محمد زوہیب رضا قادری
دین اسلام اورکفروضلالت کے درمیان کش مکش اوررسہ کشی روزاول سے جاری ہے،طاغوتی طاقتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام کےحسین،جاذبِ نظراورمضبوط ومستحکم محل میں شگاف پیداکیاجائے،اوراسلامی تعلیمات وہدایات کے صاف وشفاف چشمہ کو گدلا کیا جائے، چنانچہ بارہایورپی تہذیب وتمدن کے علمبرداروں نے اسلامی احکام کوہدف ملامت اورتنقیدکانشانہ بنایاہے،اورجدیدترقی یافتہ دورمیں مذہب اسلام کوفرسودہ اورناقابل عمل قراردینے کی کوشش کی ہے،الیکٹرانک میڈیااورپرنٹ میڈیا- جوحقائق وواقعات کونظراندازکرنے اورکذب وافتراپردازیوں کوصداقت کاجامہ پہنانے میں طاق ہے،اوریورپ کے مکروہ اورگھنائونے عزائم کوایک تحریک کی شکل دینے میں ایک اہم اوربنیادی حیثیت رکھتاہے-کوجب اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کوئی شوشہ مل جاتاہے تو نمک مرچ لگاکراسے اچھالنے اوراس کوبارہاموضوع بحث بنانے سے نہیں چوکتا،لیکن اگرکوئی ایسی خبرہوجس سے مذہب اسلام کے محاسن اوراس کی صداقت کاپہلواجاگرہوتاہوتواس سے میڈیاسردمہری برتتاہے،اوراس خبرکونظراندازکردیتاہے،میڈیاکایہ دوہرارویہ یقینا افسوسناک ا ورغم انگیزہے،اس وقت ہمارے ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے یہ آوازپورے زوروشورسے سے اٹھائی جارہی ہے کہ اسلام میں مسلم مردکے لئے ایک سے زائدعورتوں سے شادی کی اجازت صنف نازک کی تذلیل اوراس کی حق تلفی کے مترادف ہے،اسلام کے اس آئین کی روسے صرف مردوں کوفائدہ پہونچتاہے کہ وہ متعددعورتوں کواپنے حرم میں لے کراپنی صنفی پیاس بجھاتے ہیں،اورصنف نازک کواپنی ہوس کانشانہ بناتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی رسم اسلام کے علاوہ دیگرمذاہب میں بھی پائی جاتی ہے،اسلام کاآفتاب طلوع ہونے سے پہلے عربوں میں دسیوں عورتوں سے نکاح کرنے کارواج تھا،چنانچہ متعددصحابہ کرام کے بارے میں آتاہے کہ اسلام قبول کرنے کے وقت ان کے نکاح میں چارسے زیادہ بیویاں تھیں،رسول ﷺ نے انہیں یہ ہدایت دی کہ چارکاانتخاب کرکے بقیہ کوطلاق دے کرحبالہ عقدسے خارج کردیں،چنانچہ حضرت غیلان بن سلمہ ثقفیؓ نے اسلام قبول کیا توان کی دس بیویاں تھیں، اسی طرح نوفل بن معاویہؓ کی پانچ بیویاں تھیں،اسی طرح حارث بن قیس ؓ کے اسلام قبول کرنے کے وقت آٹھ بیویاں تھیں،اسلام قبول کرنے کے بعدانہوں نے چارکوچھوڑکرسب کوطلاق دے دی۔( تفسیرکبیر: جلد 05 ص 13)
صرف عرب ہی نہیں ؛بلکہ تمام قدیم اقوام:یونانیوں ،بابلیوں اورمصریوں میں بھی کثیرزوجگی کارواج تھا،مشہوراسلامی اسکالرڈاکٹرمصطفی سباعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تصنیف لطیف المراۃ بین الفقہ والقانون میں تحریرفرماتے ہیں:اسلام ہی نے سب سے پہلے کثیرزوجگی کی اجازت نہیں دی ؛بلکہ تقریبا تمام قدیم اقوام مثلایونانیوں ،چینیوں، ہندئووں ،اشوریوں اورمصریوں میں بھی اس کارواج موجودتھا،چینی مذہب لیکی میں ایک سوتیس بیویاں رکھنے کی اجازت تھی،اوربعض چینی سربراہوں کے یہاں لگ بھگ تین ہزارعورتیں تھیں،اس کے علاوہ یہودی مذہب میں بھی بغیرکسی حدکے بیویاں رکھنے کی اجازت تھی،تمام انبیاء توریت کے یہاں بہت سی بیویوں کاپتہ چلتاہے۔ایک سے زائدشادی کے لئے شرعی پابندیاںاسلام نے بیویوں کی غیرمعین تعدادپربندش لگائی،اورصرف چارعورتوں تک نکاح کرنے کی اجازت دی ،اورایک سے زائدعورتوں سے نکاح کے لئے کچھ شرائط اورپابندیاں رکھی ہیں،تاکہ صنف نازک کے حقوق کاپورے طورپرتحفظ ہوسکے،اوروہ خوش گواراوربہترطورپرزندگی بسرکرسکے۔
