وومین ملک بینک کا قیام شرعی نکتہ نظر میں

    محمد زوہیب رضا

    14 ذوالحج 1445ھ، بمطابق 21 جون 2024ء

    اللّٰہ جل مجدہ الکریم نے حرمتِ نکاح کے اسباب میں سے ایک سبب رضاعت قرار دیا ہے یعنی دودھ کے رشتے کی حرمت۔ جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ ۔ اور تم پر حرام کردی گئی ہیں تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ (کے رشتے) سے تمہاری بہنیں۔

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اقوال و بیانات کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کے اس حکم کی مزید وضاحت فرمائی چناچہ ابن عباس فرماتے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: يَحْرُمُ مِنِ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنِ النَّسَبِ۔ یعنی جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہوجاتے ہیں، وہی دودھ کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔( بخاری حدیث نمبر 2645)

    سو اب اگر کوئی عورت کسی بچے کو

    مدتِ رضاعت میں اپنا دودھ پلادے تو بلاشبہ وہ عورت اسکی رضاعی ماں قرار پائے گی اور اس بچے پر اس عورت کے اصول و فروع حرام قرار پائیں گے اصول سے مراد اسکے والدین اور فروع سے مراد اسکی اولاد۔ لہذا اب اس بچے کو جائز نہیں کہ اس عورت کی ماں دادی نانی یونہی بیٹی پوتی بہن سے شادی کرے کہ یہ سب اسکے رضاعی محارم ہیں اس مرضعہ کی ماں اس بچے کی دودھ شریک نانی اسکی بہن اسکی دودھ شریک یا رضاعی خالہ یونہی اسکی بیٹیاں اسکی رضاعی بہنیں اور پوتیاں رضاعی بھانجی ہوئیں۔ وعلی ہذا القیاس پھر یہ معاملہ صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ اس مرد کہ جس کے سبب عورت کو دودھ اترا ہے یہ حرمت اسکی طرف بھی متعدی ہوگی لہذا مُرضِعَہ ( دودھ پلانے والی) کا شوہر اسکا رضاعی باپ قرار پائے گا اور اسکی بہنیں اسکی رضاعی پھوپھیاں اسکے بیٹے اسکے رضاعی بھائی اور انکی بیٹیاں اسکی رضاعی بھتیجاں قرار پائیں گی اور ان سب سے اسکا نکاح اس حرمت رضاعت کے سبب حرام قرار پائے گا۔ یونہی اگر بچی کو دودھ پلایا تو اسی ترتیب سے بھی یہی حکم ہوگا۔

    ان نصوصِ قطعیہ کے تناظر میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک میں عورتوں کے دودھ کا بینک کھولنا اگر چہ حرام قرار نہ بھی دیا جائے تب بھی احتیاطاََ منع ہونا چاہیے کہ اس میں کئی ایک خرابیاں ہیں:

    1: مخلوط رضاعت جو کہ بعض ائمہ کے نزدیک مطلقاََ ہر ایک کی جانب سے سببِ حرمت ہے یعنی جس جس کا دودھ ہوگا حرمت ان سب کی طرف راجع ہوگی البتہ فقہاءِ احناف کے نزدیک ایک سے زائد عورتوں کا دودھ کا ملانے کی صورت میں غالب کا اعتبار سے جسکا دودھ غالب ہوگا حرمت اس عورت کی جانب سے ثابت ہوگی اگر غالب و مغلوب کا علم نہ ہو تو حکم مختلف ہوگا۔

    2: انسانی دودھ کی خرید و فروخت : یاد رہے انسان بجمیع اجزائہ محترم و مکرم غیر قابلِ بیع و شِرا ہے سو جب ملک بینک قائم ہونگے تو لا محالہ ہیومن ملک کی خرید و فروخت ہوگی جو کہ بلا ضرورتِ شرعیہ حرام ہے: کما قال الفقہاء ولایبع لبن امراة فی قدح"

