شان مولائے کائنات جناب علی المرتضیٰ بزبان سیدی اعلیٰ حضرت

    محمد زوہیب رضا

    13 رجب المرجب 1445ھ، بمطابق 25 جنوری 2024ء

    واللہ العظیم اگر ہزار دفتر اس جناب (علی پاک) کے شرح فضائل میں لکھے جائیں یکے از ہزار تحریر میں نہ آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے مواخات کی ، علونسب و شرافت صہر میں سب سے برتری ملی، جہادسنانی و لشکر شکنی تھی کہ قوت الہی کا نمونہ، روئے انور کی تاب و تجلی تھی کہ عارض ایمان کا گلونہ، تلوار تھی یا چہرہ اسلام کی ڈھال اور بازو تھے کہ زور نبوی کی تمثال .... الخ

    پھر فرماتے ہیں:

    وہ کون تھا جسے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک لشکر میں بھیجا، جب وہ پیارا محبوب روانہ ہوا، محبت مصطفوی نے جوش فرمایا، حضور اقدس ﷺ نے دونوں ہاتھ بلند فرما کر دعا کی اللهم لا تمتنى حتى ترينی علیا! الہی مجھے دنیا سے نہ اٹھانا جب تک علی کو نہ دیکھ لوں ہاں وہ علی ہے محبوب خدا و مطلوب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔

    ہاں وہ کون ہے جسے معراج کے جانے والے عرش پر قدم رکھنے والے نے حکم دیا: میرے کندھوں پر چڑھ کر سقف کعبہ سے بت گرادے! اور جب وہ بلند اختر چڑھا، اپنے کو ایسے مقام رفیع پر پایا کہ فرماتا ہے: " انه ليخـيـل الـى انـي لو شئت لنت افق السماء " مجھے خیال آتا تھا اگر چاہوں آسمان کا کنارہ چھولوں ۔ ہاں وہ علی ہے بالا منزلت والا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم۔

    ہاں وہ کون ہے جسے رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک میں ساتھ نہ لے گئے۔ عرض کیا حضور مجھے عورتوں بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں ! ارشاد ہوا: کیا تو راضی نہیں تو مجھ سے بمنزلہ ہارون کے ہوموسی سے، مگر میرے بعد نبی نہیں ۔ ہاں وہ علی ہے، برادر احمد ، خلیفہ امجد رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

    ہاں وہ کون ہے کہ روز خیبر مصطفی ﷺ نے فرمایا: کل یہ نشان اسے دوں گا جس کے ہاتھ پر فتح ہوگی ، خدا اور رسول اسے پیارے اور وہ خدا اور رسول کا پیارا ۔ رات بھر لوگوں میں چر چا رہا دیکھئے کسے عطا ہو! صبح حضور نے اس فتح نصیب کو بلا کر نشان عطا کیا۔ ہاں وہ علی ہے، جرز اسلام و شیر ضر غام رضی اللہ تعالٰی عنہ

    ہاں وہ کون ہے کہ جب مصطفی ﷺ نے اپنے اصحاب کرام سے مواخات کی وہ مصطفی کا پیارا روتا آیا کہ مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا حضور نے ارشاد فرمایا: انت اخی فی الدنيا والآخرة ۔ تو تو میرا بھائی ہے دنیا و آخرت میں ۔ ہاں وہ علی ہے آفتاب مکارم ماہتاب بنی ہاشم رضی اللہ عنہ

    يك چند بمداحی او دل بستیم عمری قدم اشهب خامه خستیم

    دیدیم رضا حوصله فرسا کاری است کاغذ بدریدیم و قلم بشکستیم

    ہم انکی تھوڑی سی تعریف کرنے پر پھولے نہیں سماتے حالاں کہ ہم تو انکے گھوڑے کے قدموں کی خاک کی تعریف بیان کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ بس اے رضا ہم نے دیکھ لیا کہ یہ حوصلہ فرسا کام ہے اسی لئے ہم نے کاغذ پھاڑ دیا اور قلم توڑ دیا۔

    (مطلع القمرين في ابانة سبقة العمرين، تبصره سابعه، متفرق مقامات)