بیویوں کے درمیان عدل ومساوات کی تاکید:
قرآن کریم کی سورہ نساء میں اللہ تبارک وتعالی نے مسلم مردکے لئے ایک سے زیادہ چارعورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے،لیکن یہ اجازت عدل کی شرط کے ساتھ مشروط ہے،ایک مسلمان مردکے لئے ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی اجازت شرعااس وقت ہے جب کہ وہ بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرنے پرقدرت رکھتاہو،اگراسے یہ اندیشہ ہے کہ میں بیویوں کے درمیان عادلانہ اورمنصفانہ سلوک نہیں کرسکوں گا،اورکسی ایک کی طرف میرامیلان اورجھکاؤزیادہ ہوجائے گاتواسے ایک بیوی پراکتفاکرنے کاشریعت نے پابندبنایاہے،ارشادباری تعالی ہے:فانکحواماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث ورباع فإن خفتم أن لا تعدلوا فواحدۃ۔جوعورتیں تمہیں پسندہوں ان میں سے دودوتین تین چارچارسے نکاح کرسکتے ہو،اگرتمہیں ناانصافی کااندیشہ ہوتوایک ہی عورت سے نکاح کرو۔(النساء :03)
ایک دوسری جگہ اللہ تعالی نے فرمایا: ولن تستطیعوا أن تعدلوا بین النساء ولوحرصتم فلاتمیلوا کل المیل فتذروہا کالمعلقۃ۔اور تم چاہ کربھی بیویوں کے درمیان مکمل برابری نہیں کرسکتے، تو (اتنا ضرور خیال رکھو)ایک طرف مکمل طورپرمائل نہ ہوجائوکہ دوسرے کولٹکتا ہواچھوڑدو۔(النساء: 129)
متعدداحادیث شریفہ میں بھی بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرنے پرزوردیاگیاہے،اوران کے ساتھ ناانصافی کرنے اورایک کودوسرے پرفوقیت دینے پرسخت وعیدبیان کی گئی ہے،چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا:من کانت لہ امرأتان ومال إلی إحداہما جاء یوم القیامۃ وشقہ مائل۔جس شخص کے پاس دوبیویاں ہوں ،وہ ان میں سے ایک کی طرف مائل ہوتوقیامت کے دن وہ اس طرح آئے گاکہ اس کے جسم کاایک حصہ جھکاہواہوگا۔(ابوداؤد،حدیث نمبر:2133)
نبی کریم ﷺ نے مختلف ملی ،سماجی ،معاشرتی اوردینی مصالح کی غرض سے متعددعورتوں سے نکاح فرمایا،آپﷺ ہربیوی کے ساتھ عدل اوربرابری سے پیش آتے،اورہرایک کے ساتھ منصفانہ سلوک کرتے،البتہ قلبی میلان اوردلی محبت حضرت عائشہ سے دوسری بیویوں کے مقابلے میں زیادہ تھی؛اسی لئے آپﷺ اللہ تبارک وتعالی سے دعا فرماتے کہ اے اللہ محبت چوں کہ غیراختیاری چیزہے ،اسی لئے عائشہ سے محبت کے سلسلے میں مجھ سے مواخذہ مت فرمائیے،حضرت عائشہ فرماتی ہیں:کان رسول اللہ ﷺ یقسم فیعدل،ویقول :اللہم ہذاقسمی فیما أملک فلاتلمنی فیماتملک ولاأملک یعنی القلب۔رسول اللہﷺ باری میں عدل فرمایاکرتے تھے،اوریہ کہاکرتے تھے:میری باری ان امورمیں ہے جن پرمجھے اختیارہے،توآپ مجھ سے مواخذہ مت فرمائیے ان امورکے بارے میں جن پرآپ کااختیارہے اورمیرااختیارنہیں ہے۔(ابوداؤد،حدیث نمبر2134)
شب گزاری میں برابری :
فقہاء کااس بات پراتفاق ہے کہ شب گزاری میں بیویوں کے درمیان عدل ا وربرابری ضروری ہے،علامہ ابن نجیم مصری ؒ متوفی ۹۷۰ ھ لکھتے ہیں:حاصل یہ ہے کہ جب محبت میں برابری کرناشوہرپرشرعاضروری نہیں ہے توشب گزاری میں برابری کرنابہرحال ضروری ہے،اوراس پرتمام فقہاء کااتفاق ہے۔(البحرالرائق ج1 ص 381باب القسم زکریادیوبند)