    یہاں ایسی کوئی ضرورتِ شرعیہ نہیں کہ جسکے سبب اسکی بیع جائز ہو جائے، بالخصوص اس صورت میں جبکہ اس دودھ کے متبادلات مارکیٹ میں موجود ہیں جو کہ سہل الوصول اور سہل الحصول ہیں ۔ مثلاً مشرق میں گائے ،بھینس ،بکری وغیرہ حیوانات کے دودھ کو بذریعہ بوتل استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ خشک ڈبہ بند،فارمولا ملک دستیاب ہیں جو کہ ڈاکٹر بچے کی صحت او راس کی ضروریات کے مطابق تجویز کرتا ہے ۔اگر چہ بچہ اس کو بریسٹ فیڈنگ پر کوئی بھی ترجیح نہیں دیتا لیکن جب کچھ دستیاب نہ ہو تو یہ متبادل صورتیں اختیار کی جاتی ہیں۔ اس لیے یہاں ضرورت کا تحقق بھی نہیں کہ اسکی بیع جائز ہوجائے۔

    3: احتیاطی تدابیر کا امکان محالی:

    اگر کوئی یہ کہے کہ کچھ شرائط کے ساتھ ہیومن ملک بنک کا قیام جائز ہو۔ اور وہ شرائط یہ ہیں مثلاً 1: ہر عورت کا دودھ الگ رکھا جائے۔

    2: بچے اور خاندان کا مکمل ریکارڈ عورت کو مہیا کیا جائے۔

    3: خاتون اور اسکے خاندان کا ریکارڈ بچے کے حوالے کیا جائے۔

    4۔ایک بچےکو ایک ہی عورت کا دودھ پلایا جائے تاکہ کم رضاعی رشتے ثابت ہوں. تو یاد رہے ان امور کی رعایت خَرطُ القَتَاد کی مثل ہے یا یوں کہیں کہ جوئے شِیر لانے کے مترداف ہے یعنی نہایت مشکل امر ہے اس لیے احتیاط بہتر ہے۔

    4: جہالت کے سبب محارم سے نکاح:

    اگر انکے جوازِ مطلق کا قول کیا جائے تو اس صورت میں رضاعت کے رشتوں کے اختلاط و اشتباہ کی وجہ سے شریعت کی بیان کردہ حرمت پامال ہوں گی کہ ممکن ہے کسی صورت میں حرمت ثابت ہو جائے اور عدم علم کی بناء پر نکاح کردیا جائے۔

    5: سد باب کے طور پر ممانعت : اگر ملک بنک کا قیام ہو جائے تو ایسی خواتین جو نادار، لاچار اور معاشرتی طور پر غریب ہیں ان میں اپنے دودھ کی خرید و فروخت کا رواج پاجائے گا جو کہ تکریمِ انسانی کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔

    لہذا ان تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہماری مذہبی روایات اور اعتقادات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ خواہ مخواہ رضاعی رشتوں کے تقدس کی پامالی کی طرف قدم بڑھایا جائے جبکہ اس کے متبادل حل موجود ہیں۔

    اسلام اور اسکی تعلیمات و مسائل سے دوری کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب اور مغربی تہذیب سے متاثر احساس کم تری کا شکار یا جدت پسند مسلمان ہر معاملے میں انتہاء پسندی کا شکار ہوجاتے ہیں ، مغرب کی جانب سے پہلے ماؤں کے دودھ کے مضمرات اور Breast Feeding سے نسوانی حسن متاثر ہونے کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور بچوں کو مصنوعی خوراک پر ڈالا ، جب اس کے اثرات اور نقصانات سامنے آئے تو ماں کے دودھ کی اہمیت ان کے دلوں میں جاگی اور پھر اس میں انہوں نے اس قدر شدت اختیار کی کہ ملک بنک قائم کرنا شروع کر دیئے ۔ اسلام اس طرح کی افراط و تفریط سے ماورا ہے۔ اب اگر ان مسائل پر کسی جدت پسند مسلمان کا ہاضمہ خراب ہو اور اسے یہ باتیں ملا کی پخ لگے تو یہ شخص جدت پسند کے بجائے جہالت پسند کہلانے کا مستحق ہے کہ یہ سب امور کسی عالم مفتی مفسر محدث یا فقیہ کے بیان کردہ نہیں بلکہ خود ذات باری تعالٰی اور رسول مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کردہ ہیں۔