محمد زوہیب رضاقادری
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر متعہ سے پیدا ھونے کا الزام شیعوں نے یہ بھی ہرزہ سرائی کی ھے کے معاذاللہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ متعہ سے پیدا ہوئے حالانکہ یہ دعوی سراسر لغو کذب و افترا باطل و مردود و بہتان ہے۔
نیز صحابہ سے انتہائی بغض وعناد اور کتب تاریخ سے نا علم ھونے کی بین دلیل ھے اس لغو الزام کی تردید کرنے کی ضرورت تو نا تھی تاہم تاریخی طور پر ھم اس کو ثابت کرتے ھیں کے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حواری رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند اور حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے لخت جگر ( شیعہ متعہ زادوں کی طرح ) متعہ کی پیداوار نہیں بلکہ صیح اور جائز نکاح سے پیدا ہوئے ہیں،
چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے حالات کے ضمن میں لکھتے ہیں:
حضرت اسماء رضی اللہ عنہ مکہ میں ابتدا میں ھی حلقہ بگوش اسلام ھو گئی تھیں اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کیا تھا اور جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے مدنیۃ
الرسول کی ہجرت کی تو اس وقت حاملہ تھیں چنانچہ جب مدینہ کے قریب پہنچی تو وہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ھوے -(اصابہ جلد 4 ص 335 )
ابن سعد حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے تزکرہ میں لکھتے ہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے حضرت زبیر بن عوام نے نکاح کیا ان سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے،سعد لکھتے ہیں
تزوجها الزبير بن العوام بن خويلد بن أسد بن عبد العزى بن قصي فولدت له عبد الله.حضرت اسماء سے حضرت زبیر بن عوام نے نکاح کیا ۔ ان سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے۔(الطبقات الکبرٰی)
تقریب التہذیب میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب ہجرت مدینہ کی تو اس وقت حمل کی حالت مین تھیں فرماتی ھیں کے جب مقام قباء پہنچی تو عبداللہ پیدا ھوے اسے گود میں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اپنےآغوش مبارک میں لے لیا ایک کھجور اپنے دہن مبارک میں ڈال کر چبائی اور پھر اسے اپنے لعاب دہن کے ساتھ ملا کر ننھے عبداللہ کے منہ مین ڈال دیا پہلے چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں گئی وہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا آپ نے دو مرتبہ گڑتی دی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے لیے دعائے خیرو برکت مانگی ہجرت مدینہ کے بعد سب سے پہلے مولود فی الاسلام حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے-(تقریب التہذیب جلد 2 ص 589)
حافط ابن کثیر البدایہ و النہایہ میں فرماتے ھیں کہ جب حضرت اسماء رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گیئں تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں طلاق دے دی تھی- الغرض اس سے معلوم ہوا کے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح ھو تھا کیونکہ طلاق تنسیخ نکاح کے لوازمات میں سے ھے زن متموعہ کی علیحدگی کے لیے طلاق کی ضرورت ھی نہیں کیونکہ انقطاع میعاد ھی طلاق سمجھی جاتی ھے -(البدایہ و النہایہ ص 34 جلد 5)
اور رافضیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ انکی فقہ میں متعہ میں طلاق نہیں ہوتی۔
محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد بن عيسى عن الحسين سعيد ومحمد بن خالد البرقي عن القاسم بن عروة عن عبد الحميد عن محمد بن مسلم عن أبي جعفر (ع) في المتعة قال : ليست من الأربع لأنها لا تطلق ولا ترث وإنما هي مستأجرة۔ترجمہ:امام باقر سے متعہ کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ممتوعہ چار میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے لئے طلاق نہیں ہے نہ وہ خاوند سے میراث کی مستحق ہے بلکہ وہ مستاجرہ ہے، یعنی کرایہ کی عورت ہے(استبصار ج ۳ ص ١۴۷)
اور ہمیں معلوم ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء کو بعد میں طلاق دی تھی۔
أن الزبير طلق أسماء فأخذ عروة وهو يومئذ صغير
حضرت زبیررضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہ کو طلاق دے دی۔ اور عروہ جو ابھی بچے تھے، انہیں زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس رکھ لیا۔
(الطبقات الكبرى)
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی دیگر اولاد: حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو اللہ نے 5 بیٹے اور 3 بیٹاں عطا کیں کی تھیں مگر تعجب کی بات یہ ھے کے شیعہ رافضیوں نے نے صرف حضرت عبداللہ پر متعہ سے اولاد ھونے کا بے بنیاد الزام لگایا –یاللعجب