بلکہ فقہاء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ بیوی صحت مندہویابیمار،مسلمان ہویاکتابیہ ،باکرہ ہویاثیبہ ان تمام صورتوں میں ائمہ اربعہ کااس بات پراتفاق ہے کہ دوسری بیوی کے ساتھ وہ باری کی برابرمستحق ہے۔
شوہربیمارہوتوبیویوں کے درمیان عدل وانصاف کاشریعت میں اس قدرلحاظ کیاگیاہے کہ فقہاء احناف نے لکھاہے کہ شوہراگرایسامریض ہوکہ بیویوں کے پاس باری باری جاناممکن ہویاشدیدمشقت کاسبب ہوتواس حالت میں بھی برابری ضروری ہے،چنانچہ کسی بیوی کے پاس شدیدبیماری کی وجہ سے رہ جائے توصحتمندہوجانے کے بعداتنی مدت دوسری بیوی کے ہاں رہناضروری ہے۔(شامی:ج4 ص382،مکتبہ رشیدیہ)
سفرمیں باری مقرر کرنا:
متعددبیویوں کے درمیان شب باشی میں مساوات اوربرابری کاحکم اگرچہ حضرواقامت کے لئے ہے،سفرمیں باری کے مطابق کسی کولے جاناضروری نہیں ؛تاہم قرعہ اندازی کرنااورجس بیوی کے نام قرعہ نکلے اس کولے جانامستحب ا وربہترہے،آپﷺ ازواج مطہرات کی تسکین قلب کے لئے سفرمیں بیوی کوساتھ لے جانے کے لئے قرعہ اندازی فرماتے تھے۔
بیویوں کے لئے رہائش کاالگ انتظام کرنا:
شوہرکوشریعت نے اس بات کابھی پابندبنایاہے کہ وہ ہربیوی کے لئے الگ اورعلاحدہ رہائش کاانتظام کرے،متعددبیویوں کوایک ہی گ
گھرمیں رکھناان کی رضامندی کے بغیرجائزاوردرست نہیں ہے،فتاوی عالمگیری میں ہے:دویادوسوسے زیادہ سوکنوں کوایک کمرہ میں رکھنادرست
نہیں ہے ؛ہاں اگروہ خودراضی ہوں تواوربات ہے۔
نفقہ کاانتظام :
مسلمان مردکے لئے ایک سے زیادہ بیویوں سے نکاح کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مردمعاشی لحاظ سے اس قدرمضبوط ہوکہ اپنے اہل وعیال اورمتعلقین کے ساتھ ازدواجی رشتہ کی وجہ سے جومہر،نفقہ اوردیگرمالی ذمہ داریاں عائدہوتی ہیںان کواداکرنے کی استطاعت رکھتاہو، اگروہ معاشی لحاظ سے اس پوزیشن میں نہیں ہے تواس کے لئے ایک ہی بیوی پراکتفاکرناواجب اورضروری ہے،اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: ولیستعفف الذین لایجدون نکاحاحتی یغنیہم اللہ من فضلہ۔اورجن لوگوں کونکاح کامقدورنہیں ہے انہیں چاہیے کہ وہ ضبط سے کام لیں،یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے غنی کردے۔(النور:33)
ایک روایت میں آپﷺ نے نوجوانوں کونکاح کی ترغیب دی ،اوراس میں استطاعت کی شرط مذکورہے،اورجنہیں اس کی استطاعت نہ ہوانہیں روزہ رکھنے کی تاکیدکی گئی ہے،جیساکہ آپﷺ کاارشادگرامی ہے:ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء۔ جو نکاح کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اس پر روزہ ہے کہ وہ اسکی ڈھال ہے۔(9: بخاری،حدیث نمبر:1905)
جنسی تسکین فراہم کرنے کی قدرت ہو:
ایک سے زائدبیویوں سے نکاح کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مرد جسمانی لحاظ سے صحت منداورتواناہوکہ بیوی کوجنسی تسکین فراہم کرسکے،اورعورت کی خواہش پرا س کی صنفی پیاس بجھاسکے،تاکہ عورت کی عفت وعصمت محفوظ رہے،اوروہ ایک پاکدامن اورشریف خاتون کی حیثیت سے معاشرہ میں زندگی بسرکرسکے۔
