدین قاضی خاں پھر امام محمد ابن الحاج حلبی حلیہ شرح منیہ فصل مکروہات الصلوٰۃ پھر علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق پھر علامہ محمد بن علی دمشقی درمختارمیں فرماتے ہیں: "التشبہ باھل الکتاب لایکرہ فی کل شیئ فانا ناکل ونشرب کما یفعلون ان الحرام التشبہ بھم فیما کان مذموما اوفیما یقصد بہ التشبه".ترجمہ:ہرچیز میں اہل کتاب سے مشابہت مکروہ نہیں جیسے کھانے پینے وغیرہ کے طورطریقے میں کوئی کراہت نہیں۔ ان سے تشبہ ان کاموں میں حرام ہے جومذموم یعنی برے ہیں یاجن میں مشابہت کاارادہ کیاجائے۔علامہ علی قاری منح الروض میں فرماتے ہیں: "اناممنوعون من التشبیہ بالکفرۃ واھل البدعۃ المنکرۃ فی شعارھم لامنھیون عن کل بدعۃ ولوکانت مباحۃ سواء کانت من افعال اھل السنۃ اومن افعال الکفر واھل البدعۃ فالمدار علی الشعار".ترجمہ:ہمیں کافروں اورمنکر بدعات کے مرتکب لوگوں کے شعار کی مشابہت سے منع کیاگیاہے ہاں اگر وہ بدعت جو مباح کادرجہ رکھتی ہو اس سے نہیں روکاگیا خواہ وہ اہل سنت کے افعال ہوں یاکفار اوراہل بدعت کے۔ لہٰذا مدارِکارشعار ہونے پرہے۔فتاوٰی عالمگیری میں محیط سے ہے: "قال ھشام فی نوادرہ ورأیت علی ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نعلین محفوفین بمسامیر الحدید فقلت لہ اتری بھٰذا الحدید بأسا قال لافقلت لہ ان سفین و ثوربن یزید کرھا ذٰلک لانہ تشبہ بالرھبان فقال ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یلبس النعال التی لہا شعور وانھا من لباس الرھبان".ترجمہ: ہشام نے نوادر میں فرمایا میں نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کوایسے جوتے پہنے ہوئے دیکھا جن کے چاروں طرف لوہے کی کیلیں لگی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی، کیاآپ اس لوہے سے کوئی حرج سمجھتے ہیں؟ توفرمایا کہ نہیں، میں نے عرض کی لیکن سفیان اورثوربن یزیدتو انہیں پسندنہیں فرماتے کیونکہ ان میں عیسائی راہبوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایسے جوتے پہنتے تھے جن کے بال ہوتے تھے حالانکہ یہ بھی عیسائی راہبوں کالباس تھا الخ۔اس تحقیق سے روشن ہوگیا کہ تشبُّہ وہی ممنوع ومکروہ ہے جس میں فاعل کی نیت تشبہ کی ہو یاوہ شے ان بدمذہبوں کاشعارِخاص یافی نفسہ شرعاً کوئی حرج رکھتی ہو، بغیر ان صورتوں کے ہرگز کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، 24/530-534، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    تشبہ کی ایک فرع کے بیان میں امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’جے جو کافر بولتے ہیں جیسے گاندھی وغیرہ کی یاعام ہنود کی ، یہ بحکم فقہائے کرام کفر ہے ، درمختار وغیرہ میں ہے : تبجیل الکافر کفر (کافر کی تعظیم کفر ہے)یونہی جو نام کا مسلمان حد کفر تك پہنچ گیا ہو اس کی جے کا بھی یہی حکم ہے ، اور مسلمان کی جے بولنا بھی منع ہے کہ کفار سے مشابہت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ، 15/267، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: "ذهب الحنفية على الصحيح عندهم،والمالكية على المذهب، وجمهور الشافعية إلى:أن التشبه بالكفار في اللباس الذي هو شعار لهم به يتميزون عن المسلمين، يحكم بكفر فاعله ظاهرا، أي في أحكام الدنيا". ترجمہ: صحیح مذہب پر احناف، مالکیہ اور جمہور شافعیہ کا یہ مذہب ہے کہ کفار کےساتھ ایسے لباس میں مشابہت اختیار کرنا، جو ان کا شِعَار ہو اور وہ اُس لباس کے ذریعے مسلمانوں سے ممتاز ہوتے ہوں ،توایسے لباس میں اُن کی مُشابَہَت اختیارکرنے والے پر ظاہراً یعنی دنیوی احکام میں کفر کا حکم دیا جائے گا۔(الموسوعۃ الفقھيۃ الکویتیۃ ،12/5، وزارتِ اوقاف، کویت)

