سننے کا ہنر

    ابو امیر خسررسیّد باسق رضا

    سیکھنے کے بے شمار طریقوں میں سے ایک بہترین اور مؤثر طریقہ سننا ہے، جو کہ ہر کسی کے بس کا نہیں۔

    بنیادی طور پر جب ہمیں کسی بھی موضوع کی معیاری اور گہری سمجھ حاصل کرنی ہو تو ہم کسی معیاری شخص کا کلام سننا ضروری سمجھتے ہیں، لیکن یہ اصول عام طور پر مبتدی افراد کے لیے ہوتا ہے۔

    جب ایک شخص علم و فہم کی ایک خاص سطح پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اسے صحیح اور غلط کا فرق واضح طور پر معلوم ہو، تو وہ غیر معیاری افراد کے کلام سے بھی قیمتی اور معیاری باتیں حاصل کر سکتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر معیاری فرد سے معیاری باتیں کیسے حاصل کی جائیں؟

    اس کا حل بڑا ہی آسان ہے؛ آپ اس سے کسی بھی مسئلے کے بارے میں پوچھیں، اور پورے اطمینان اور توجہ سے اس کی بات سنیں۔ چونکہ آپ مبتدی نہیں ہیں، آپ کو غلط اور صحیح کا فرق معلوم ہے، اس لیے اس کی غلط باتوں کو ٹوکنے کے بجائے اسے اپنی بات مکمل کرنے دیں۔ یہ حکمت عملی بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ جب وہ اپنی بات مکمل کر لے گا تو آپ غور کریں گے کہ اس کی گفتگو سے آپ کو کئی ایسی باتیں ملیں گی جو یا تو آپ کی معلومات میں نہیں تھیں یا جن پر آپ کی توجہ نہیں تھی۔

    یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو بڑے بڑے اساتذہ اپنے شاگردوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ جب وہ اپنے طالب علموں سے سبق سنتے ہیں تو انہیں دورانِ سبق ٹوکنے کے بجائے بات مکمل کرنے دیتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی غلطیاں بتاتے ہیں، جس سے طالب علم کی تصحیح بھی ہو جاتی ہے اور دورانِ گفتگو تسلسل بھی نہیں ٹوٹتا۔

    تسلسل کا نہ ٹوٹنا دراصل ہمت اور حوصلے کی دلیل ہے۔ جب کوئی شخص اپنی بات تسلسل سے کہتا ہے اور اسے کوئی ٹوکتا نہیں، تو اس میں مزید حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ انسان کو اللہ نے ایسی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے کہ جب تک وہ انہیں ظاہر نہیں کرتا، اسے خود بھی اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کا علم نہیں ہوتا۔

    جو شخص سننے کا ماہر ہے، وہ خود بھی اس اصول سے فائدہ اٹھاتا ہے، اور جب وہ سنی ہوئی باتیں درست انداز میں کہنے والے کو واپس بتاتا ہے تو اسے بھی اپنی باتوں کا فائدہ ہوتا ہے۔