اسلام کی آمد سے قبل دنیائے انسانیت بے راہ روی ،کس مپرسی اورمفلوک الحالی کے خوف ناک اوربدترین دور سے گزرہی تھی ،اسلام کی دل گیر صداؤں نے اسے ایک روح پرور، حیات بخش اور امن آفریں منزل عطاکی۔ بعثت رسول ﷺسے قبل عالم انسانیت،مذہب بیزاری، جنسی انارکی، سیاسی پستی، علمی و فکری تنزلی، طبقاتی کشمکش اور معاشرتی لاقانونیت کے آخری نقطے پر پہنچ چکی تھی،اسلام کے جاں فزازمزموں نے پورے عالم کو اس مہیب صورتِ حال سے نکال کر سرخ روئی اور سرفرازی سے ہم کنار کیا۔
دیگر اقوام کی تہذیب و تمدن ،ثقافت و حضارت اوردھرم و مذہب کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آشکارا ہوجاتی ہے کہ فطرت سے ہم آہنگی، آفاقیت اور جامعیت ایسے کمالات اور امتیازات ہیں ؛جو تمام ادیان کے مقابلے میں صرف اور صرف مذہب اسلام کا حصہ ہیں ۔ان ہی انسانی اور فطری حقوق میں ''تعدد ازدواج کا مسئلہ '' بھی ہے ،جواہمیت کا حامل ہے اوربالخصوص عصر حاضر کے نئے اذہان میں پنپنے والے شکوک وشبہات اور قوانین اسلام کو لے کر ہونے والے اعتراضات کی وجہ سے اس کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔
تعدد ازدواج دیگر مذاہب میں :
تعددِ ازواج کے مبنی برفطرت ہونے کا انکا رفقط دورِ حاضرکا ایک فتنہ ہے ، ورنہ نبی کریم ﷺکی بعثت سے ہزاروں سال قبل بھی اللہ کی طرف سے آدم کے بیٹوں کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت تھی۔ مختلف جلیل القدر پیغمبروں اور اُمم سابقہ کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی اُمتوں اور سابقہ شرائع میں تعددِ ازواج کی باقاعدہ اجازت تھی اور اس پر عمل بھی تھا۔اگر آپ یہودی قانون کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہودیت میں گیارہویں صدی عیسوی تک مرد کو کثرت ازدواج کی اجازت حاصل رہی ہے ۔ عرب علاقوں میں آباد یہودی 1950ء تک ایک سے زیادہ شادیاں کرتے رہے؛ لیکن 1950ء میں اسرائیل کے علما نے کثرتِ ازدواج پرمکمل پابندی لگا دی۔اسی طرح عیسائی انجیل بھی کثرت ازدواج کی اجازت دیتی نظرآتی ہے ۔ یہ تو چند صدی پہلے عیسائی علما نے ایک سے زاید شادیوں پر پابندی عائدکی ہے ۔
قرآن ہی دنیا کی وہ واحد الہامی کتا ب ہے، جو بہ صورت دیگر صراحت کے ساتھ ایک ہی شادی کاحکم دیتی ہے اور کوئی ایسی مقدس کتاب موجود نہیں ہے، جو ایک شادی کا حکم دیتی ہو۔آپ پوری "گیتا" پڑھ جائیں، پوری"راماین" پڑھ لیں، پوری "مہا بھارت" پڑھ لیں۔ کہیں آپ کو یہ لکھا نہیں ملے گا کہ ایک شادی کرو حتی کہ بائبل میں بھی آپ ایک شادی کا حکم تلاش بسیار کے باوجود نہیں پائیں گے ؛بلکہ اگر آپ ہندوؤں کے متون مقدسہ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ بیشتر راجوں، مہاراجوں کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ "دشرتھ" کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں،شری کرشن کی بھی بہت سی بیویاں تھیں۔
اسی طرح اگر آپ ہندوستانی قانون کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پہلی دفعہ 1954ء میں کثرت ازدواج پر پابندی لگائی گئی۔ اس سے قبل ہندوستان میں قانونی طور پر بھی مرد کو ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی اجازت تھی۔1954ء میں ہندو میرج ایکٹ کا نفاذ ہوا ،جس میں ہندوؤں کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔اگر آپ اعداد و شمار کا تجزیہ کریں توموجودہ صورتِ حال آپ کے سامنے واضح ہو جائے گی۔ یہ اعداد و شمار "اسلام میں عورت کا مقام" کے عنوان سے تحقیق کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ میں شامل ہیں۔ 1975ء میں شائع ہونے والی رپورٹ کے صفحہ 66 اور 67 پر ایک سے زاید شادیوں کے حوالے سے اعداد و شمار دیے گئے ہیں ؛جن میں بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں میں ایک سے زاید شادیوں کی شرح 5.56 فی صد تھی جبکہ مسلمانوں میں یہ شرح 4.31 فی صد۔