    (۴) یاد رکھیں کہ حرام کے متعدد اطلاقات ہیں، البتہ اصولی اعتبار سے حرام فرض کے مقابل کو کہتے ہیں۔ لہذا کسی چیز کے حرام ہونے کیلئے قطعی الثبوت قطعی الدلالۃ اور جازم و یقینی نص درکار ہوتی ہے۔یعنی اگر کوئی ایسی نص کا خلاف کرے تو وہ اس حرام کا مرتکب ہوگا جو فرض کا مقابل ہے۔ہاں اگر حرام سے مراد مکروہ تحریمی ہو جو واجب کا مقابل ہو تو اس کیلئے ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ اور جازم و یقینی نص درکار ہوگی۔

    ادلہ شرعیہ کے متعلق امام علاء الدین عبد العزیز بن احمد البخاری الحنفی (المتوفی: 730ھ) فرماتے ہیں: "فَإِنَّ الْأَدِلَّةَ السَّمْعِيَّةَ أَنْوَاعٌ أَرْبَعَةٌ: قَطْعِيُّ الثُّبُوتِ وَالدَّلَالَةِ كَالنُّصُوصِ الْمُتَوَاتِرَةِ، وَقَطْعِيُّ الثُّبُوتِ ظَنِّيُّ الدَّلَالَةِ كَالْآيَاتِ الْمُؤَوَّلَةِ، وَظَنِّيُّ الثُّبُوتِ قَطْعِيُّ الدَّلَالَةِ كَأَخْبَارِ الْآحَادِ الَّتِي مَفْهُومُهَا قَطْعِيٌّ وَظَنِّيُّ الثُّبُوتِ وَالدَّلَالَةِ كَأَخْبَارِ الْآحَادِ الَّتِي مَفْهُومُهَا ظَنِّيٌّ فَبِالْأَوَّلِ يَثْبُتُ الْفَرْضُ وَبِالثَّانِي وَالثَّالِثِ يَثْبُتُ الْوُجُوبُ وَبِالرَّابِعِ يَثْبُتُ السُّنَّةُ وَالِاسْتِحْبَابُ لِيَكُونَ ثُبُوتَ الْحُكْمِ بِقَدْرِ دَلِيلِهِ".ترجمہ:شریعت کے دلائل چار قسم کے ہیں: (۱)قطعی الثبوت قطعی الدلالۃ، جیسے متواتر نصوص، جو اپنے ثبوت اور دلالت دونوں میں قطعی ہیں۔ (۲)قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ، جیسے وہ آیات جو تاویل کے قابل ہوں۔ (۳)ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ، جیسے وہ اخبار آحاد جن کا مفہوم قطعی ہو۔ (۴)ظنی الثبوت ظنی الدلالۃ، جیسے وہ اخبار آحاد جن کا مفہوم ظنی ہو۔ پہلی قسم سے فرض ثابت ہوتا ہے، دوسری اور تیسری قسم سے وجوب، اور چوتھی قسم سے سنت اور استحباب ثابت ہوتا ہے، تاکہ حکم کا ثبوت دلیل کی قوت کے مطابق ہو۔(کشف الأسرار شرح اصول البزدوي، باب معرفۃ احکام الخصوص، 1/84، دار الکتاب الاسلامی)

    ادلہ سمعیہ میں اضافہ کرتے ہوئے امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ اقول: وتحررمما تقرران الادلۃ السمعیۃ تسعۃ اقسام لان لہا طرفین الثبوت والاثبات وکل علی ثلثۃ وجوہ القطع والظن والشک۔یعنی دلائل سمعیہ کی نو قسمیں ہیں ۔ اس لئے کہ ان میں دو جانب ہیں : (۱) ثبوت (۲) اثبات ۔ اور ہر ایک میں تین صورتیں ہیں : (۱) یقین (۲) ظن (۳) شک۔ (اس طرح کل نو صورتیں ہوئیں: ثبوت قطعی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی۔ ثبوت ظنی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی۔ثبوت شکّی ہو اور اثبات قطعی یا ظنی یا شکی)۔ خمسۃ منھا وھی ما فی احد طرفیھا شک لایثبت فوق سنیۃ اوندب وان اشتملت علی طلب جازم والاربعۃ البواقی کذلک ان اشتملت علی طلب غیر جازم و الا فان کان کلا الطرفین قطعیا ثبت الافتراض والا فالوجوب۔یعنی ان میں پانچ صورتیں ہیں جن سے سنّیت یا ندب سے زیادہ ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں شک ہو اگرچہ وہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں۔ اور باقی چار صورتوں کا بھی یہی حال ہے اگر وہ طلب غیر جزمی پر مشتمل ہوں ۔ اور اگر ایسا نہ ہو ( بلکہ طلب جزمی پر مشتمل ہوں) تو اگر ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہیں تو اس سے فرضیّت ثابت ہو گی ورنہ وجوب ثابت ہو گا... ثــم اقــول: الشک فی الاثبات مثل الشک فی الثبوت فاذن الاوضح الاجمع الاشمل الاکمل ان نقول النصوص الطلبیۃ علی ثلثۃ اقسام: (۱) مافیہ طلب ترغیب مجرداً (۲) اومع تاکید (۳) اوطلب جازم۔یعنی پھر میں کہتا ہوں: اثبات میں شک بھی ویسے ہی ہے جیسے ثبوت میں شک ۔ تو اب زیادہ واضح ، جامع ، کامل اور ہمہ گیر تقسیم یُوں ہو گی کہ ہم کہیں : وہ نصوص جو کسی عمل کی طلب پر مشتمل ہیں ان کی تین قسمیں ہیں : (۱) وہ جن میں بلا تاکید صرف ترغیباً مطالبہ ہو۔ (۲) وہ جن میں ترغیب کے ساتھ تاکید بھی ہو ۔ (۳) وہ جن میں طلب جزمی ہو۔وکل منھا علیٰ تسعۃ اقسام کما قدمت فھی سبعۃ وعشرون قسما لا یثبت الافتراض منھا الاواحد وھو یقینی الثبوت والاثبات مع الطلب الجازم وثلثۃ تفید الوجوب وھو ظنی الثبوت اوالاثبات اوکلیھما مع الطلب الجازم فی الکل واربعۃ تفیدالاستنان وھی نظائر ماتفید الفرضیۃ والوجوب فی الثبوت والاثبات بیدان الطلب فیھا مؤکد غیر جازم والبواقی وھی تسعۃ عشر تفید الندب وھی التی فی احد طرفیھا شک ولوالطلب جازما اوکان الطلب فیھا طلب ترغیب مجرد ولو قطعی الطرفین وقس علی ھذا فی جانب الکف الحرام والمکروہ تحریما وتنزیھا وخلاف الاولی ولا تذھلن عن مقام الاحتیاط واللّٰہ الھادی الی سواء الصراط ھذا ھوالتحقیق الساطع اللامع النور فاحفظہ فلعلک لاتجدہ فی غیر ھذہ السطور۔یعنی اور ان میں سے ہر ایک کی نو قسمیں ہیں ، ایسے ہی جیسے پہلے بیان ہوئیں ۔ تو یہ کل ستائیس ۲۷ قسمیں ہوئیں ( ہر قسم کی تفصیل یوں کر لیں مثلا (۱) طلب صرف ترغیبی ہے اور ثبوت قطعی ہو ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکّی ۔ یا ثبوت ظنی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ۔ یا ثبوت شکی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی ) ان میں صرف ایک قسم وہ ہے جس سے فرضیت ثابت ہوتی ہے ۔ یہ وہ ہے جس میں طلب جزمی ہو اور ثبوت و اثبات دونوں قطعی ہوں۔ اور تین قسمیں وہ ہیں جن سے وجوب کا افادہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب جزمی ہو اور ثبوت یا اثبات یا دونوں ظنی ہوں۔ اور چار وہ ہیں جو سنیت کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن میں طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور ثبوت و اثبات کی صورتیں ویسے ہی جیسے فرضیت اور وجوب کا افادہ کرنے والی قسموں میں بیان ہوئیں یعنی دونوں قطعی یا دونوں ظنی یا ایک ظنی ۔ اور باقی انیس ۱۹ قسمیں مندوب و مستحب ہونے کا افادہ کرتی ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کے ثبوت یا اثبات کسی ایک میں شک ہو اگرچہ طلب جزمی ہو (یہ دس ۱۰ صورتیں ہوئیں طلب جزمی ہے اور ثبوت شکی ہے ، اثبات قطعی یا ظنی یا شکی۔ یا ثبوت ظنی ہے اثبات شکی ۔ یا ثبوت قطعی ہے اثبات شکی ۔ طلب غیر جزمی مؤکد ہے اور وہی پانچ صورتیں) یا ان میں طلب صرف ترغیبی ہو اگرچہ ثبوت اور اثبات دونوں قطعی ہوں ( یہ نو صورتیں ہوئیں وہی جو چند سطور پہلے توضیح میں لکھی گئیں ، کُل ۱۹ ہو گئیں) اسی پر جانب کف میں حرام ،مکروہ تحریمی اور خلاف اولی اور قیاس کرلیں اور مقام احتیاط سے غفلت ہرگز نہ ہو ... اور خدا ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے... یہ وہ تابندہ ودرخشندہ تحقیق ہے جو ان سطور کے سوا شائد کہیں نہ ملے ... تو اسے حفظ رکھئے۔ (فتاوی رضویہ، 1/259-263، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    (۵) بد مذہبوں اور کفار کا تشبہ ختم کرنے کیلئے وہی اعمال کرنا جو ان کا شعار ہو جائز نہیں، ہاں اگر ایسا عمل کیا جائے جس سے بعینہٖ ان کی موافقت نہ ہو جائز ہے مثلاً یہود کا شعار عاشورا کا روزہ جو رکھنا چاہے تو عاشور سے پہلے یا بعد یعنی 9محرم یا 11محرم کا روزہ بھی رکھےتا کہ یہود کی موافقت نہ ہو ۔جیسا کہ حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ، صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا، أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا".ترجمہ:عاشورا کے دن کا روزہ رکھو اور اِس میں یہودیوں کی (اس طرح) مخالفت کرو کہ اس سے پہلے یا بعد میں بھی ایک دن کا روزہ رکھو۔(مسند امام احمد،مسند بنی ہاشم، مسند عبد اللہ بن عباس، 4/52، رقم:2154، مؤسسة الرسالة)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:4 ربیع الأول 1447 ھ/29 اگست 2025ء