شریعت، عمل اور طریقت کا باہمی ربط بزبان سیدی اعلٰی حضرت عظیم المرتبت

    محمد زوہیب رضا قادری

    28 شوال المکرم 1445ھ، 08 مئی 2024ء

    اے عزیز ! شریعت عمارت ہے اور اس کا اعتقاد بنیاد اور عمل چنائی، پھر اعمالِ ظاہر وہ دیوار ہیں کہ اس بنیاد پر ہوا میں چنے گئے، اور جب تعمیر اوپر بڑھ کر آۤسمان تک پہنچی وہ طریقت ہے۔ دیوار جتنی اونچی ہوگی نیو (بنیاد) کی زیادہ محتاج ہوگی اور نہ صرف نیو کی بلکہ اعلٰی حصہ اسفل کا بھی محتاج ہے۔ اگر دیوار نیچے سے خالی کردی جائے اوپر سے بھی گر پڑے گی، احمق وہ کہ جس پر شیطان نے نظر بندی کرکے اس کی چنائی آسمانوں تک دکھائی اور دل میں ڈالا کہ اب ہم توزمین کے دائرے سے اونچے گزر گئے ہمیں اس سے تعلق کی کیا حاجت ہے۔ نیو سے دیوار جدا کرلی اور نتیجہ وہ ہوا جو قرآن مجیدنے فرمایا کہ فانھار بہٖ فی نارجہنم کہ اس کی عمارت اسے لے کر جہنم میں ڈھے پڑی، والعیاذ باﷲ رب العالمین اسی لئے اولیائے کرام فرماتے ہیں صوفی جاہل شیطان کا مسخرہ ہے۔ اسی لئے حدیث میں آیا حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد، رواہ الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔ ایک فقیہ شیطان پرہزاروں عابدوں سے زیادہ بھاری ہے، بے علم مجاہدہ والوں کو شیطان انگلیوں پر نچاتا ہے منہ میں لگام، ناک میں نکیل ڈال کر جدھر چاہے کھینچے پھرتاہے وہم یحسبون انھم یحسنون صنعا۔ اور وہ اپنے جی میں سمجھتے ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں۔

    شریعت، عمل اور طریقت کا باہمی ربط بزبان سیدی اعلٰی حضرت عظیم - Darul Ifta Saylani