سابقہ انبیا ء کے ہاں کثرتِ ازواج
٭ سیدنا نوح ؑ کی شریعت میں مردوں کو ایک سے زائد نکاح کی اجازت تھی، اولادِ نوح ؑ میں لَمَک ایک ایسا شخص تھا، جس کی بیویوں کا ذکر بائبل میں ہے، ملاحظہ فرمائیے : ''اور لمک دو عورتیں بیاہ لایا، ایک کانام 'عدہ'اور دوسری کانام 'ضلہ'تھا۔ (10:کتاب مقدس (بائبل) پیدائش، باب نمبر 4، آیت نمبر 19، صفحہ 8، طبع بائبل سوسائٹی لاہور۔)
٭ ابراہیم خلیل اللہ جو کہ محمد ﷺ فداہ أبی وأمی کے جد ِامجد ہیں اوریہود ونصاری دونوں کو دعویٰ ہے کہ ہم آلِ ابراہیم ہیں، بلکہ اپنے تئیں دونوں اُنہیں اپنا ہم مذہب قرار دیتے ہیں؛ جاننا چاہیے کہ ابوالانبیا نے چار نکاح کیے تھے، حافظ ابن کثیر علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :''حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکی دوسری بیوی حضر ت حَاجِرَ قبطیہ مصریہ کے بطن سے ان کی اولاد میں سب سے پہلے حضرت اسماعیل ؑپیدا ہوئے، پھر ان کی پہلی بیوی حضرت سارہ کے بطن سے حضرت اسحق پیدا ہوئے ...قنطورا کے علاوہ حجون بنت ِامین سے بھی عقد کیا۔ (حافظ اسماعیل ابن کثیر، البدا یۃ والنھایۃ (اردو)
نفیس اکیڈمی کراچی، ج اوّل ص 233، 234)
٭ بنی اسرائیل جناب یعقوب ؑکی اولاد ہیں۔ یہود ونصاریٰ کو جاننا چاہیے کہ ان کے جد ِاعلیٰ نے خود 'تعدد ِازواج'پر واضح طور پر عمل کیا۔ بائبل کتابِ پیدائش اور دیگر مقامات کے مطالعہ سے واضح ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے ننھیال یعنی ماموں 'لابن'کے ہاں رہ کر بیس ۲۰برس تک بکریاں چرائیں او ران کی دو بیٹیوں 'لیاہ 'اور 'لاخل'سے شادی کی، نیز ان کی دو لونڈیو ں 'زلفا'اور 'بلیا'سے بھی مصاحبت کی۔ ( بائبل، پیدائش، باب نمبر 31، آیت نمبر 47/3)
٭ اسی طرح بائبل میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہے کہ اسحق علیہ السلام کے دوسرے بیٹے 'عیسو'اپنے بیٹے اسمٰعیل کے ہاں چلے گئے، وہاں ان کی صاحبزادی سے شادی کی نیز اس کے علاوہ بھی کئی شادیاں کی۔جن میں 'بیری حتی 'کی بیٹی 'یہودتھ'اور 'ایلون'کی بیٹی 'بشاتھ'سے بیاہ کیا۔(بائبل، پیدائش، باب نمبر26 آیت نمبر34)
٭ بنی اسرائیل ہی کے دو اور جلیل القدر پیغمبرداود اور سلیمان علیہما السلام ہیں جوکثرتِ ازواج کی بنا پر مشہور ہیں۔ اگرچہ یہود ی ان کا شمار سلاطین میں کرتے ہیں۔ مفسر قرآن خازن داؤد ؑکے متعلق لکھتے ہیں:کا ن لداؤد تسع وتسعون امرأة...الخ ۔داؤد علیہ السلام کی کی نناوے بیویاں تھیں۔( ایضا)
نیز بائبل کی کتاب تواریخ نمبر۱، باب نمبر۳میں ان کی نو بیویوں کے اسماء اوران سے جنم لینے والوں کے اسما بھی تفصیل سے مذکو رہیں ۔
٭ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے متعلق صحیح حدیث میں ہے :قال رسول اللهﷺ:قال سليمان لأطوفنّ الليلة علی تسعين امرأة ... الخ۔اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کی نناوے بیویاں تھیں۔( بائبل، سلاطین اوّل، باب نمبر 11، آیت نمبر 3، صفحہ 340)
