محمد زوہیب رضا قادری
یزید کے بارے میں دو مقامات ہیں
1: اسکا فاسق و فاجر ہونا۔
2: اسکا کافر وملعون ہونا۔
یزید کے فاسق و فاجر ہونے میں تمام علماء اہل سنت امام اعظم ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل متفق ہیں۔ کہ یزید سخت فاسق و فاجر اور جری علی الکبائر تھا، اہلبیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اس کی طرف سے کیے گئے مظالم اور پھر واقعہ حُرہ یعنی مکۃ المکرمہ اور مدینۃ المنورہ کی بے حرمتی اور حرمینِ طیبین میں رہنے والوں پر ظلم و ستم وغیرہا لہٰذا اس پلید کی مدح و ثنا کرنے والا سنی نہیں بلکہ گمراہ ناصبی وخارجی ہی ہو سکتا ہے۔
اس پر لعنت کے سلسلے میں اختلاف ہےاور یہ اختلاف در اصل اس اختلاف پر مبنی ہے کہ آیا یزید کافر تھایا مسلم؟ سو جو ائمہ اسکے کفر کے قائل ہیں مثلاً امام احمد بن حنبل ، آپکے متبعین، علامہ ابن جوزی اور علامہ تفتازانی وغیرہ ۔ سووہ اسکے کفر کے قائل ہونے کی بناء پر بہ تخصیصِ نام اس پر لعنت کرتے ہیں ،چناچہ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ یزید کے فسق پر اتفاق کے بعد اس میں اختلاف ہے کہ اس کا نام لے کہ اسی پر لعنت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ علامہ ابن جوزی نے اس کو جائز قرار دیا ہے اور اس کو امام احمد وغیرہ سے نقل کیا ہے اور اپنی کتاب الرد على المتعصب العنيد المانع من ذم یزید میں لکھا ہے کہ مجھ سے ایک سائل نے سوال کیا ،کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے؟ میں نے کہا نیک اور متقی علماء نے یزید پر لعنت کی ہے اور ان میں سے امام احمد بن حنبل ہیں۔ انھوں نے یزید کے بارے میں لکھا ہے اس پر لعنت ہو ، پھر علامہ ابن جوزی نے کہا کہ قاضی ابو یعلی الفراء نے اپنی کتاب المعتمد فی الاصول میں اپنی سند کے ساتھ لکھا ہے کہ صالح بن احمد بن حنبل نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے کہا کہ لوگ ا نہیں یزید کی محبت کا طعنہ دیتے ہیں تو میرے والد (امام احمد) نے فرمایا: اے بیٹے کیا جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ یزید سے محبت کر سکتا ہے؟ اور اس پر کیوں نہ لعنت کی جائے جس پہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یزید پر کہاں لعنت کی ہے ؟ تو انھوں نے کہا اس آیت میں :فهل عسیتم ان توليتم ان تفسدوا في الارض وتقطعوا ارحامكم اولئك الذين لعنهم الله فاصمهم واعمي ابصارهم(محمد ،آیت: 22،23) ترجمہ: پھر تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو (اقتدار کے نشہ میں) تم زمین میں فساد کرو گے اور اپنی قرابتوں کو منقطع کروگے یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے انکو بہرا کردیا اور آنکھوں کو اندھا کردیا۔
جبکہ باقی ائمہ اس کی تکفیر و لعن کے قائل نہیں ہیں ، امام غزالی کا اسی پر فتوٰی ہے،اور یہی چیز ہمارے ائمہ کے بیان کردہ قواعد کے لائق و موافق ہے کہ کسی بھی شخصِ معین پر اس وقت تک لعنت جائز نہیں جب تک اسکے کفر پر موت کا یقین نہ ہوجائے کیونکہ لعنت کا مطلب ہے کسی شخص کو اللہ تعالٰی کی رحمت سے بالکل دور کردیا جائے حتٰی کہ وہ اللہ کی رحمت سے بالکل مایوس ہوجائے۔ اور یہ چیز اسی کے لئے جائز ہے جس کی کفر پر موت کا یقین ہوا جس کی کفر پر موت کا یقین نہ ہو اس پر لعنت جائز نہیں ہے حتی کہ کافر پر اس کی زندگی میں لعنت کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے وہ مرنے سے پہلے مسلمان ہو جائے، نیز انھوں نے تصریح کی ہے کہ کی معین مسلمان فاسق پر لعنت کرنا جائز نہیں ہے۔ اور جب تم نے ان کی یہ تصریحات جان لیں تو یہ بھی جان لو کہ ان کے نزدیک یزید پر لعنت جائز نہیں ہے اگر چہ وہ فاسق خبیث تھا۔
جبکہ امام اعظم ابوحنیفہ کا موقف اس سلسلے میں توقف کا ہے یعنی احتیاطاً سکون فرماتے ہیں کہ اسے کافر و ملعون نہ کہیں گے البتہ فاسق و فاجر کہنے میں ذرا تامل نہ کریں گے۔
چناچہ سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: یزید پلید علیہ مایستحقہ من العزیز المجید قطعا یقینا باجماع اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر ائمہ اہل سنت کا اطباق واتفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعن میں اختلاف فرمایا۔ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ کریمہ سے اس پر سند لاتے ہیں: فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنہم اﷲ فاصمہم واعمی ابصارھم ۔ کیا قریب ہے کہ اگر والی ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو، یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی تو انھیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔(القرآن الکریم۴۷/ ۲۳۔ ۲۲)
شک نہیں کہ یزید نے والی ملک ہو کر زمین میں فساد پھیلایا، حرمین طیبین وخود کعبہ معظمہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اورپیشاب منبر اطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بے اذان ونماز رہی،مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ تابعین بے گناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غلاف شریف پھاڑا اور جلایا۔ مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمراہیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے گو دکے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام استخوان مبارک چور ہوگئے، سرانور کہ محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا بوسہ گاہ تھا کاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا۔ حرم محترم مخدرات مشکوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا،ملعون ہے وہ جو ان ملعون حرکات کو فسق وفجور نہ جانے،قرآن عظیم میں صراحۃً اس پر لعنہم (ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ ت) فرمایا۔(القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
لہذا مام احمد اور ان کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطاً سکوت فرمایا کہ ا س سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں، اور بحال احتمال نسبت کبیر ہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر اور امثال وعیدات مشروط بعدم توبہ ہیں لقولہ تعالٰی، فسوف یلقون غیا الامن تاب (توعنقریب دوزخ میں غی کاجنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوگئے۔ ) اورتوبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عدم پر جزم نہیں اور یہی احوط واسلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریات مذہب اہل سنت کے خلاف ہے اور ضلالت و بدمذہبی صاف ہے، بلکہ انصافا یہ اس قلب سے متصور نہیں جس میں محبت سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا شمّہ ہو۔(القرآن الکریم ۱۹/ ۵۹)وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون (اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹاکھائیں گے۔ )(فتاوٰی رضویہ ، جلد 14 ص 592تا 594)
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں: جس شخص نے آل رسول پر ظلم کیسے ، حرم مدینہ کی بے حرمتی کی، خانہ کعبہ کو جلایا ہمارے ول میں اس کے بارے میں نرمی کا کوئی شمہ نہیں ہے ، یہ شخص بہت بڑا ظالم اور فاسق و فاجر تھا اگرہمیں شر عی حدود وقیود اور قواعد شرعیہ کا پا س نہ ہوتا توہم یزید پر کفر کاحکم لگا دیتے اور اس پر شخصی لعنت کرنے میں میں کوئی ہمیں کوئی تامل نہ ہوتا۔ (شرح صحیح مسلم جلد 3 ص 638)