جب کہ بائبل کتاب سلاطین، اوّل میں ہے ـ ''سلیمان ان ہی کے عشق کا دَم بھرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اورتین سو حرمیں تھیں...الخ''(16: بائبل، خروج، باب نمبر ۲، آیت نمبر 21ص 257)
٭ ان کے علاوہ سیدنا موسی علیہ السلام بھی ہیں۔ جن کی شریعت کی اتباع کا دعو یٰ یہود ونصاری کرتے ہیں۔ بائبل میں ان کی دو شادیوں کا واضح ذکر ہے، کتابِ خروج میں ہے: ''اورموسیٰ اس شخص کے ساتھ رہنے کو راضی ہوگیا، تب اُسنے اپنی بیٹی صفورہ موسیٰ کو بیاہ دی۔(بائبل، گنتی، باب نمبر 12، آیت نمبر1، ص137)
ہندؤوں کے ہاں کثرتِ ازواج:
٭ خودہندوؤں کی تاریخ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کے بعض سرکردہ راجے اپنے حرم میں دو دو بہنوں کو شامل کیے رکھتے تھے، سری کرشن جی مہاراج کے عہد کے معروف راجہ 'کنسن' نے راجہ 'جرا سندہ'کی دو بہنوں سے شادی کی اور اسی شادی کی وجہ سے راجہ کنس کی حمایت میں جراسندہ نے جنگ بھی کی۔
٭ ہندو جو آج کل صرف ایک بیوی کے قائل ہیں،اپنے مذہبی پیشرؤوں کے بارے میں واضح کیوں نہیں کرتے کہ وہ کثرتِ ازواج کے قائل وفاعل تھے، ملاحظہ فرمائیے رام چندر جی کے والد کا قصہ : ''سری رام چندر جی کے والد راجہ وسرتھ کی تین بیویاں تھیں: نمبر۱، رانی کو شیلیا جو
سری رام چندر جی کی والدہ تھیں۔ نمبر۲،رانی سمترا جو سری لچھمن کی والدہ تھیں۔ نمبر۳، رانی کیکئی جو بھرت جی کی والدہ تھیں۔
نیز سری کرشن جی مہاراج جن کی بڑی عقیدت ہے ـ۔ان کے بارے میں دیکھئے : ''سری کرشن جی کی اٹھارہ بیویاں تھیں اور راجہ پانڈو کی دو بیویاں تھیں ۔(عبدالعلیم ماہر، سیرتِ نبوی کا ازدواجی پہلو، ماہنامہ السراج، جھنڈا نگر نیپال، 1992ء، جلد3، شمارہ3، ص2)
ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عالی مرتبت انبیا اور بانیانِ مذاہب اور بڑے لوگ کثرتِ ازدواج پرکار بند رہے اور اس امر کی شہادت قرآن، حدیث اور بائبل میں تفصیل کے ساتھ ملتی ہے ـ۔ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنا نہ تو فطرتِ انسانی کے خلاف ہے اورنہ ایسا عمل ہے جس کی نظیر گزشتہ اقوام میں نہ ملتی ہو بلکہ مختلف مذاہب کو ماننے والی اقوام ایک سے زیادہ شادیاں کرتی رہی ہیں۔
تفریط کی بعض دیگر صورتیں:
مزید برآں تاریخ ِعالم کے مطالعہ سے عیاں ہوتا ہے کہ جاہل قوموں نے دیگر مذہبی اور معاشرتی معاملات کی طرح تعددِ ازواج کے معاملے میں بھی افراط وتفریط سے کام لیا۔
ہندوؤں کی معتبر مذہبی کتاب مہا بھارت ہے، جس میں کوروں او رپانڈوں کی لڑائی کا ذکر ہے، جس میں کرشن جی مہاراج نے پانڈوں کا ساتھ دیا، کیونکہ یہ مظلوم تھے۔ یہ پانچ بھائی تھے، جن کی ایک مشترکہ بیوی تھی جس کانا م 'دروپدی 'تھا جسے کورے اُٹھا کر لے گئے تھے، یہ پانڈے مشترکہ بیوی رکھنے والے ہندؤوں کے ہیرو ہیںـ۔مشترکہ بیوی رکھنے کا تصور کتنا بے ہودہ ہے ؟اور یہ ہندو مت ہی میں قابل قبول ہوسکتا ہے، مگر تعد دِ ازواج پر آج کل خواہ مخواہ اعتراض کیا جاتا ہے ۔
جبکہ عرب دورِ جاہلیت میں اس فطری قانون میں دو طرح کی تبدیلیاں کرچکے تھے :
1:انہوں نے بیویوں کی کثرت کی کوئی حد مقرر نہ کی تھی۔
2:ایک شوہر جس طرح کثرت سے بیویاں رکھتا تھا، اسی طرح بعض اوقات ایک بے حیا عورت اپنے کئی 'بعول'رکھتی تھی۔ محمد حنیف ندویؒ لکھتے ہیں : ''اسلام سے پہلے کثرتِ بعول اورکثرتِ ازواج کی بلا تعیین اجازت تھی یعنی مرد جس قدر چاہتے عورتیں نکاح میں رکھتے اور اسی طرح عورتیں جس قدر چاہتیں، خاوند بنالیتیں۔ (محمد حنیف ندوی، سراج البیان فی تفسیر القرآن ، ملک سراج دین پبلشرز، لاہور، ج اوّل، ص182، زیر آیت 3/4نساء)
حاصل کلام یہ ہے کہ
ا ۔ تعددازواج کا ثبوت تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے لے کر بعثت ِخاتم النّبیین ا تک تسلسل سے ملتا ہے۔
ب۔ تعدد ازواج کا ثبوت اسلام کے علاوہ دیگر اَدیان کی تاریخ سے بھی ثابت ہے۔
ج۔ جاہل اقوام نے اسلام سے قبل اس اجازت کو افراط وتفریط کا شکار بنا رکھا تھا۔
د۔ شریعت ِمحمدی نے تعدد ازواج کامسئلہ نئے سرے سے پیش نہیں کیا۔
ھ۔ ہماری شریعت میں اسے صرف معتدل اوربہترین Reliefکرتے ہوئے پیش کیا گیا ہے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں :کان الرجل في الجاهلية يتزوج العشرة فما دون ذلك فأحل الله جل ثناءہ أربعا ثم الذي يصير إلی أربع۔آدمی جاہلیت میں دس یا کم وبیش عورتوں سے شادی کرتا۔ اللہ نے چار حلال برقرار رکھیں پھر اس پر ان کو چلادیا ۔(القرطبی، تفسیر الجامع لاحکام القرآن، طبع ندارد، المجلد الخامس، ص17 زیر آیت 4/3)
تعددِ ازواج کی حکمتیں:
اہل مغرب، یورپ اور ان جیسی تہذیب رکھنے والے ممالک جنسی اِباحیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہاں صنفی خواہش اور تلذذ کو بھڑکانے والے محرکات و عوامل کو دن بدن پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اپنے شوہر یا بیوی کے علاوہ دیگر خواتین و حضرات سے بھی ناجائز تعلق رکھنا نہ صرف عام ہے بلکہ اب کوئی معیوب امر بھی نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ بیوی کی موجودگی میں کوئی داشتہ سے نکاح کرے تو اسے بہت معیوب سمجھتے ہیں۔قانونی تعدد اَزواج کو برا خیال کیا جاتا ہے جبکہ غیر قانونی تعددِ ازواج کا عام رواج ہے۔
ان ممالک کے لوگ بچوں کو پالنا مصیبت سمجھتے ہیں کیونکہ بچے ان کی زندگی کی رنگینیاں غارت کردیتے ہیں۔ لہٰذا ایک تو ان ممالک میں قلت ِاولاد اور آبادی میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ دوسرا اگر بچے ہیں بھی تو ان میں حرامی بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مزید برآں ناجائز بچوں اور کنواری مائوں کی تعداد میں مسلسل ہو شربا اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجۃً وہاں نسب نامے گم ہو رہے ہیں، خاندان سکڑ چکے ہیں۔ جنسی درندے تمام اخلاقیات کو پامال کرکے تہذیب و تمدن کا بیڑاغرق کر رہے ہیں۔ ناجائز بچے جن کا کوئی وارث اور ذمہ داری قبول کرنے کو کوئی تیار نہیں ہوتا، وہ معاشرے میں مزید آزادی سے گند ڈال رہے ہیں۔ یہ ایک اور خطرناک صورتحال ہے۔
ضرورت تو یہ تھی کہ سنجیدہ لوگ اس گندگی کی صفائی کا کچھ بندوبست کرتے، لیکن اہل مغرب نے مزید ڈھٹائی کامظاہر کرتے ہوئے اپنے اس معاشرتی عکس کو روشن خیالی، جدت پسندی اور ترقی کا نام دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ باقی دنیا بھی ان ہی کی طرح ہوجائے۔ تاکہ اس دنیا کے حمام میں سب ہی ننگے اور نکٹے ہوں اور کوئی بھی ان کی طرف انگلی اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔ خصوصاً اسلامی تہذیب اور مسلمان تو انہیں بہت ہی کھٹکتے ہیں کیونکہ اسلام حیا کا سبق سکھاتا ہے۔ غیر محرم سے تعلقات کو زنا اور گناہِ کبیرہ شمار کرتا ہے۔ نیز مسلمان بچوں سے نفرت بھی نہیں کرتے اور اسلام اس شخص کو جسے تسکین کے لئے ایک بیوی کافی نہ ہو، دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی کرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ تاکہ معاشرے میں ناجائز تعلقات پیدا کرنے کا جواز ہی باقی نہ رہے۔ بلکہ اگر کبھی جنگ وغیرہ کے نتیجے میں مردوں کی تعداد کم ہوجائے تو یتیموں اور بیوائوں کو اس اجازت کے ذریعے معقول سہارا مل سکے یا اس کے علاوہ بھی ملک و قوم کی جب بھی خدمت کے لئے، اس جواز کی ضرورت ہو، اسے استعمال میں لایا جائے۔
تعددِ ازواج کی اجازت کے اسلامی اصول سے دنیا کے کافر بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ اب وحدتِ زوج اور قلت ِاولاد کا اصول اپنا چکے ہیں۔ جبکہ تعددِ ازواج سے مسلمان کثرت سے اور تیزی سے اپنی نسل کو بڑھا سکیں گے۔ ان کو خطرہ ہے کہ اگر مسلمان کی آبادی بڑھنے کی یہی صورتحال رہی یا اس سے بھی تیز ہوگئی تو کہیں ہم اقلیت اور مسلمان دنیا کی اکثریت نہ بن جائیں۔ بغیر کسی جنگ و انقلاب کے مسلمان دنیا پرچھا جائیں گے۔ بلکہ بقول محمد حنیف ندوی ''اگر صرف ہندوستان کے مسلمان تعددِ ازواج کے اصول کو اپنا لیں تو بغیر کسی خاص محنت کے صرف پچاس برس میں وہ ہندوستان کی اکثریت میں تبدیل ہوجائیں گے۔''... اور یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ جو مسلمان زنا سے بچیں اور کردار و ایمان کی حفاظت کریں، دنیا کے کافروں کو خطرہ بھی ان ہی سے ہے۔
دنیا کے کافر لوگ چاہتے ہیں کہ ان خطرات کا سدباب ہو۔ اہل اسلام میں بھی فحاشی پھیلے، ان کو بچے کم پیدا کرنے کی ترغیب دو۔ اسی شرط کے ساتھ امداد دو۔ اسی ضمن میں وہ تعدد ازواج کے قانون کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ کھلم کھلا اس کے خلاف بولتے ہیں۔ منکرین حدیث اور نام نہاد حقوقِ انسانی کے ڈھنڈورچی اس معاملے میں پیش پیش ہیں۔ انہوں نے ناپاک جسارت کرتے ہوئے اسے اسلام سے خارج کرنے کی مذموم کوشش کی... حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ چار بیویوں کی اجازت اٹل ہے۔ جب سے انسان دنیا پر آئے ہیں، آج تک نسل انسانی اس پر عمل پیرا ہے۔ مذاہب ِعالم کی مقدس کتب اپنے پیغمبروں اور مقدس ہستیوں کے بارے میں ناقل ہیں کہ وہ اس پر کاربند رہے۔ خود رسول اللہ ﷺنے اس پر عمل کیا۔ قرآن و حدیث نے اہل ایمان کو چار بیویوں کی اجازت دی ہے۔ اور تمام اُمت کا آج تک اس جواز پر اجماع رہا ہے۔ خلفائے راشدین مرتے دم تک اس پر عامل رہے۔
یہ اجازت ضروری ہے تاکہ مغلوب الشھوة نہ زنا کرے اور نہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کو پامال کرے تاکہ ہمارا معاشرہ ان قباحتوں سے محفوظ رہ سکے جو اہل کفر کو درپیش ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اجازت کو بخوشی نہ صرف قبول کیا جائے بلکہ عامل کے لئے حائل مشکلات کا ازالہ ہو اور اسلام نے جن شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے، ان شرائط کے ساتھ اس کو رواج بھی دیا جائے خصوصاً وہ ممالک جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہ بچے زیادہ پیدا کریں اور تعددِ ازواج کے اُصول پر ضرور عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ سب کی عصمت کا محافظ ہو۔ آمین !
